உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھوپال میں مرزا غالب پر دو روزہ عالمی مذاکرہ کا انعقاد

    بھوپال۔ مد ھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں پہلی بار مرزاغالب پر عالمی مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔

    بھوپال۔ مد ھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں پہلی بار مرزاغالب پر عالمی مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔

    بھوپال۔ مد ھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں پہلی بار مرزاغالب پر عالمی مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      بھوپال۔ مد ھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں پہلی بار مرزاغالب پر عالمی مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔ عالمی مذاکرہ میں مختلف زبانوں کے دانشوروں نے شرکت کی اور غالب کی شاعری و نثر کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ عالمی مذاکرہ میں اردو کے ساتھ ہندی اور انگریزی زبان کے دانشوروں نے بھی شرکت کی ۔


      دو روزہ  عالمی مذاکرہ کے پہلے دن افتتاحی سیشن کے بعد دو خاص ٹیکنیکل  سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ ٹیکنیکل سیشن میں ممتاز ماہرین غالب نےغالب کی شاعری پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ٹیکنیکل سیشن میں جہاں مختلف حوالوں سے اردو شاعری میں غالب کی شاعرانہ عظمت  کو پیش کرنے کی کوشش کی  گئی، وہیں  ہندی زبان کے ممتاز ادیب ڈاکٹر نریش نےغالب کی شاعری میں تصوف پر اپنا مقالہ پیش کیا ۔ پروفیسر حیدر عباس رضوی نے غالبیات کے فروغ میں ریاست بھوپال کے کردار پر اپنا مقالہ پیش کیا۔


      افتتاحی سیشن کے دوسرے اجلاس میں مقالہ نگاروں نے غالب کی شاعری کے ساتھ اردو نثر میں غالب کی خدمات اور بالخصوص خطوط غالب اور اس کے اسالیب پر روشنی ڈالی ۔اس موقع پر مقالہ نگاروں نے غالب کے اردو کلام کے ساتھ ان کے فارسی کلام پر بھی از سرنو روشنی ڈالنے پر زور دیا تاکہ غالب شناسی کے نئے پہلو اردو قارئین کے سامنے آسکیں۔ دو روزہ عالمی مذاکرہ کے پہلے دن کے دونوں اجلاس میں  غالب کو جہاں مختلف حوالوں سے سمجھنے کی کوشش کی گئی،  وہیں دوسرے دن کے اجلاس میں غالب کا ترقی پسند فکر و شعور،غالب کی شاعری میں خیالات کی نزاکت،ہندی میں غالب اور غٓالب کے تخلیقی رنگ کے عنوان سے مقالہ نگار اپنے مقالے پیش کرین گے ۔

      First published: