உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوپال گیس سانحہ کے ذمہ دارا ن کو نہیں ملی ایک دن کی بھی سزا

    گزشتہ سینتس سالوں میں مدھیہ پردیش میں بی جے پی اور کانگریس کی ہی حکومتیں رہیں ہیں لیکن دونوں ہی پارٹیوں کی حکومتوں نے گیس متاثرین  کے زخموں پر مرہم لگانے کے بجائے سیاست کی ہے۔

    گزشتہ سینتس سالوں میں مدھیہ پردیش میں بی جے پی اور کانگریس کی ہی حکومتیں رہیں ہیں لیکن دونوں ہی پارٹیوں کی حکومتوں نے گیس متاثرین کے زخموں پر مرہم لگانے کے بجائے سیاست کی ہے۔

    گزشتہ سینتس سالوں میں مدھیہ پردیش میں بی جے پی اور کانگریس کی ہی حکومتیں رہیں ہیں لیکن دونوں ہی پارٹیوں کی حکومتوں نے گیس متاثرین کے زخموں پر مرہم لگانے کے بجائے سیاست کی ہے۔

    • Share this:
    بھوپال گیس سانحہ کو دنیا کا سب سے بڑا صنعتی حادثہ کہا جاتا ہے۔ دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات کو بھوپال میں جو رات کو سوئے انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ اس رات کی صبح نہیں ہوگی اور صبح ہوگی بھی تو اتنی بے نور نہیں ہوگئی کہ وہ اپنوں سے دور ہو جائیں گے ۔ دو اور تین دسمبر کی درمیانی رات کو بھوپال یونین کاربائیڈ کارخانے سے نکلنے والی ایم آئی سی گیس سے سپریم کورٹ کی رپورٹ کے مطابق پندرہ ہزار دو سو تیہتر لوگوں کی موت ہوئی تھی اور پانچ لاکھ باہترہزار دو سو چوہتر لوگ زہریلی گیس سے متاثر ہوئے تھے ۔ گیس متاثرین کے ساتھ زہریلی گیس کا ستم تو تھا ہی اس وقت کی راجیو گاندھی حکومت نے عدالت سے باہر کمپنی سے جو سمجھوتہ کیا تھا اس میں تین ہزار موت اور ایک لاکھ دو ہزار گیس متاثرین کا معاوضہ شامل تھا ۔یہی وجہ ہے کہ بھوپال گیس متاثرین اپنی حکومتوں پر ہی کمپنی کے ساتھ ملکر دھوکہ کرنے کاالزام لگا رہے ہیں اور پانچ گنا معاوضہ کا مطالبہ کر تے ہیں ۔ گزشتہ سینتس سالوں میں مدھیہ پردیش میں بی جے پی اور کانگریس کی ہی حکومتیں رہیں ہیں لیکن دونوں ہی پارٹیوں کی حکومتوں نے گیس متاثرین  کے زخموں پر مرہم لگانے کے بجائے سیاست کی ہے۔ گیس متاثرین علاج اور معاوضہ کی بات کرتے ہیں لیکن گیس سانحہ کے سینتس سال بعد حکومت کے ذریعہ گیس حادثہ کی یاد میں میموریل بنانے کی بات کو بھی اپنے لئے ایک دھوکہ قرار دیتے ہیں ۔
    شیوراج کابینہ کے وزیر و مدھیہ پردیش کے گیس راحت وزیر وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ بی جے پی حکومت گیس متاثرین کے مسائل کے لئے سنجیدہ ہے ۔ حکومت نے جو بھی وعدہ کیاتھا وہ وعدہ پورا کیا ہے ۔ کانگریس حکومت نے گیس متاثرین کے ساتھ دھوکہ کیا تھا لیکن شیوراج سنگھ سرکار نے گیس متاثرین کی بیواؤں کو پینشن جاری کرنے کے ساتھ ان کے علاج کا بھی بہترین انتظام کیا ہے ۔ حکومت کے ذریعہ گیس حادثہ کی یاد میں میموریل بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس سے گیس متاثرین کو روزگار کے مواقعہ بھی فراہم ہونگے ۔
    وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کے سکریٹری عبد النفیس کہتے ہیں کہ سرکار نے گیس متاثرین کے لئے کون سا کام کیا ہے وہ تو بتادے۔ گیس متاثرین کے علاج کے لئے اسپتال قائم کرنے اور ڈسپنسریاں قائم کرنے کا کام کانگریس حکومتوں نے کیا ہے ۔ معاوضہ تقسیم کرنے کا کام بھی کانگریس عہد میں ہی ہوا۔ شیوراج سنگھ سرکار نے پہلے گیس متاثرہ بیوہ خواتین کی پینشن بند کی پھر آدھی ادھوری جاری کی ہے ۔ سترہ سالوں میں شیوراج سنگھ حکومت کے ذریعہ گیس متاثرین کے مسائل کو جس طرح سے نطر انداز کیاگیا ہے اس کی کہیں نظیر نہیں ملتی ہے ۔ سو کروڑ کی لاگت سے میموریل بنانے میں سرکار کی دلچسپی اس لئے ہے تاکہ اس میں پیسوں کی بندر بانٹ کی جا سکے ۔
    بھوپال گیس متاثرین کے لئے کام کرنے والی تنظیم چنگاری ٹرسٹ کی مینجنگ ٹرسٹی رشیدہ بی کہتی ہیں کہ حکومت بتائے کہ میموریل بننے سے گیس متاثرین کو کیا ملے گا۔ کیا میموریل بننے سے گیس متاثرین کا علاج ہو جائے گا ۔میموریل بنانے کا اعلان سرکار کا ایک دھوکہ ہے  اور اسے قبول نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
    بھوپال گروپ فار ایکشن اینڈ انفارمیشن کی کنوینر رچنا ڈھینگرا کہتی ہیں کہ گیس حادثہ کی یاد میں میموریل بنانے کی بات سن کر ہنسی آتی ہے ۔ جس یونین کاربائیڈ کارخانہ کے نیچے ہزاروں میٹرک ٹن کیمیکل کچرا پڑا ہوا ہے اس کی صفائی کئے بغیر میموریل کیسے بنایا جا سکتا ہے۔یہی نہیں زہریلے کچرے کے سبب یونین کاربائیڈ کارخانہ سے متصل بیالیس سے زیادہ بستیوں کا زیر زمین پانی بھی آلودہ ہوچکاہے ۔گیس متاثرین جو مطالبہ کر رہے ہیں حکومت اس کی بات نہیں کر رہی ہے ۔حکومت زہریلی گیس کو صاف کرنے اورگیس متاثرین کو علاج و معاوضہ دینے کی بات نہیں کرتی ہے بلکہ مسائل سے گمراہ کرنے کا کام کررہی ہے ۔

    وہیں بھوپال گیس پیڑٹ مہیلا ادھوگ سنگٹھن کی صدر رئیسہ بی کہتی ہیں کہ حادثہ کو سینتس سال ہوچکے ہیں لیکن آج تک دنیا کے سب سے بڑے صنعتی حادثہ کے ذمہ داران کو ایک دن  کی بھی سزا حکومتیں نہیں دے سکیں ۔ ہماری حکومتیں گیس متاثرین کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے کمپنیوں کی طرفداری کرتی ہیں ۔ سینتسویں برسی پر ہم لوگ نئے عہد کے ساتھ تحریک چلانے کا عہد کرتے ہیں اور جب تک مسائل نہیں ہوتے ہیں تحریک جاری رہے گی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: