உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ترقیاتی مشن کے حصول میں اردو میڈیم تعلیم کا کردار اہمیت کا حامل: ماہرین تعلیم

    بھوپال مانو ریجنل سینٹر میں منعقدہ دو روزہ قومی سمینار سے منوج سریواستو، اقبال مسعود اور دوسرے ماہرین تعلیم نے خطاب کیا۔

    بھوپال مانو ریجنل سینٹر میں منعقدہ دو روزہ قومی سمینار سے منوج سریواستو، اقبال مسعود اور دوسرے ماہرین تعلیم نے خطاب کیا۔

    سمینار سے خطاب کرتے ہوئے مانو ریجنل سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد احسن نے کہا کہ سمینار کے انعقاد کا مقصد نئی تعلیمی پالیسی جو آئی ہے اس میں اردو کی صورتحال کیا ہوگی اور جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی میں مادری زبان میں تعلیم دینے کی وکالت کی گئی ہے

    • Share this:
    مولانا آزاد نینشل اردو یونیورسٹی بھوپال ریجنل سینٹر اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کے مشترکہ بینرتلے بھوپال میں دو روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیاگیا ۔ بھوپال مانوریجنل سینٹر میں نئی تعلیمی پالیسی اور ترقیاتی مشن کے حصول میں اردو میڈیم تعلیم کا کردار کے عنوان سے منعقدہ قومی سمینار میں ممتاز ماہرین تعلیم نے شرکت کی اور ترقیاتی مشن کے حصول میں اردو میڈیم تعلیم کے کردار کو اہمیت کاحامل قرار دیا۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی اور مانو ریجنل سینٹر کے مشترکہ بینر تلے منعقدہ دو روزہ قومی سمینار کے پہلے روز افتتاحی سیشن کے علاوہ ایک ٹیکنکل سیشن کا انعقاد کیاگیا۔ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے مانو ریجنل سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد احسن نے کہا کہ سمینار کے انعقاد کا مقصد نئی تعلیمی پالیسی جو آئی ہے اس میں اردو کی صورتحال کیا ہوگی اور جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی میں مادری زبان میں تعلیم دینے کی وکالت کی گئی ہے اور یہ پہلی بار مادری زبان میں تعلیم دینے کی وکالت نہیں کی گئی ہے بلکہ تمام ماہرین تعلیم اور ماہر لسانیات اس بات سے متفق ہیں کہ بچوں کی تعلیم مادری زبان میں ہونا چاہیے۔ اب اس میں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اردو جو مادری زبان ہے اس کے طلبا کو ہم کیسے فائیدہ پہنچا سکتے ہیں اور اس کو لیکر جو خدشات ہیں ان کا کیسے تدارک کیا جا سکتا ہے ۔اسی مقصد کے لئے سمینار کا انعقاد کیاگیا ہے اور اس میں جو چیزین سامنے آئیں گی انہیں حکومت اور عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
    ممتاز ماہر لسانیات اور سمینار کے مہمان خصوصی پروفیسر اے آر فتیحی نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو نئی تعلیمی پالیسی پیش کی جا چکی ہے اور کابینہ کے ذریعہ قبول کی جا چکی ہے وہ بہت اہم ہے کیونکہ اس میں ایک بڑا فوکس مادری زبان کی تعلیم کی طرف ہے ۔مادری زبان میں تعلیم کئی معنوں میں کافی اہم ہے اور اس میں یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ مادری زبان ہم سب کی وراثت کی زبان ہے ۔مادری زبان سے انسان کی جو جذباتی ہم آہنگی اور لگاؤ ہوتا ہے وہ کسی دوسری زبان کے ساتھ نہیں ہوتا ۔کیونکہ دوسری زبان کی صورتحال ذرا مختلف ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ نئی تعلیمی پالیسی اس کمی کو پورا کر پائے گی جو ابتک ہم محسوس کرتے تھے ۔کیونکہ تعلیم کے حصول میں مادری زبان کہیں نہ کہیں پیچھے رہ جاتی تھی اور ہم دوسری زبانوں کی جانب متوجہ ہو جاتے تھے۔
    ڈاکٹر ساجد جمال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تعلیم کو مادری زبان میں دیئے جانے کی بات کہی گئی ہے اور یہ اردو زبان بولنے اور پڑھنے والوں کے لئے ایک بہت اچھی اپارچونیٹی ہے اور حکومت ہند ابھی نیشنل کارکولم فار اسکول ایکٹی ویٹی کو تیار کررہی ہے اور مجھے امید ہے کہ کچھ دنوں میں یہ تیار ہو جائے گا اور اس کے بعد تعلیم کو لیکر کچھ نئی گائیڈ لائن آئینگی ۔اس طرح کے پروگرام کا مقصد ماہرین تعلیم سے رائے لینا ہے تاکہ اردو زبان کو مادری زبان کے طور پر بچوں کو پڑھایا جاسکے ۔جہاں تک خدشات کا تعلق ہے تو مجھے لگتا ہے کہ سرکار کی جو کوشش ہے ہمیں اس کو مثبت انداز میں لینا چاہیئے ۔اردو ایک ایسی زبان ہے جس کو بڑی تعداد میں لوگ بولتے ہیں اور اس میں بے شمار علم ہے ۔گیتاہو،قران ،ویدانت ہوں یا دوسری مذہبی کتابوں کی بات کی جائے تو وہ سب اردو میں موجود ہیں ۔اور ہم اردو کو لیکر یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ زبان آپسی یکجہتی اتحاد واتفاق کو فروغ دیتی ہے ،لوگوں کو جوڑتی ہے ۔اگر آپ نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ تحریک آزادی میں بھی اس زبان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس طرح کے جب سمینار ہونگے تو اس سے نئی راہیں نکلیں گی اور اس سے اردو طلبا اور اردو کے لئے جو راہیں نکلیں گی وہ اہمیت کی حامل ہوں گی۔

    ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر محمد حلیم نے سمینار میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کو لیکر کچھ مثبیت باتیں تو کچھ لوگ خدشات اور اختلاف کا پہلوپیش کر رہے ہیں لیکن میرا خیال یہ ہے کہ ہمیں شرمیں سے خیر کا پہلو نکالنا چاہیے۔ یہ صحیح ہے کہ جب ملک آزاد ہوا تھا اس وقت بھی گاندھی جی اور مولانا آزادی نے مادری زبان میں تعلیم دینے کی وکالت کی تھی لیکن ان کے نظریات پر عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکااور اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو درس و تدریس کو لیکر جوٹیچر تیار کئے جانے کا معاملہ تھا وہ نہ اس وقت تیار کیاگیا اور نہ اس نئی تعلیمی پالیسی میں اس بارے میں کوئی سنجیدگی دکھائی دیتی ہے کیونکہ اگر زبان کو سکھانا ہے تو زبان کا درس دینے والوں کو ایڈوانس تربیت دینے کی ضرورت ہے جس میں ہماری سرکاریں فیل رہی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کی جواب دہی کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اردو والوں کو بھی خود سوچنا پڑے گا کہ ان کا فرض کیا ہے کیونکہ اردو اسکولوں میں جہاں کم اردو کے طلبا ہوتے ہیں جب وہاں پر اردو کے اساتذہ اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لئے طلبا سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ تم کوئی دوسرا سبجیکٹ لے لو ۔ابھی اس زبان میں پڑھنے والے بچے بہت کم ہیں۔اور یہی وہ نظریہ ہےجس کے سبب مادری زبان میں تعلیم دینےکا معاملہ پچھڑتا جا رہاہے۔ہمیں اردو تعلیم کے لئے اچھے اساتذہ کو تیار کرنے کے لئے الگ سے بھی قدم اٹھانا ہوگا۔ بھوپال مانو ریجنل سینٹر میں منعقدہ دو روزہ قومی سمینار سے منوج سریواستو،اقبال مسعود اور دوسرے ماہرین تعلیم نے خطاب کیا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: