உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خواتین فنکاروں کے ذکر کے بغیر نہیں لکھی جا سکتی Urdu Adab کی تاریخ

    ایم پی اردو اکادمی کے زیر اہتمام نسائی ادب اور اردو کے عنوان سے منعقدہ سمینار سے دانشوروں کا اظہار خیال

    ایم پی اردو اکادمی کے زیر اہتمام نسائی ادب اور اردو کے عنوان سے منعقدہ سمینار سے دانشوروں کا اظہار خیال

    اردو میں نسائی ادب کے عنوان سے منعقدہ قومی سمینارکی صدارت کرتے ہوئے ممتاز ادیب پروفیسر خالد نے کہا کہ مدھیہ پردیش اردواکادمی کی ڈائریکٹر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اردو میں نسائی ادب کے عنوان سے قومی سمینار کا انعقاد کیا ہے۔

    • Share this:
    اردو زبان و ادب کے فروغ میں خواتین اہل قلم نے بڑا کردار ادا کیا ہے ۔خواتین اہل قلم نے اردو کی کسی ایک خاص صنف کو نہیں بلکہ اردو ادب کی تمام اصناف میں اپنی تحریروں کے امٹ نقوش مرتب کئے ہیں ۔لیکن جب مرد کی بالا دستی قائم کرنے والا سماج مرد اہل قلم کو اولیت دیتا ہے اور خواتین اہل قلم کو ناقص العقل کہہ کمتر سمجھتا ہے تودل دکھتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں اردو میں نسائی ادب کے عنوان سے منعقدہ قومی سمینار میں دانشوروں نے کیا۔

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر نصرت مہدی نے سمینار میں مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ایک زمانے تک خواتین کو اظہار خیال کی اجازت ہی نہیں تھی اور انہیں ناقص العقل کہہ کر نہ صرف کمتر سمجھتا جاتا تھا بلکہ ادب کی تخلیق کو مرد کی اجارہ داری قرار دیتے ہوئے اسے خواتین کی فہم و فراست سے بالاتر سمجھا جاتا تھا۔لیکن جب سماج میں بیداری آئی اور خواتین کو اپنے احساس رقم کرنے کی اجازت ملی تو اس نے ایسے شہ پارے تخلیق کئے کہ بعض مقامات پر مرد اہل قلم بھی پیچھے رہ گئے ۔ سمینار کا مقصد خواتین اہل قلم کی فکری جہات کو منظر عام پر لانا ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ سمینار میں خواتین کے ساتھ شامل اسکالرس نے بھی خواتین اہل قلم کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے ۔
    اردو میں نسائی ادب کے عنوان سے منعقدہ قومی سمینارکی صدارت کرتے ہوئے ممتاز ادیب پروفیسر خالد نے کہا کہ مدھیہ پردیش اردواکادمی کی ڈائریکٹر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اردو میں نسائی ادب کے عنوان سے قومی سمینار کا انعقاد کیا ہے۔ اور سچ پوچھیئے تو ان دنوں اس موضوع کا بہت زور ہے۔اردو ادب میں خواتین بہت پہلے سے لکھ رہے ہیں اور ان کی تحریروں کا اعتراف کیا جانے لگا ہے۔انہوں نے ادب کے فروغ کے لئے کسی کی جانب دیکھا ہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنی انجمنیں بنائیں،اردو کے رسالے نکالے اور جو تحریر انہوں نے لکھی اس کی اہمیت وافادیت کو تسلیم کیا گیا۔

    خواتین نے فکشن ،نان فکشن میں بہت کام کیا ہے ۔خود نوشت ان کی ہے ،سفر نامے ان کے ہیں ۔تو ایک طرح سے انہوں نے خود کو پھیلایا ہے ۔انہوں نے شاعری بہت طاقتور کی ہے ساتھ ہی دوسری اصناف میں اس طرح کی تحریر لکھی ہیں کہ اب لوگ مجبور ہیں کہ ان پر سمینار کرائیں۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کا قدم قابل تحسین ہے اور میں اسے وقت کی ضرورت سے تعبیر کرتا ہوں ۔
    علی گڑھ کی مقالہ نگار افشاں ملک نے اپنے مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ سچ ہے کہ خواتین کو ایک زمانے تک ادب سے دور رکھا گیا لیکن یہ بھی حقیقت ہمیں تسلیم کرنا ہوگی کہ خواتین کو آگے بڑھانے اور ان کے لئے ادب کا میدان ہموار کرنے میں مردوں نے بڑا کام کیا ہے ۔ہم سید ممتاز علی کی کاوش کو فراموش نہیں کرسکتے ہیں انہوں نے اپنی اہلیہ محمدی بیگم کو ایڈیٹر بنایا۔اس وقت پردہ کا عالم یہ تھا کہ اخبار کی پیشانی پر لکھا ہوتا تھا کہ دوشنبہ کے روز یہ اخبار ایک بیوی کی ایڈیٹری میں نکلتا ہے ۔ مطلب یہ کہ ناموں تک کا پردہ تھا۔جب علم و فن کے دروازے عورتوں پر کھلے تو رفتہ رفتہ راہ ہموار ہوئی اور خواتین اپنے ادبی شہ پاروں سے اپنی اہمیت کو منواتی چلی گئیں ۔اور آج انصاف پسند مفکرین ،مدبرین ہمارے شانہ بشانہ ہیں لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اب بھی کہیں نہ کہیں عصبیت دکھائی دے جاتی ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔
    ممتاز ادیبہ ڈاکٹر رضیہ حامد نے اردو میں نسائی ادب کے حوالے سے ریاست بھوپال کی خواتین ادیبہ وشاعرات کے شہ پاروں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ ڈاکٹر رضیہ حامد نے اپنے مقالے میں پیش کیا کہ ریاست بھوپال میں چار بیگمات نے نہ صرف ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک تسلسل تک حکومت کی بلکہ ادب کی سرپرستی کے ساتھ اردو میں بہترین شاہکار تخلیق کئے ہیں ۔ نواب سکندر بیگم نے اردو کو ریاست بھوپال کی سرکاری زبان بنایا تو ان کی دختر نواب شاہجہاں بیگم ریاست بھوپال میں پہلی مسلم خاتون شاعرہ کے ساتھ انہوں نے چھ زبانوں میں خزینۃ اللغات کے نام سے جو ڈکشنری لکھی ہے وہ بیش قیمتی سرمایہ ہے ۔اسی طرح نواب سلطان جہاں بیگم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی پہلی خاتون چانسلر کے ساتھ بیالیس کتابوں کی مصنفہ تھیں۔پہلی غیر مسلم صاحب دیوان شاعرہ سورج کلا سہائے سرور کا تعلق بھی بھوپال سے ہی تھا لیکن نئی نسل ان کی خدمات سے واقف نہیں ہے۔

    بھوپال میں یہ پہلا موقعہ ہے جب نسائی ادب پر قومی سمینار کا انعقاد کیاگیا ہے۔سمینار کے انعقاد سے نئی نسل کو نہ صرف خواتین اہل قلم کے بارے میں قریب سے جاننے کا موقعہ ملا ہے بلکہ اسے وقت کی ضرورت سے تعبیر کیاگیا ۔خواتین مقالہ نگاروں نے اپنے مقالہ میں کہا کہ اگر مردوں نے ادب کا محل تعمیر کیا ہے تو خواتین اہل قلم کی تحریریں ادب کا حسن ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: