ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بیٹیوں سے سرکاری پروگرام کے آغاز کا شیوراج حکومت نے جاری کیافرمان، مسئلے پر سیاست ہوئی شروع

مدھیہ پردیش میں شیوراج حکومت کے نئے احکام سے پھر ایک سیاسی بحث شروع ہوگئی ہے۔ نیا احکام حکومت کے محکمہ جی اے ڈی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے حکومت کے احکام میں سبھی سرکاری پروگرام کا آغاز بیٹیوں کی پوجا سے کرنے کا نہ صرف حکم دیا گیاہے بلکہ اس پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

  • Share this:
بیٹیوں سے سرکاری پروگرام کے آغاز کا شیوراج حکومت نے جاری کیافرمان، مسئلے پر سیاست ہوئی شروع
شیوراج سنگھ چوہان نے اردو کے مشہور شاعر راحت اندوری کے انتقال کو مدھیہ پردیش اور ملک کیلئے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔

مدھیہ پردیش میں شیوراج حکومت کے نئے احکام سے پھر ایک سیاسی بحث شروع ہوگئی ہے۔ نیا احکام حکومت کے محکمہ جی اے ڈی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے  حکومت کے احکام میں سبھی سرکاری پروگرام کا آغاز بیٹیوں کی پوجا سے کرنے کا نہ صرف حکم دیا گیاہے بلکہ اس پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ بی جے پی حکومت کے احکام کو جہاں بیٹیوں کی عزت اور وقار کے طور پر پیش کر رہی ہے وہیں کانگریس نے اسے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے اور بیٹوں کے نام پر ڈھونگ کرنے سے تعبیر کیا ہے جبکہ ماہرین قانون اور سماجی تنظیمیں اسے آئین کی خلاف ورزی سے تعبیر کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے پندرہ اگست دوہزار بیس کو سرکاری پروگرام کا آغاز بیٹیوں کے ذریعے کرانے کا اعلان تو کیاتھا مگر اس تعلق سے کوئی سرکاری احکام جاری نہیں کیا گیا تھا۔

وزیر اعلی کے بیان پر عمل کرتے ہوئے محکمہ جی اے ڈی نے نہ صرف احکام جاری کیا ہے بلکہ اس پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت دی ہے ۔ بیٹیوں کی پوجا سے سرکاری پروگروام کا آغاز کئے جانے کا احکام جاری ہونے کے بعد مدھیہ پردیش میں سیاست جاری ہوگی ہے۔ سیاست صرف کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہی جاری نہیں ہے بلکہ اس میں سماجی تنظیمیں بھی کود پڑی ہیں۔ مدھیہ پردیش کانگریس ترجمان بھوپیندر گپتا کہتے ہیں کہ بیٹوں کے نام پر سرکار اپنی ناکامی کو چھپانے کا ڈھونگ کر رہی ہے ۔


ایک جانب مدھیہ پردیش میں بیٹیوں کی عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بیٹوں پر ظلم و ستم کی ہر روز نئی عبارت لکھی جارہی ہے۔ ظلم کرنے والے، عصمت دری کرنے والے بے خوف گھوم رہے ہیں۔ وہیں سرکار بیٹیوں کی پوجا سے سرکاری پروگرام کا آغاز کرنے کا ڈھونگ کر رہی ہے۔ سرکار کو چاہیئے بیٹیوں کے خلاف ہونے والے ظلم وزیادتی کے واقعات کو روکے، مہنگائی اور بڑھتی بے روزگار پر روک لگائے، کورونا قہر میں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرے مگر سرکار بنیادی کام چھوڑ کر وہ سبھی کام ک رہی ہے جس سے اس کی سیاست جاری رہے اور عوام گمراہ ہوتی رہے ۔


وہیں مدھیہ پردیش کے پروٹیم اسپیکر رامیشور شرما کانگریس پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کانگریس کیاجانے بیٹوں کی عزت اور وقار کیا ہوتا ہے۔ کانگریس بتائے بیٹوں  کی پوجا سے اگر سرکاری پروگرام کا آغاز ہوتا ہے تو اس میں اسے اعتراض کس بات پر ہے ۔ جو لوگ بیٹوں کی عزت کرنا نہیں جانتے ہیں وہی لوگ سرکار کے احکام کی مخالفت کر رہے ہیں ۔بیٹوں کی عزت کرنا اور بیٹوں کی پوجا سے پروگرام کاآغاز کرنا ہماری سنسکرت کا حصہ رہا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور سرکار بھارتیہ سنسکرت کو بچانے اور آگے بڑھانے کا کام جاری رکھےگی ۔
وہیں سماجی کارکن عبد النفیس کہتے ہیں کہ ہندستان ایک سیکولر جمہوری ملک ہے ۔ ملک کا کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ آئین کی نظر میں سبھی مذاہب کو برابری کا درجہ دیاگیا ہے۔ سرکار اس طرح کے احکام کو جاری کر کے ایک مذہب کی نہ صرف بالا دستی قائم کرنا چاہتی ہے بلکہ یہ احکام آئین کی روح کے بھی منافی ہے ۔پھر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ سرکاری پروگرام میں جو بیٹیاں بلائی جائیں گی وہ کس سماج کی ہوں گی سرکار نے اس پر بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ سرکار اپنا احکام اگر واپس نہیں لیتی ہے تو اس کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا ۔
Published by: sana Naeem
First published: Dec 25, 2020 03:47 PM IST