உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اسپتال نے لاشوں کو لیکر کر ڈالی ایسی بڑی غلطی، ماں کی لاش کو کھول کر دیکھا تو بیٹے کے اڑ گئے ہوش: جانیں معاملہ

    معاملہ تب سامنے آیا جب بھوپال لال گھاٹی کے عبدالجبار اپنی ماں کی نعش لینے کے لئے اسپتال مرچری میں گئے اور جب انہیں نعش سپرد کی گئی اور انہوں نے چادر سے ڈھکی ہوئی نعش کو اٹھاکر دیکھا تو وہ نعش عبد الجبار کی ماں نفیسہ بی کی نہیں تھی۔

    معاملہ تب سامنے آیا جب بھوپال لال گھاٹی کے عبدالجبار اپنی ماں کی نعش لینے کے لئے اسپتال مرچری میں گئے اور جب انہیں نعش سپرد کی گئی اور انہوں نے چادر سے ڈھکی ہوئی نعش کو اٹھاکر دیکھا تو وہ نعش عبد الجبار کی ماں نفیسہ بی کی نہیں تھی۔

    معاملہ تب سامنے آیا جب بھوپال لال گھاٹی کے عبدالجبار اپنی ماں کی نعش لینے کے لئے اسپتال مرچری میں گئے اور جب انہیں نعش سپرد کی گئی اور انہوں نے چادر سے ڈھکی ہوئی نعش کو اٹھاکر دیکھا تو وہ نعش عبد الجبار کی ماں نفیسہ بی کی نہیں تھی۔

    • Share this:
    بھوپال کا حمیدیہ اسپتال اپنے انوکھے کارناموں کو لیکر ہمیشہ سرخیوں میں رہتا ہے۔ کورونا وارڈ میں کئی گھنٹے تک بجلی نہیں ہونے اور جنریٹر خراب ہونے کے سبب کی مریضوں کی موت کا معاملہ ابھی لوگ بھولے بھی نہیں تھے کہ اسپتال اسٹاف نے مسلم خاتون نفیسہ بی کی لاش ہندو کو دیدی ہے اور نفیسہ بی کی آخرر رسومات بھی ہندو ریت رواج سے ادا بھی کردی گئی ۔ معاملہ تب سامنے آیا جب بھوپال لال گھاٹی کے عبدالجبار اپنی ماں کی نعش لینے کے لئے اسپتال مرچری میں گئے اور جب انہیں نعش سپرد کی گئی اور انہوں نے چادر سے ڈھکی ہوئی نعش کو اٹھاکر دیکھا تو وہ نعش عبد الجبار کی ماں نفیسہ بی کی نہیں تھی۔
    واضح رہے کہ بھوپال کے حمیدیہ اسپتال میں نفیسہ بی علاج کے لئے پانچ اپریل کو داخل ہوئی تھیں جہاں ان کا سات اپریل کو انتقال ہوگیا ۔ اسی اسپتال میں نارائن سنگھ کی بھابی شیلا دیوی بھی علاج کے لئے داخل تھیں ان کا بھی اسی دن انتقال ہوگیا۔ دونوں لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرنے کے لئے مرچری میں رکھا گیا ۔ نرائن سنگھ کو ان کی بھابی کی نعش کل شام کو دی گئی ۔نارائن سنگھ نے اپنی بھابی کی لاش کو لیا اور یہ نہیں دیکھا کہ اس پر ٹیگ کیا لگا ہوا ہے ۔ کیونکہ لاش کے ٹیگ پر نام انگریزی میں لکھا ہوا تھا۔ نارائن سنگھ نے نفیسہ بی کی لاش کو اپنی بھابی کی لاش سمجھ کر ان کی آخری رسومات ہندو ریت رواج کے مطابق کردی ۔ معاملہ جب سامنے آیا تونارائن سنگھ اور عبدالجبار کے پیروں سے زمین نکل گئی ۔

    نارائن سنگھ نے نفیسہ بی کی لاش کو اپنی بھابی کی لاش سمجھ کر ان کی آخری رسومات ہندو ریت رواج کے مطابق کردی ۔


    نارائن سنگھ کہتے ہیں کہ میرا پورا خاندان کورونا سے متاثر ہیں اور سبھی لوگ اسپتال میں ہیں ،بھابی شیلادیوی کا انتقال ہوا اور جب اسپتال نے انہیں بلا کر لاش دی تو انہوں نے اپنی بھابی کی لاش سمجھ کر اس کی آخری رسومات ادا کی کردی ۔ ہمیں تو تب معلوم ہوا جب اسپتال سے فون آیاکہ غلط لاش میرے پاس آگئی ہے۔ یہ غلطی تو اسپتال والوں کی ہے اب اس میں ہم کیا کرسکتے ہیں ۔لاش پر انگریزی میں کیالکھا ہے ہم جاہل آدمی کیا جانیں۔


    نفیسہ کے بیٹے عبدالجبار کا کہنا ہے کہ ہم اپنی والدہ کی میت کو لے جانے کے لئے بہت دیر تک بیٹھے رہے ،نگر نگم کی گاڑی بھی نہیں تھی اور بہت دیر ہو رہی تھی تو ہم تھوڑی دیر کے لئے گھر چلے گئے اور جب یہاں آئے اور اپنی ماں کی میت کو لے جانے کے لئے ان سے گزارش کی تو انہوں نے ایک لاش سپرد کی اور جب ہم نے چادر اٹھاکر دیکھی تو ہماری ماں کی نہیں تھی ۔ہم سے تو اسپتال کا اسٹاف پہلے جھگڑتا اور جب نرائن سنگھ نے آکر شناخت کی تو پتاچلا کہ نرائن سنگھ کو ہماری ماں کی لاش دیدی گئی ۔ یہ اتنی بڑی لاپروائی کیسے ہوئی اس کی جانچ کی جانا چاہیئے اور جو لوگ بھی اس کے لئے ذمہ دار ہیں ان کو سخت سزا ملنا چاہیئے ۔

    اسپتال کے ذمہ دار تو پہلے اس معاملے کو لیکر طرح طرح کے بہانے بناتے رہے اور مقامی عوام اور پولیس کے اعلی افسران ہنگامہ ہونے کے بعد اسپتال میں آئے تو گاندھی میڈیکل کالج جس کے تحت حیمدیہ اسپتال چلایا جاتا ہے کے ڈین جیتندر شکلا نے نیوزایٹین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں جانچ کے لئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے اور ابھی فوری طور پر دو لوگوں کو ذمہ دار مانتے ہیں معطل کردیا گیا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: