ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مرکز کی اسکالر شپ اسکیم کا جھارکھنڈ کے اقلیتی طلبہ کو نہیں ہوا خاطر خواہ فائدہ ، یونائیٹڈ ملی فورم نے اس اسکیم کو ایک چھلاوا سےکیا تعبیر

وزارت اقلیتی امور کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ چھ سالوں میں ملک کے چار کروڑ اقلیتی طلبہ کو اس اسکیم کا فائدہ فراہم کیا گیا ہے اور اس کے تحت 9223 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ۔

  • Share this:
مرکز کی اسکالر شپ اسکیم کا جھارکھنڈ کے اقلیتی طلبہ کو نہیں ہوا خاطر خواہ فائدہ ، یونائیٹڈ ملی فورم نے اس اسکیم کو ایک چھلاوا سےکیا تعبیر
مرکز کی اسکالر شپ اسکیم کا جھارکھنڈ کے اقلیتی طلبہ کو نہیں ہوا خاطر خواہ فائدہ ، یونائیٹڈ ملی فورم نے اس اسکیم کو ایک چھلاوا سےکیا تعبیر

اقلیتی طلبہ کی تعلیمی ترقی کے لئے مرکزی حکومت کے ذریعہ چلائی جا رہی اسکالر شپ کے تعلق سے مرکزی وزارت اقلیتی امور کے دعوے منظر عام پر آنے کے بعد جھارکھنڈ میں شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے ۔ وزارت اقلیتی امور کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ چھ سالوں میں ملک کے چار کروڑ اقلیتی طلبہ کو اس اسکیم کا فائدہ فراہم کیا گیا ہے اور اس کے تحت 9223 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ۔ وزارت کے ذریعہ مزید کہا گیا ہے کہ سال 2019-20 میں اسکالر شپ کے مد میں 2204 کروڑ روپے خرچ کرنے اور ملک کے 68 لاکھ 21 ہزار سے زائد اقلیتی طلبہ کو اسکالر شپ دینے کی بات کہی گئی ہے ، جس میں ریاست جھارکھنڈ کے ایک لاکھ سے زائد اقلیتی طلبہ بھی شامل ہیں ۔


مرکزی وزارت اقلیتی امور کے اس دعوے کے منظر عام پر آنے کے بعد جھارکھنڈ میں شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے ۔ جھارکھنڈ کے وزیر پارلیمانی امور عالمگیر عالم نے کہا کہ ریاست کے مختلف علاقوں سے اکثر یہ بات سننے میں آتی ہے کہ بیشتر اقلیتی طلبہ کو مرکز کے اسکالر شپ کا فائدہ نہیں ملا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں بیان دینا آسان ہے ۔ عالمگیر عالم نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت ریاست کو اسکالر شپ کے مد میں رقم بھیج رہی ہے ، تو انہیں پوری تفصیل کے ساتھ ریاستی محکمہ فلاح کو ایک خط بھی بھیجنا چاہئے ۔


وہیں جھارکھنڈ کانگریس کے نائب صدر اور جامتاڑا اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی ڈاکٹر عرفان انصاری نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا ہے کہ مرکزی وزارت اقلیتی امور کے دعوے میں صداقت ہے ۔ عرفان انصاری نے کہا کہ اس تعلق سے وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے ہوا میں یہ دعویٰ کیا ہوگا ۔ عرفان انصاری نے مزید کہا کہ مختار عباس نقوی جھارکھنڈ سے راجیہ سبھا رکن ہیں اور ساتھ ہی مرکزی وزیر بھی ہیں ۔ ایسے میں ریاست کی اقلیتی آبادی کی ان سے کافی امیدیں وابستہ ہیں ، لیکن اب تک ان کی جانب سے کوئی بھی خصوصی قدم نہیں اٹھائے گئے ہیں ۔


وہیں دوسری جانب یونائیٹڈ ملی فورم جھارکھنڈ کے جنرل سیکریٹری افضل انیس نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ اقلیتی طلبہ کے لئے چلائی جا رہی اسکالر شپ اسکیم جھارکھنڈ میں چھلاوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2018-19 میں اس اسکیم کا ریاست کی نصف فیصد اقلیتی طلبہ کو فائدہ حاصل نہیں ہوا ۔ وہیں سال 2019-20 میں جھارکھنڈ اسٹیٹ اقلیتی مالیاتی و ترقیاتی کارپوریشن کے ذریعہ تعلیمی اداروں کو نئے یوزر پاس ورڈ حاصل کر نے کے تعلق سے جاری فرمان کی وجہ کر تعلیمی اداروں کے منتظمین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، جس وجہ کر کئی منتظمین نے پاس ورڈ حاصل ہی نہیں کیا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسکالر شپ کے لئے آن لائن فارم بھرنے والے طلبہ کے فارم کا ویریفیکیشن ہی نہیں ہوا ۔ ایسے میں بڑی تعداد میں طلبہ اسکالر شپ سے محروم رہ گئے ۔ افضل انیس نے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس اسکیم کے نفاذ کے لئے ڈی ایس ای اور ڈی ای او کو جوڑا جائے ۔ تاکہ وقت پر بچوں کو اسکا فائدہ حاصل ہو سکے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 22, 2020 08:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading