உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بڑی خبر: Allahabad High Court کی تقسیم کسی صورت بھی نہیں ہے قابل قبول

     الہ آباد ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے پہلے کی ہائی کورٹ کی تقسیم کی تجویز کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی تقسیم سے پہلے ریاست کی تقسیم ہونی چاہئے۔

    الہ آباد ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے پہلے کی ہائی کورٹ کی تقسیم کی تجویز کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی تقسیم سے پہلے ریاست کی تقسیم ہونی چاہئے۔

    الہ آباد ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے پہلے کی ہائی کورٹ کی تقسیم کی تجویز کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی تقسیم سے پہلے ریاست کی تقسیم ہونی چاہئے۔

    • Share this:
    الہ آباد ہائی کورٹ ( Allahabad High Court) کی نئی بنچ مغربی یو پی میں قائم کرنے کی تجویز کی الہ آباد ہائی کورٹ کے وکلا نے شدید مخالفت کی ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے پہلے کی ہائی کورٹ کی تقسیم کی تجویز کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی تقسیم سے پہلے ریاست کی تقسیم ہونی چاہئے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ ریاست میں چناؤ کے پیش نظر سیاسی مفاد کے لئے ہائی کورٹ کی تقسیم کو جان بوجھ کر ہوا دی جا رہی ہے ۔

    اودھ بار ایسو سی ایشن کی طرف سے ہائی کورٹ کی تقسیم کی حمایت کئے جانے پر بھی الہ آباد ہائی کورٹ کے وکلا نے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ وکلا کا کہنا ہے کہ دونوں بار ایسو سی ایشنوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کا چناؤ یکم دسمبر کو متوقع ہے ۔ چناؤ پرچار کے دوران ہائی کورٹ کی تقسیم کا ایشو زیر بحث ہے ۔ خیال رہے کہ بعض وکلا کی طرف سے الہ آباد ہائی کورٹ کی بنچ آگرہ میں قائم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہاہے ۔

    اس مطالبے کی حمایت لکھنؤ بنچ کی اودھ بار ایسو سی ایشن نے بھی کی ہے ۔اودھ بار ایسو سی ایشن کی طرف سے الہ آباد ہائی کورٹ کی بنچ آگرہ میں قائم کئے جانے کی حمایت سے دونوں بار ایسو سی ایشنوں کے درمیان ٹکراؤ کی نوبت آ گئی ہے ۔

    الہ آباد ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق عہدے دار راجیش کمار پانڈے کا کہنا ہے کہ اودھ بار ایسو سی ایشن سے اس مسئلے پربراہ راست گفتگو ہو رہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی تقسیم کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے اور اس تقسیم کے خلاف تمام وکلا مل کر تحریک چلائیں گے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: