உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش میں ٹل سکتے ہیں وقف بورڈ انتخابات، ہائی کورٹ میں دائر عرضی پر کل ہوگی سماعت

     Madhya Pradesh: جبلپور ہائی کورٹ کے احکام کے بعد مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے انتخاب کے لئے تیس جولائی کا اعلان تو کیاگیا ہے لیکن سات رکنی بورڈ بنانے کو لیکر تنازعہ بھی شروع ہوگیا ہے۔

    Madhya Pradesh: جبلپور ہائی کورٹ کے احکام کے بعد مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے انتخاب کے لئے تیس جولائی کا اعلان تو کیاگیا ہے لیکن سات رکنی بورڈ بنانے کو لیکر تنازعہ بھی شروع ہوگیا ہے۔

    Madhya Pradesh: جبلپور ہائی کورٹ کے احکام کے بعد مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے انتخاب کے لئے تیس جولائی کا اعلان تو کیاگیا ہے لیکن سات رکنی بورڈ بنانے کو لیکر تنازعہ بھی شروع ہوگیا ہے۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں ہائی کورٹ کے حکم سے چار سال بعد ہونے والا انتخاب عدالت کے دوسرے حکم سے ٹل سکتا ہے۔ جبلپور ہائی کورٹ کے احکام کے بعد مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے انتخاب کے لئے تیس جولائی کا اعلان تو کیاگیا ہے لیکن سات رکنی بورڈ بنانے کو لیکر تنازعہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ سات رکنی بورڈ کی تشکیل کو وقف ایکٹ کی منشا خلاف قرار دیتے ہوئے اجین کے محمد ارشد صدیقی کے ذریعہ جبلپور  ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔ ہائی کورٹ میں کل بورڈ کی تشکیل اور ارکان کو لیکر اہم سماعت ہوگی ۔
    عرضی گزار محمد ارشد صدیقی نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت میں کہا کہ دوہزار اٹھارہ کے بعد بورڈ کی تشکیل کو لیکر ہائی کورٹ کے حکم سے انتخاب ضرور کرایا جا رہا تھا لیکن وقف بورڈ انتخاب کی جن لوگوں کو ذمہ دار دی گئی ہے وہ حکومت کا آلہ کار بن کرکام کر رہے ہیں اور انہوں نے  وقف ایکٹ کے پرویزن کے خلاف تیرہ رکنی بورڈ کی جگہ سات رکنی بورڈ تشکیل دینے کو لیکر نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ ہم عدالت میں وقف ایکٹ ۱۹۹۵ کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے مانگ کی ہے کہ جب سے مدھیہ پردیش میں وقف بورڈ قائم کیاگیا ہے ہمیشہ تیرہ رکنی بورڈ ہی تشکیل دیا گیا ہے ۔لیکن موجودہ لوگ وقف ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی مرضی کا بورڈ تھوپنا چاہتے ہیں ۔ہمیں خوشی ہے کہ عدالت نے ہماری عرضی کو تسلیم کیا اور کل ہونے والی سماعت میں عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے گا وہ بہت اہم ہوگا ۔



    وہیں اس سلسلہ میں مشہور وکیل وسماجی کارکن شہنواز خان نے نیوز ایٹین اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ کی تشکیل کو لیکر حکومت کی منشا ہمیشہ منفی رہی ہے ۔وقف ایکٹ کے مطابق چھ ماہ سے زیادہ بورڈ خالی نہیں رہ سکتا ہے ۔ لیکن یہاں دوہزار اٹھارہ سے بورڈ کی تشکیل نہیں ہوسکی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ بورڈ کی تشکیل کا مرحلہ ہائی کورٹ کے حکم سے شروع کیاگیا ہے لیکن حکومت کے لوگ اسے اپنی مرضی سے وقف ایکٹ کے خلاف کرنا چاہتے ہیں ۔متولی زمرے کے انتخاب کے لئے وہ متولی کمیٹیاں جن کی آمدنی ایک لاکھ سے زیادہ ہے ان کی تعداد تین سو بیالیس درج ہے مگر پہلے انہوں نے متولی کے ووٹ کے لئے کل اڑتیس لوگوں کی فہرست جاری کی۔

    جموں۔کشمیر اپنی پارٹی کی خواتین ونگ کا اجلاس،اسمبلی میں خواتین کو 33فیصدریزرویشن کا مطالبہ

    موٹاپے کے سبب ساس نے کی Body Shaming، تو بہو نے کر لی خودکشی

    نیوز ایٹین اردو کا شکریہ کہ ان کی خبر کے بعد اب تک دو  بار متولیوں کی فہرست بدل چکی ہے ۔بورڈکے لوگ کہتے ہیں کہ جنہوں نے وقت پر کرایہ جمع نہیں کیا وہ ڈیفالٹر ہیں اور انہیں ووٹ دینے کا حق نہیں ہے ۔مگر وقف ایکٹ میں ایسا کہیں درج نہیں ہے کہ اگر کسی متولی نے وقت پر کرایہ جمع نہیں کیا یا تاخیر سے جمع کیا تو اسے ووٹ دینے کے حق سے محروم کردیا جائے گا۔ ہم سب کی نظر ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت پر ہے اور ہمیں امید ہے کہ عدالت اہم فیصلہ سنائے گی ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: