உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوپال کی شان زری زردوزی کا کام خستہ حالی کا شکار، فنکاروں کا حکومت سے بڑا مطالبہ

    ہم غریب لوگ ہیں اور ہمارے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہوتا ہے کہ ہم خام مال بڑی مقدار میں حرید کر اپنے پاس رکھ سکیں اور اگر حکومت کی سرپرستی ہو جائے اور ہمیں مارکیٹ دینے کے ساتھ مقررہ قیمت پر خام مال فراہم کیا جائے تو اس فن کو نئی زندگی ملنے کے ساتھ فنکاربھی خوشحال ہو جائے ۔

    ہم غریب لوگ ہیں اور ہمارے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہوتا ہے کہ ہم خام مال بڑی مقدار میں حرید کر اپنے پاس رکھ سکیں اور اگر حکومت کی سرپرستی ہو جائے اور ہمیں مارکیٹ دینے کے ساتھ مقررہ قیمت پر خام مال فراہم کیا جائے تو اس فن کو نئی زندگی ملنے کے ساتھ فنکاربھی خوشحال ہو جائے ۔

    ہم غریب لوگ ہیں اور ہمارے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہوتا ہے کہ ہم خام مال بڑی مقدار میں حرید کر اپنے پاس رکھ سکیں اور اگر حکومت کی سرپرستی ہو جائے اور ہمیں مارکیٹ دینے کے ساتھ مقررہ قیمت پر خام مال فراہم کیا جائے تو اس فن کو نئی زندگی ملنے کے ساتھ فنکاربھی خوشحال ہو جائے ۔

    • Share this:
    زری زردوزی کے قدم فن کو بھوپال نوابی عہد کی شان سمجھا جاتا ہے ۔نوابوں کی نگری بھوپال کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو یہاں کے قدرتی مناظر،جھیلوں اورتالابوںڈ تاریخی عمارتوں کے ساتھ زری زردوزی کا ذکر لازمی جزہوتا ہے۔ بیگمات کے عہد میں زری زردوزی کے فن کی نہ صرف خصوصی سرپرستی کی گئی تھی  بلکہ  نواب شاہجہاں بیگم اور نواب سلطان جہاں بیگم کے عہد میں زری زردوزی کے فنکاروں کی  نہ صرف خاص سرپرستی کی گئی بلکہ زری زردوزی کے فنکاروں کو خاص مارکیٹ دینے کے لئے بھوپال میں پری بازار کے نام سے ایک خصوصی مارکیٹ بھی تیار کیا گیاتھا جس میں خواتین ہی خریدار اور خواتین ہی دکاندار ہوتی تھیں ۔ آزادی کے بعد حالانکہ اس فن کو زندہ رکھنے کے لئے اور اسے نئی زندگی دینے کےلئے حکومت کی جانب سے اعلانات تو بہت کئے گئے ہیں لیکن یہ اعلانات کبھی وعدہ وفاتک نہیں پہنچ سکے ۔
    زری زردوزی کے قدم فن سے وابستہ یوسف خان کہتے ہیں کہ اس فن سے گزشتہ پینتس سال وابستہ ہوں ۔بزرگوں کے سے قدیم فن کو سیکھا تھا اور اب یہی ذریعہ معاش بھی ہے ۔حالانکہ کورونا قہر میں کام بند ہونے کے سبب کئی بار کئی بار ایسے بھی حالات ہوئے کہ اس کا بیان لفظوں میں ممکن نہیں ہے۔ اس فن کو سکھاتے ہیں اور اس سے جو کچھ بھی ملتا ہے اس سے گزر بسر ہوتا ہے ۔حکومت باتیں تو کرتی ہے لیکن ان کی باتیں صرف باتیں تک ہی محدود ہیں حالانکہ اس فن کی صرف بھوپال ہی نہیں بلکہ مدھیہ پردیش کے باہر دوسرے صوبوں میں بھی ہے ۔
    وہیں زری زردوزی کے فنکار محمد حنیف کہتے ہیں کہ اب اس فن سے ہمارا تار نفس جڑا ہوا ہے ۔ کام تو اتنا آتا ہے کہ ہم  لوگ وقت پر پورا نہیں کر پاتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ ہم غریب لوگ ہیں اور ہمارے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہوتا ہے کہ ہم خام مال بڑی مقدار میں حرید کر اپنے پاس رکھ سکیں اور اگر حکومت کی سرپرستی ہو جائے اور ہمیں مارکیٹ دینے کے ساتھ مقررہ قیمت پر خام مال فراہم کیا جائے تو اس فن کو نئی زندگی ملنے کے ساتھ فنکاربھی خوشحال ہو جائے ۔



    وہیں بھوپال کے قدیم فن سے ہما خان تین دہائیوں سے وابستہ ہیں ۔ ہما خان کے کام اور زری زردوزی میں انکی خدمات کو دیکھتے ہوئے مدھیہ پردیش حکومت انہیں صوبائی ایوارڈ سے بھی سرفراز کرچکی ہے ۔ہما خان اس فن کو سکھانے کا بھی کام کرتی ہیں ۔ہما خان کہتی ہیں کہ زری زردوزی ،بھوپالی بٹوا ہمارے بھوپال کی شان ہے ۔ شیوراج سنگھ جی نے  بھوپال کے قدیم فن کو روزگار سے جوڑ کر نئے مواقع فراہم کرنے کا اعلان تو کیا ہے اب یہ اعلان کب وعدہ وفا ہوگا اس کا انتظار ہے ۔حکومت اپنے اعلان کا عشر عشیر بھی کردے گی تو اس سے نہ صرف قدم فن کو نئی زندگی ملے گی بلکہ زری زردوزی سے وابستہ فنکاروں کے بھی اچھے دن آجائیں گے ۔امید ہے کہ حکومت اپنے اعلانات کو جلد عملی جامہ  پہنائے گی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: