ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

لڑکی کی شادی میں باراتیوں کو کھانا نہیں کھلانے کا بڑا فیصلہ

شادی کے موقع پر ہونے والی فضول خرچی کو روکنے کے لئے سماج میں باتیں تو بہت ہوتی ہے لیکن اصلاحی قدم اٹھانے کا حوصلہ کسی میں نہیں ہوتا ہے۔ جماعت قریشیان کمیٹی نے نہ صرف اس سمت میں قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا بلکہ لڑکی کی شادی میں ہر قسم کے کھانے پر پابندی لگانے کا احکام جاری کردیاہے۔

  • Share this:
لڑکی کی شادی میں باراتیوں کو کھانا نہیں کھلانے کا بڑا فیصلہ
شادی کے موقع پر ہونے والی فضول خرچی کو روکنے کے لئے سماج میں باتیں تو بہت ہوتی ہے لیکن اصلاحی قدم اٹھانے کا حوصلہ کسی میں نہیں ہوتا ہے۔ جماعت قریشیان کمیٹی نے نہ صرف اس سمت میں قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا بلکہ لڑکی کی شادی میں ہر قسم کے کھانے پر پابندی لگانے کا احکام جاری کردیاہے۔

شادی کے موقع پر ہونے والی فضول خرچی کو روکنے کے لئے سماج میں باتیں تو بہت ہوتی ہے لیکن اصلاحی قدم اٹھانے کا حوصلہ کسی میں نہیں ہوتا ہے۔ جماعت قریشیان کمیٹی نے نہ صرف اس سمت میں قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا بلکہ لڑکی کی شادی میں ہر قسم کے کھانے پر پابندی لگانے کا احکام جاری کردیاہے۔ اجین میں منعقدہ جماعت قریشیان کمیٹی کے اراکین کی میٹنگ کا انعقاد کیاگیا ۔ میٹنگ میں شادی کے موقع پر ہونے والی فضول خرچی کو روکنے کا موِضوع ہی زیر بحث رہا۔ کمیٹی نے اتفاق رائے سے شادی بیاہ کے موقع پر ہونے والی فضول خرچی کو روکنے کے لئے سات نکات پر مبنی  قرار دی منظور کی گئی۔

پنچایت کی پہلی قرار داد میں لڑکی کے نکاح کے دن لڑکی والوں کی جانب سے کسی قسم کا کھانہ نہیں دینے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ یہی نہیں کمیٹی نے یہ بھی طے کیا ہے کہ بارات میں آنے والوں کی ضیافت صرف چائے،شربت یا آئیس کریم میں سے کسی ایک ہی کی جا سکے گی۔ قرار داد نمبر دو میں لڑکی کے نکاح کے دن  گیارہویں شریف کی نیاز یا کسی دوسری قسم کی نیاز یا عقیقہ وغیرہ کے کھانے پربھی پابندی لگائی گئی ہے۔


کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اگر کسی شخص کے یہاں لڑکا اور لڑکی دونوں ہیں تو پہلے وہ لڑکی کے نکاح کا انتظام کرےگا اس کے بعد وہ لڑکے کے نکاح کی تقریب کا انعقاد کر ے گا۔ لڑکی والوں پر ہر قسم کے کھانے پر جہاں  پابندی لگائی گئی ہے وہیں لڑکے والوں کو ولیمہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کمیٹی نے لڑکی کی شادی کے موقع پر لڑکی کو دینے والے سامان کی نمائیش پر پابندی عائد کی ہے۔ شادی کے موقع پر فضول خرچی کو روکنے کے اصلاحی اقدام کی اگر کوئی شخص پنچایت کے فیصلہ کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تگو پنچایت نے اس سے رشتہ منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جماعت قریشیان کمیٹی کے صدر حاجی شاکر حسین قریشی کہتے ہیں کہ  سماج میں شادی کے نام پر ہونے والے دکھاوا اور فضول خرچی سے غریب گھرانوں کے بیٹیاں نکاح سے محروم ہوجاتی ہیں۔ ان کے پاس اتنا سرمایہ ہی نہیں ہوتا ہے کہ وہ شادی کا خواب دیکھ سکیں۔ سماجی اصلاح اور غریب بیٹیوں کے مذہبی اور سماجی حقوق کو دیکھتے ہوئے یہ اصلاحی قدم اٹھایا گیا ہے اور اس کی اطلاق جون سے کردیا گیا ہے۔ پنچایت قریشیان کا فیصلہ صرف اجین تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اطلاق مالوہ کے بڑے حصے میں ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسلام میں شادی کو جس طرح آسان بتایا گیا ہے اسی سنت کے مطابق نکاح ہو ۔ لڑکی والے کھانہ کھلانے کی لازمی بدعت سے بچیں۔ لڑکے والوں کو ولیمہ کا انعقاد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

First published: Jun 02, 2020 09:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading