உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر جمعیت علما ایم پی کے زیر اہتمام ریاست گیر سطح پر کی گئی شجر کاری

    Youtube Video

    جمعیت علما دینی تعلیمی بورڈ کے فعال رکن مفتی محمد صادق کہتے ہیں کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں آمد سب کے لئے باعث رحمت ہے ۔

    • Share this:
    عید میلاد النبی صل اللہ علیہ وسلم کو اس بار ایم پی جمعیت علما دینی تعلیمی بورڈ نے نئے انداز میں منایا۔ جمعیت علما دینی تعلیمی بورڈ کے ذریعہ ہفتہ بھر قبل ہی امن وسلامتی کا پیغام ۔ سیرت نبوی کی روشنی میں عام کرنے کا سلسلہ شروع کیاگیاتھا۔ اس سلسلہ کے تحت جمعیت علما دینی تعلیمی بورڈ کے اراکین کے ذریعہ بلا لحاظ قوم وملت سبھی کو حدیث پاک کے پوسٹر اور سیر نبی صل اللہ علیہ وسلم کی کتاب کا تحفہ پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا جسے سبھی کے ذریعہ نہ صرف پسند کیاگیا بلکہ وقت کی ضرورت سے تعبیر کیاگیا۔عید میلاد النبی کے خاص دن ریاست گیر سطح پر جمعیت علما دینی تعلیمی بورڈ کے ذریعہ شجرکاری کی گئی تاکہ ماحولیا کو صاف و شفاف بنایاجاسکے اور انسانیت کو ماحولیاتی آلودگی سے بچایا جا سکے ۔
    جمعیت علما دینی تعلیمی بورڈ کے فعال رکن مفتی محمد صادق کہتے ہیں کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں آمد سب کے لئے باعث رحمت ہے ۔ خیر کے کام کیسے کئے جائیں اور خیر کے کام کرنے سے انسانیت سر خرو کیسے ہوتی ہے اس کا پیغام ہمیشہ دیا گیا اور اس بار جمعیت علما دینی تعلیمی بورڈ کے ذریعہ عید میلاد النبی صل اللہ علیہ وسلم کے خاص موقعہ پر ایک ہفتہ قبل ہی تحریک شروع کر دی گئی تھی ۔ ہم جس معاشرہ میں رہتے ہیں اس کی بھلائی کے لئے کام کرنا بھی سنت رسول ہے ۔ہم لوگوں نے شجرکاری کی ہے تاکہ ماحولیات کو آلودگی سے پاک کیا جائے اور زہریلی آب و ہوا سے سب کو نجات مل سکے ۔

    وہیں بھوپال جمعیت علما کے رکن مفتی محمد انظر حسین کہتے ہیں کہ شجرکاری کے لئے آپ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان تو یہاں تک ہے کہ اگر قیامت سامنے ہو اور تمہارے ہاتھ پودا ہو تو تم پہلے اس پودے کو لگادو۔ جمعیت دینی تعلیمی بورڈ کے ذریعہ حدیث نبوی صل اللہ علیہ وسلم کے پوسٹر بھی تقسیم کئے جا رہے ہیں تاکہ ان کی روشنی میں دنیا کے لوگ اپنی اصلاح کر سکیں ۔ہمارے بزرگوں نے شجرکاری کی تھی تو آج ہم پیڑوں کے سائے میں بیٹھے ہیں اور آج ہم شجرکاری کر رہے ہیں تو آئیندہ کی نسلیں اس کی چھاؤں میں بلا لحاظ قوم وملت آرام کرینگی ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: