உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں میں تقرری کا نہیں ہے کوئی ضابطہ

    ایم پی جمعیت علما اور مدھیہ پردیش سدبھاؤنا منچ نے اقلیتی اداروں میں تقرری ضابطہ نافذ کرنے کو لیکر مہم شروع کی ہے ۔ اس سلسلے میں سماجی تنظیموں نے گورنر اور سی ایم کو میمورنڈم بھی بھیجا ہے ۔

    ایم پی جمعیت علما اور مدھیہ پردیش سدبھاؤنا منچ نے اقلیتی اداروں میں تقرری ضابطہ نافذ کرنے کو لیکر مہم شروع کی ہے ۔ اس سلسلے میں سماجی تنظیموں نے گورنر اور سی ایم کو میمورنڈم بھی بھیجا ہے ۔

    ایم پی جمعیت علما اور مدھیہ پردیش سدبھاؤنا منچ نے اقلیتی اداروں میں تقرری ضابطہ نافذ کرنے کو لیکر مہم شروع کی ہے ۔ اس سلسلے میں سماجی تنظیموں نے گورنر اور سی ایم کو میمورنڈم بھی بھیجا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کو لیکر یوں تو کی ادارے کام کر رہے ہیں لیکن کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں ہے جہاں پر ملازمین کی تقرری کا کوئی باضابطہ نظام ہو اور یہاں کے ملازمین کو ریٹائر منٹ کے بعد وہیں سہولیات میسر ہوتی ہوں جو مدھیہ پردیش کے دوسرے سرکاری اداروں کے ملازمین کو حاصل ہیں ۔ اقلیتی اداروں میں تقرری ضابطہ نہیں ہونے کے سبب ملازمین کی سروس کمیٹیوں کے چیرمین اور اراکین کمیٹی کی خوشنودی پر منحصر ہوتا ہے۔ ایم پی جمعیت علما اور مدھیہ پردیش سدبھاؤنا منچ نے اقلیتی اداروں میں تقرری ضابطہ نافذ کرنے کو لیکر مہم شروع کی ہے ۔ اس سلسلے میں سماجی تنظیموں نے گورنر اور سی ایم کو میمورنڈم بھی بھیجا ہے ۔
    مدھیہ پردیش جمعیت علما ضلع بھوپال کے سکریٹری حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بد نصیبی اور کیا ہوگی کہ ایک جانب ملک میں آزادی کا امرت مہوتسو منایا جارہا ہے وہیں دوسری جانب مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں میں آج تک تقرری کا کوئی ضابطہ نافذ نہیں کیا جا سکا ہے ۔ اقلیتی اداروں میں ملازمین کی تقرری کاانحصار کمیٹیوں کے چیرمین اور اراکین کمیٹی کی خوشنودی پر ہوتا ہے ۔ ایک چیرمین آتا ہے اپنے چار چھ لوگوں کا تقررکرتا ہے اور سابقہ کمیٹی کے لوگوں کو نکال کر باہر کھڑا کردیتا ہے ۔

    اگر اقلیتی اداروں میں تقرری کا ضابطہ ہوگا تو ملازمین کمیٹیوں کے چیرمین اور اراکین کمیٹی کی خوشنودی نہ کر کے اپنی پوری توجہ اپنے کام پر مرکوزکرینگے ۔ہم نے اس سلسلہ میں گورنر اور سی ایم دونوں کو میمورنڈم بھیجا ہے اور اس پر اگر عمل نہیں ہوا تو اس کے لئے ہم احتجاج کے ساتھ عدالت سے بھی رجوع کرینگے ۔
    وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے اقلیتی فلاح و بہبود رام کھلاون پٹیل کہتے ہیں کہ مدھیہ پردیش میں اقلیتیوں اور اقلیتی اداروں کی خستہ حالی کے لئے کانگریس ذمہ دار ہے ۔ کانگریس نے اقلیتیوں سے ووٹ تو لیا لیکن ان کے اداروں اور انکی خستہ حالی کو دور کرنے کا کبھی کام نہیں کیا۔کچھ لوگوں کے ذریعہ میمورنڈم دیا گیا ہے اور اس کو لیکر ہم نے پہل شروع کردی ہے ۔اور جلد ہی اقلیتی اداروں میں تقرری کا با ضابطہ نظام ہوگا۔
    وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹری عبدالنفیس نے اقلیتی وزیر رام کھلاون پٹیل کے بیان پر اپنے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کو اقلیتی اداروں اور اقلیتیوں کی فکر کتنی ہے اس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دوہزار اٹھارہ مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں میں کمیٹیوں کی تشکیل ہی نہیں کی گئی ہے ۔

    حج کمیٹی ،مساجد کمیٹی ،مدرسہ بورڈ،اقلیتی کمیشن ،وقف بورڈ میں کوئی کمیٹی ہی نہیں ہے ۔یہی نہیں مساجد کمیٹی کی گرانٹ جو کمل ناتھ حکومت میں بڑھائی گئی تھی اس کے بجٹ میں بھی دیڑھ کروڑ سے زیادہ کی کٹوٹی کردی گئی ہے ۔مدرسہ بورڈ اساتذہ کو پانچ سال سے اسی حکومت نے تنخواہ نہیں دی ہے ۔حکومت کو اقلیتیوں کی فکر ہے تو پہلے اقلیتی ادارے کی تشکیل کرے اور اقلیتوں کے مسائل کرے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: