உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خستہ حالی قبرستان کو خوبصورت گارڈن میں تبدیل کرنے کا معاملہ، نیوز 18 اردو کی خبر کے بعد بھوپال سے شروع ہوئی تحریک

    جمعیت علما اور سد بھاؤنا منچ کے ذریعہ مثالی قبرستان قائم کرنے کی مہم کو راجدھانی بھوپال کے ہلال پور قبرستان سے شروع کیا ہے ۔

    جمعیت علما اور سد بھاؤنا منچ کے ذریعہ مثالی قبرستان قائم کرنے کی مہم کو راجدھانی بھوپال کے ہلال پور قبرستان سے شروع کیا ہے ۔

    جمعیت علما اور سد بھاؤنا منچ کے ذریعہ مثالی قبرستان قائم کرنے کی مہم کو راجدھانی بھوپال کے ہلال پور قبرستان سے شروع کیا ہے ۔

    • Share this:
    نیوز 18 اردو کی خبر نے ایک بار پھر اپنا اثر دکھایا ہے ۔ راج گڑھ ضلع کے پچور میں عوامی تعاون سے خستہ حالی قبرستان کو خوبصورت گارڈن میں تبدیل کرنے کی خبر کو مدھیہ پردیش جمعیت علما اور سد بھاؤنا منچ نے سنجیدگی سےلیتے ہوئے ریاست گیر سطح پر مثالی قبرستان قائم کرنے کی مہم شروع کر دی ہے۔ جمعیت علما اور سد بھاؤنا منچ کے ذریعہ مثالی قبرستان قائم کرنے کی مہم کو راجدھانی بھوپال کے ہلال پور قبرستان سے شروع کیا ہے ۔ سماجی تنظیموں کے ذریعہ ریاست کے سبھی اضلاع میں عوامی تعاون سے قبرستانوں کی شکستہ حالی کو دور کرتے ہوئے مثالی قبرستان قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔
    جمعیت علما بھوپال کے صدر حافظ اسمعیل بیگ کہتے ہیں کہ نیوز ایٹین اردو کی خبر نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں ۔ ہم لوگ قبرستانوں کی صفائی ،خستہ حالی کو لیکر حکومت کے ادارے اور وقف بورڈ سے بار بار اپیل کرتے ہیں لیکن پچور کے لوگوں نے اپنے عمل سے بتادیا کہ عوامی تعاون سے بھی بڑا سے بڑا کام کیا جاسکتا ہے ۔ پچور کے لوگوں نے جس طرح سے آٹھ بیگھہ زمین پر شکستہ حال قبرستان کو خوبصورت گارڈن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اسی طرح سے ہم لوگوں نے بھی نیوز ایٹین اردو کی خبر کے بعد راجدھانی بھوپال سے مثالی قبرستان کی مہم شروع کی ہے۔ بھوپال کے تاریخی ہلالپور قبرستان سے ہم لوگوں نے مہم شروع کی ہے ۔



    حالانکہ یہ قبرستان نوابی عہد کا ہے اور اس قبرستان میں اتنے اہم اہم لوگ آسمان ادب کے مدفون ہے جس کاہمیں اندازہ ہی نہیں تھا۔ نیوز ایٹین اردو کا شکریہ کہ انکے نمائندے ڈاکٹر مہتاب عالم نے بتایا کہ اس قبرستان میں ممتاز ناقد ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری بھی مدفون ہیں ۔ یہ وہی بجنوری ہیں جنہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ڈرافٹ لکھا تھا۔ انہوں نے ہی عالب کے وہ غیر مطبوعہ کلام جس کی انیس سو اٹھارہ میں بھوپال میں دریافت ہوئی تھی اس کا مقدمہ لکھا تھا۔اس قبرستان کی خستہ حالی کو دور کرنے کے ساتھ ڈاکٹر بجنوری کی قبرکو بھی درست کیا جائے گا۔
    وہیں سد بھاؤنا منچ کے صدر حاجی محمد عمران کہتے ہیں کہ سد بھاؤنا منچ کے ذریعہ پہلے بھی عوامی فلاح کےکام کئے گئے ہیں اب ایک بار پھر قبرستانوں کی درستگی کو لے کر مہم شروع کی گئی ہے اور اس کا کریڈٹ نیوزایٹین اردو کو جاتاہے۔سد بھاؤنا منچ کے اراکین جمعیت علما کے ساتھ مل کر نہ صرف بھوپال بلکہ ریاست گیرسطح پر کام کرینگے۔

    وقف بورڈ اور حکومت کے دوسرے اداروں سے اپیل کر کرکے ہم لوگ تھک چکے ہیں۔ اب عوامی تعاون سے اسی طرح سے قبرستانوں کو درست کرنے اور اس کو مثالی قبرستان میں تبدیل کرنے کام شروع کیا گیا ہے جیسا کہ پچور کے لوگوں نے کیا ہے۔ انشا اللہ ہماری مشترکہ کوشش رنگ لائے گی اور عوام کی بیداری و عوام کے تعاون سے ہم اپنے مشن میں کامیاب ہونگے ۔سدبھاؤنا منچ کے ذریعہ جمعیت کے اشتراک سے ڈاکٹر عبد الرحمن بجنوری کی حیات و خدمات پر سمینار کا بھی انعقاد کیا جائے گا تاکہ دنیاکو یہ معلوم ہو سکے کہ ایک شخص نے محض تینتس سال کی عمر میں اتنا عظیم ادبی سرمایہ کیسے تخلیق کیا ہے اور اس کی قبر عدم توجہی کے سبب کس خستہ حالی کا شکار تھی جسے اب درست کیا جا رہا ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: