உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شہدائے کربلا کی یاد میں مدھیہ پردیش میں انوکھی شجرکاری مہم میں لگائے گئے شش 72 درخت

    Youtube Video

    راجدھانی بھوپال سے شروع کی گئی اس انوکھی شجرکاری مہم میں سبھی مکتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی اور اس شجرکاری مہم کو وقت کی ضرورت سے تعبیر کیا۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش مسلم وکاس پریشد کے زیر اہتمام شہدائے کربلا کی یاد میں مدھیہ پردیش میں شجرکاری مہم کا آغاز کیاگیاہے۔ راجدھانی بھوپال سے شروع کی گئی اس انوکھی شجرکاری مہم میں سبھی مکتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی اور اس شجرکاری مہم کو وقت کی ضرورت سے تعبیر کیا۔ شجرکاری مہم کا آغاز راجدھانی بھوپال کے کربلا میدان سے کیاگیا۔ پہلے دن شہدائے کربلا کی یاد میں باہتر پیڑلگاکر شہدائے کربلا کی تعلیمات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی۔ ملک میں یوں تو شجرکاری مہم کا انعقاد بہت ہوتا ہے لیکن یہ پہلا موقعہ ہے جب شجرکاری مہم کو شہدائے کربلا سے منسوب کیاگیاہے۔ ممتاز شاعر منطر بھوپالی کہتے ہیں کہ یہ ملک میں یہ پہلاموقعہ ہے جب نویں محرم کے دن شجرکاری مہم کا آغٓاز ریاست گیر سطح پر شروع کیاگیا ہے اور پوری مہم کو شہدائے کربلا کے نام سے منسوب کیاگیاہے۔ جن مقاصد کے لئے یہ مہم شروع کی گئی ہے اس کے میں دل سے تائید کرنا ہوں اور اسی کی ہندستان کی سالمیت اور خوشحالی کے لئے ضرورت بھی ہے ۔امام حسین اور شہدائے کربلا نے جس طرح سے انسانیت کی سربلندی کے لئے قربانی دی تھی اسی طرح سے یہ شجرسبھی کو صاف و شفاف آکسیجن فراہم کرنے کے ساتھ پھل بھی دینگے۔
    مدھیہ پردیش مسلم وکاس پریشد کے صدر محمد ماہر کہتے ہیں کہ شہدائے کربلا نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی قیادت میں اسلام اور انسانیت کی سربلندی کے لئے قربانی دی تھی ۔ ہمارا مقصد ان کی تعلیمات کو عام کرنا اور ان کے نام سے شجرکاری کرکے دنیاکو بتانا ہے کہ اسلام ماحولیات کی پاکیزگی اور صاف صفائی کو لیکر کیا تعلیم دیتا ہے ۔ آج پہلے دن کربلا کے میدان سے شجرکاری مہم کا آغاز کیاگیا ہے ۔یہ مہم ریاست گیر سطح پر ماہ محرم تک جاری رہے گی ۔ شہدائے کربلا کے نام سے جو پیڑلگائے ہیں انہیں ٹری گارڈ لگاکر کاور کیا جائے گا ساتھ ہی نام کی پٹی لگائی جائے گی تاکہ نئی نسل شہدائے کربلا باہتر شہیدوں کے نام سے بھی واقت ہو سکے ۔
    ہاکی اولپمئین جلال الدین رضوی کہتے ہیں کہ بھوپال نے دنیا کے سامنے آج ایسی مثال پیش کردی ہے جس کی کہیں نظیر نہیں ملتی ہے ۔ لوگ اس کی تلقین کرتے رہیں گے تو شہدائے کربلا کی تعلیم کے ساتھ ماحولیات کو بہتر بنانے کا سبق خود بخود سبھی کو ملتا رہے گا۔

    ممتاز شیعہ عالم دین ڈاکٹر رضی الحسن حیدری کہتے ہیں کہ اسلام میں پیڑلگانے کے بڑی فضیلیت ہے ۔ شجرکاری کرنا اور ماحولیات کو بہتر بنانا بھی ثواب جاریہ ہے ۔ آج ایک اچھی مثال قائم کی گئی ہے ۔امام سب کے ہیں اور امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے میدان سے جو تعلیم دی تھی اس پر عمل پیرا ہونے میں ہی سب کی خیر ہے ۔
    آل انڈیا مسلم تہوار کمیٹی کے صدر ڈاکٹراوصاف شاہمیری خرم کہتے ہیں کہ سر اس لئے جھکاتے ہیں نام حسین پر۔۔۔۔۔ہماری عبادتوں کو بچایا حسین نے ۔۔شجرکاری کرنا اور عوام کو صاف شفاف ہوا کا انتظام کرنا ہے بھی عبادت ہے ۔ کربلا کے میدان میں بھوپال میں پچیس سال پہلے کچھ پیڑلگائے گئے تھے لیکن آج باہتر پیڑ لگائے گئے ہیں ۔کل یہ شجرسایہ دار پیڑ بنیں گے اور ان کی چھاؤں میں جو بھی لوگ بیٹھیں گے وہ دعائیں ہی دیں گے ۔ اسلام نیکی اور سلامتی کا مذہب ہے اور اسی کی بقاکے لئے کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے اپنے باہتر جانثاروں کے ساتھ قربانی دی تھی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: