உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جمہوری و دستوری قدروں کو استحکام بخش کر ہی ملک کے حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے

    جمہوری اور دستوری قدروں کو استحکام بخش کر ہی ملک کے حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے اتفاق ق اتحاد کی فضا کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔

    جمہوری اور دستوری قدروں کو استحکام بخش کر ہی ملک کے حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے اتفاق ق اتحاد کی فضا کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔

    جمہوری اور دستوری قدروں کو استحکام بخش کر ہی ملک کے حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے اتفاق ق اتحاد کی فضا کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Uttar Pradesh, India
    • Share this:
    علم و ادب کے اہم مرکز لکھنؤ میں جمعیۃ العلماء کی جانب سے مختلف مذاہب کے مابین بڑھتے فاصلے کم کرنے غلط فہمیاں دور کرنے اور ہندوستان کی گنگا جمنی مشترکہ تہذیب کو بچانے نیز اسے فروغ دینے کے لئے دھرم سنسد کا انعقاد عمل میں آیا۔ پریس کلب میں منعقدہ اس اہم سنسد میں مختلف مذاہب کے اہم رہنماؤں اور دانشوروں نے شرکت کی اور اتحاد پر مبنی ہندوستان کی قدیم اور مستحکم روایتوں کی پاسداری اور ان کے استحکام کے لئے آواز بلند کی ، یوں تو بظاہر معروف دانشور قدوس ہاشمی کی شب و روز کی محنت سے دھرم سنسد کامیاب رہا لیکن اس کے پس منظر میں جمعیۃ العلماء لکھنئو کے صدر معروف سماجی و ملی خدمت گار سید وزین احمد کی خاموش خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سید وزین احمد گزشتہ نصف صدی سے ایسی کوششیں کررہے ہیں جن کے کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری مشترکہ تہذیب اور اتفاق و اتحاد کی فضا کو بنانے اور بچانے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا ہے اس دھرم سنسد میں مولانا عارف میاں نقشبندی، پنڈت اتم شرما، سردار راجندر سنگھ بگا مولانا ارشد ندوی ، سابق ضلع جج بی ڈی نقوی اور مولانا کوثر ندوی سمیت اہم مقررین نے خطاب کیا، اس دھرم سنسد کی خاص بات یہ رہی کہ سبھی مذہبی رہنماؤں نے ملک کو جوڑنے اور ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرنے پر زور دیا۔

    موجودہ وقت میں مذہبی منافرت پھیلانے اور انسانوں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے والے عناصر کی مذمت کی گئی ، نفرت کی دیواریں توڑو ہندو مسلم سب کو جوڑو، سرو دھرم سمان بھارت کا سنویدھان جیسے نعرے بلند کیے گئے اور لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ محبت بھائی چارے اتفاق واتحاد اور قومی یکجہتی میں مکمل اور اٹوٹ یقین رکھیں کچھ سیاسی اور شر پسند عناصر اپنے ذاتی مفاد کے حصول کے لیے فضا اور ماحول کو مکدر کرنے کی کوششیں کررہےہیں اور کرتے رہیں گے لیکن ہمیں مل جل کر رہنا ہے اور نفرتوں کا جواب بھی محبتوں سے دینا ہے۔

    اگر اس انداز کی کوششیں ہر قصبے اور ہر شہر میں کی جائیں تو یقینی طور پر بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ ساتھ ہی مذکورہ دھرم سنسد میں شرکاء کی جانب سے اہم تجاویز بھی پیش کی گئیں اور ان تجاویز پر غور و خوص کے بعد ایک قرار داد بھی منظور کی گئی ۔علماء کرام نے تو اتفاق و اتحاد اور حب الوطنی کی بات کی ہی ساتھ ہی دیگر مذاہب کے رہنماؤں نے بھی واضح طور پر کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے یہ نفرت سے نہیں صرف محبت سے چل سکتا ہےاور ہم سب لوگوں کو اسی پس منظر میں اہم کوششیں کرنی ہیں۔

    مسلم شخص محمد نثار نے اپنایا سناتن دھرم، ویدک رسم و رواج سے پھر سے کی شادی، بتائی یہ وجہ

    خلا میں ممکن نہیں جسمانی تعلقات قائم کرنا! پھر کیوں ہو رہی ہے خلاباز کے حاملہ ہونے کی بات

    اس موقع پر جمعیۃ سدبھاؤنا منچ کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا کہ مختلف شہروں کے چوراہوں پر نکڑ سبھاوں کا انعقاد ، دیش سماج اور جنتا کی سیوا، غریبوں لاچاروں کی مدد، انسانیت کے پیغامات کی ترسیل، سدبھاونا یاتراوں کا منظم کیا جانا اور فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف آئین ودستور کے مطابق آواز بلند کرتے رہنا ہی ہمارا مقصد رہے گا اور یہ سارے کام اور تحریکات اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ہر مذہب ہر دھرم اور ہر طبقے کا آدمی سکون اور عزت کے ساتھ خوشگوار زندگی نہ بسر کرنے لگے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: