ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں سیلاب کے درمیان بی جے پی کے اپنوں نے بڑھائیں حکومت کی مشکلیں

وزیر اعلی ہیلی کا پٹر کے ذریعہ سیلاب متاثرہ علاقہ کا دورہ کرناچاہتے تھے لیکن موسم کی خرابی کے سبب وزیر اعلی کا ہیلی کاپٹر اڑ نہیں سکا اورانہوں نے سڑک کے ذریعہ چاندپور کا دورہ کیا۔

  • Share this:

مدھیہ پردیش کے گوالیار چمبل ڈیویزن میں مسلسل بارش اور ندیوں میں آئی طغیانی کے سبب جہاں بارہ سو پچاس گاؤں سیلاب کی زد میں آکر برباد ہوگئے ہیں۔ وہیں حکومت کے اقدام کو نا کافی بتاتے ہوئے اب کانگریس کے ساتھ بی جے پی لیڈران کی مخالفت نے شیوراج سنگھ حکومت کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ گوالیار چمبل ڈیویزن کے شیوپور، شیوپوری ،دتیا اور مرینہ میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے جہاں ساٹھ راحت کیمپ لگائے گئے ہیں۔ وہیں این ڈی آر ایف ، ایس ڈی آر ایف ،آرمی اور فضائیہ کے دس ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ اب بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے ۔ ریسکیو آپریشن کے ذریعہ ساڑھے بارہ ہزار سے لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا جاچکا ہے ۔

واضح رہے کہ گوالیار چمبل ڈویزن میں آئے سیلاب میں ایک دو نہیں بلکہ سندھ اور دوسری ندیوں پر تعمیر کئے گئے چھ پل سیلاب میں بہہ گئے ہیں ۔ وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے سیلاب متاثرہ علاقہ کا دورہ کیا ۔  وزیر اعلی ہیلی کا پٹر کے ذریعہ سیلاب متاثرہ علاقہ کا دورہ کرناچاہتے تھے لیکن موسم کی خرابی کے سبب وزیر اعلی کا ہیلی کاپٹر اڑ نہیں سکا اورانہوں نے سڑک کے ذریعہ چاندپور کا دورہ کیا۔  وزیر اعلی نے سیلاب متاثرین میں جن کے گھرکا نقصآن ہوا ہے انہیں گھراور جن کی فصل کے نقصان نے سیلاب میں جانوروں کی موت ہوئی ہے انہیں ہر طرح کے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔

گوالیار چمبل ڈیویزن کے شیوپور،شیپوری،مرینہ ،دتیا،بھنڈ میں آئے سیلاب اور تباہی کے لئےسینئر بی جے پی لیڈر و سابق وزیر انوپ مشرا نے شیوراج سنگھ حکومت کی کارکردگی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انوپ مشرا کا کہنآ ہے کہ حکومت نے محکمہ موسمیات کے الرٹ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کآم کیا ہوتا توعلاقہ میں سیلاب کو لیکر صورتحال اتنی پیچدہ نہیں ہوتی اور ہم بڑی تباہی سے بچ سکتے تھے ۔اانوپ مشرانے سیلاب میں چھ پل بہنے کے معاملے کی جانچ کا مطالبہ کیاہے۔ وہیں جب انوپ مشراکے ذریعہ حکومت پر لگائے الزام کے بارے میں گوالیار کے انچارج وزیر تلسی سلاوٹ سے بات کی گئی تو وہ اپنادامن بچاتے نظر آئے ۔


مدھیہ پردیش کانگریس ترجمان بھوپیندر گپتاکہتے ہیں کہ سیلاب کے بیچ جب حکومت کوعوام کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے تب یہ حکومت میٹنگ میٹنگ کھیل رہی ہے ۔ سیلاب میں کآنگریس کے زمآنے میں پچآس سآل قبل بنائے گئے پل محفوظ ہیں لیکن شیوراج سنگھ کی حکومت میں دس سے پندرہ سآل کے بیچ جو پل بنائے گئے تھے اس میں سے چھ پل سیلاب میں بہہ گئے ہیں ۔پل بہنے کی واردت حکومت کی ٹھیکہ پرتھااور اپنوں کو نوازنے کی روایت کی جانب اشارہ کرتی ہے ۔سیلاب میں جو چھ پل بہہ گئے ہیں اس کی اعلی سطحی جانچ کی جانے پر سچائی سامنے آجائے گی ۔کانگریس کارکنان کے ذریعہ اخبار کی سرخیوں سے الگ ہٹ کر خدمت کام کیا جارہاہے ۔اور جب تک سبھی لوگ محفوظ نہیں ہو جآتے ہیں کانگریس کاعوامی خدمت کامشن جاری رہے گا۔

Published by: Sana Naeem
First published: Aug 05, 2021 08:25 PM IST