உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش میں اقلیتیوں کا درد لا علاج، 2018 سے صوبہ میں بدل چکے دو سی ایم، مگر اقلیتی اداروں کی اب تک نہیں ہوئی تشکیل

    Youtube Video

    مدھیہ پردیش میں 2018 سے اب تک دو سی ایم بدل چکے ہیں مگر اقلیتی اداروں کی تشکیل نہ تو کمل ناتھ کے عہد میں کی گئی اور نہ ہی شیوراج سنگھ کے عہد میں ۔حالانکہ بی جے پی کے ذریعہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کی باتیں تو خوب کہی جاتی ہیں مگر عملی طور پر جہاں بات اقلیتوں کی ہوتی ہے وہاں پر سب کا ساتھ سب کا وکاس کی باتیں بے معنی ہو جاتی ہیں ۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں اقلیتوں کا درد لا علاج ہوتا جا رہا ہے ۔ اقلیتوں کا ووٹ تو سبھی پارٹیوں کو چاہیئے مگر اقلیتوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہے ۔ مدھیہ پردیش میں 2018 سے اب تک دو سی ایم بدل چکے ہیں مگر اقلیتی اداروں کی تشکیل نہ تو کمل ناتھ کے عہد میں کی گئی اور نہ ہی شیوراج سنگھ کے عہد میں ۔حالانکہ بی جے پی کے ذریعہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کی باتیں تو خوب کہی جاتی ہیں مگر عملی طور پر جہاں بات اقلیتوں کی ہوتی ہے وہاں پر سب کا ساتھ سب کا وکاس کی باتیں بے معنی ہو جاتی ہیں ۔ مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں میں جن میں وقف بورڈ ،حج کمیٹی ،مدرسہ بورڈ،مساجد کمیٹی، اقلیتی کمیشن کو 2018  سے اپنے سربراہ کا انتظار ہے مگر حکومتیں اس جانب دیکھنے کو تیار نہیں ہیں ۔ قومی اقلیتی کمیشن کی رکن سیدہ شہزادی بھی مدھیہ پردیش میں دو روزہ دورے پر آئیں ہیں مگر ان کے پاس بھی تشدد زدہ کھرگون جانے کا وقت نہیں ہے جبکہ کانگریس نے سیدہ شہزادی کے ایم پی دورے کو بی جے پی کی انتخابی سیاست کے ایک حصہ سے تعبیر کیا ہے۔
    نیوز 18 اردو سے خاص بات چیت کے دوران سید شہزادی نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں اقلیتی اداروں کی تشکیل کے معاملے میں کہا کہ میں کوئی پالیٹکل کمینٹ تو نہیں کرسکتی ہوں لیکن اس تعلق سے جو ہماری افسران کے ساتھ میٹنگ ہوئی تو پتہ چلا کہ یہاں پر وقف بورڈ کی کمیٹی نہیں ہے۔

    ریاستی اقلیتی کمیشن بھی تشکیل نہیں دیا گیا ہے ،حج کمیٹی بھی تشکیل نہیں دی گئی ہے لیکن اس تعلق سے ہم چیف منسٹر اور چیف سکریٹری کو لکھیں گے کہ اس پر کاروائی کی جائے اور فوری کمیٹی تشکیل دی جائے جب ان سے پوچھا گیا کہ جب اقلیتوں کے لئے قائم کئے گئے ادارے ہی مفلوج ہیں تو اقلیتیں اپنے مسائل لیکر کہاں جائیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ مشکل تو ہے اور ہم نے مسلم خواتین کی اسکل ڈیولپمنٹ کے لئے ادارہ قائم کرنے کو لیکر بات کی ہے ۔اور ہم چاہتے ہیں کہ مسلم کمیونٹی سے زیادہ سے زیادہ انٹرایکشن کو بڑھایا جائے ۔اسی کے ساتھ کچھ درگاہوں کی بھی زیارت کرینگے ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ سب جگہ جا رہی ہیں تو پھر کھرگون جہاں پر تشدد ہوا وہاں پر اقلیتوں کا حال جاننے کے لئے دورہ کیوں نہیں تو انہوں نے بتایا کہ کھرگون ان کے دورے میں شامل نہیں ہے ۔اگر کچھ وقت رہا تو دیکھیں گے ۔

    Gyan Vapi مسجد پر ہورہی سیاست پر علما کا ردعمل، ہندو۔مسلم چھیڑ کر سیاسی مفاد حاصل نہ کریں


    وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کے سکریٹر عبد النفیس کہتے ہیں کہ جب قلیتی کمیشن کی رکن کے پاس کھرگون جانے کا وقت نہیں ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا دورہ مدھیہ پردیش میں اقلیتیوں کے مسائل کے لئے نہیں بلکہ اقلیتوں کو گمراہ کرنے کے لئے ہے ۔ شہزادی صاحبہ کو مسلمانوں کے آنسو پوچھنا ہوتے تو وہ کھرگون جاکر دیکھتیں کہ وہاں پر پولیس نے یکطرفہ مظالم کیسے کئے ہیں ۔ یہی نہیں ہم نے نیوز 18 اردو پر ان کے پورے بیان کو سنا ہے ۔اقلیتی اداروں کی تشکیل کو لیکر بھی وہ دامن بچاتی ہوئی نظر آئی ہیں ۔شہزادی میں حوصلہ نہیں ہے کہ وہ اقلیتی طبقہ کے مسائل کو لیکر پارٹی فورم یا حکومت کی سطح پر بات کرسکیں ۔انہیں بھی معلوم ہے کہ اگر حق بیانی ہوگی تو پھر انکی کرسی بھی خطرے میں ہوگی۔ سید شہزادی نے اپنے دو روزہ دورے کے پہلے دن افسران سے ملاقات کے بعد مسلم دانشوروں سے بھی ملاقات کی اور ان کے بیچ پارٹی کے نظریات اور کاموں کو پیش کیا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: