ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

اردو اکیڈمی سے محروم جھارکھنڈ، 19 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی نہیں تشکیل ہوسکی اکادمی

ریاست کی تشکیل کو 19 سال کا عرصہ گذر گیا، لیکن اردو اکیڈمی کے قیام کے تعلق سے ریاستی حکومت صرف وعدوں سےکام لیتی رہی ہے۔ اب اس سلسلے میں وزیراعلیٰ ہیمنت سورین سے ملاقات کرنے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔

  • Share this:
اردو اکیڈمی سے محروم جھارکھنڈ، 19 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی نہیں تشکیل ہوسکی اکادمی
ریاست کی تشکیل کو 19 سال کا عرصہ گذر گیا، لیکن اردو اکیڈمی کے قیام کے تعلق سے ریاستی حکومت صرف وعدوں سےکام لیتی رہی ہے۔ اب اس سلسلے میں وزیراعلیٰ ہیمنت سورین سے ملاقات کرنے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔

جھارکھنڈ میں اردو اکیڈمی کی عدم موجودگی سے ریاست میں اردو زبان و ادب کو خاصا نقصان ہو رہا ہے۔ ریاست کی تشکیل کو 19 سال کا عرصہ گذر گیا، لیکن اردو اکیڈمی کے قیام کے تعلق سے ریاستی حکومت صرف وعدوں سےکام لیتی رہی ہے۔ حالانکہ ریاست کی تشکیل کے ساتھ ہی ریاست میں انجمن ترقی اردو بہارکے طرز پر ریاست میں انجمن ترقی اردو جھارکھنڈ کے قیام کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ سماجی اور سیاسی جماعتوں کےلوگ مختلف طریقوں سے ارباب اقتدارتک اپنی آواز پہنچاتے رہے ہیں اور اس ضمن میں مطالبہ کرتے رہے ہیں، لیکن حکومت اس وعدے کو اب تک پورا نہیں کر پائی ہے۔


قابل غور بات ہےکہ سال 2008 میں حکومت وقت نے اردو زبان کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیئے جانےکے تعلق سے اعلان کیا، لیکن اب تک اس کا عملی نفاذ نہیں کیا جاسکا ہے۔ اردو اکیڈمی کی عدم موجودگی سے ریاست میں اردو زبان ذبوں حالی کی شکار ہو گئی ہے۔ اردو اسکولوں کے ساتھ ساتھ دیگر اسکولوں میں اردو اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ ماہرین کے مطابق پرائمری سطح سے لےکر پی جی سطح تک اردو اساتذہ کی شدید کمی ہے ساتھ ہی اردو اسکولوں میں اردو کتابوں کا فقدان ہے۔ اردو کتابوں کی عدم دستیابی سے اردو طلبا ہندی کتابیں پڑھنے پر مجبور ہیں ادباء، شعراء اورمصنفین کی تخلیقات منظر عام پرنہیں آپارہی ہیں۔


جھارکھنڈ میں 19 سال کے بعد بھی اردو اکیڈمی کی تشکیل نہیں سے اردو داں طبقہ مایوس ہے۔
جھارکھنڈ میں 19 سال کے بعد بھی اردو اکیڈمی کی تشکیل نہیں سے اردو داں طبقہ مایوس ہے۔


انجمن ترقی اردو جھارکھنڈ کے صدر پروفیسر ابوذرعثمانی کاکہنا ہےکہ 15 نومبر 2000 میں ریاست جھارکھنڈ کی تشکیل کےساتھ ہیں بہار ری آرگنائزیشن ایکٹ کےتحت جھارکھنڈ میں اردو اکیڈمی کا قیام ہو جانا چاہئے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نےحکومت کے اس رویہ پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئےکہا کہ سابقہ حکومت نے ان کے مطالبات پورے کرنے سےقاصر رہی، لیکن جلد ہی وہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے ملاقات کرکے اس تعلق سے مطالبہ کریں گے۔ ابوذر عثمانی نے واضح کیا کہ اردو اکیڈمی کی عدم موجودگی کی وجہ نئےقلمکار، مصنفین، شعراء و ادباء کی حوصلہ افزائی نہیں ہو پارہی ہے، جس وجہ سے اردو زبان کی ترقی کا امکان روشن نہیں ہو پارہا ہے۔

جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین سے جلد ہی اردو اکادمی کی تشکیل کے لئے ملاقات کرنے کا منصوبہ ہے۔
جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین سے جلد ہی اردو اکادمی کی تشکیل کے لئے ملاقات کرنے کا منصوبہ ہے۔


واضح رہےکہ ریاستی اقلیتی کمیشن کے موجودہ چیئرمین کمال خان کی کوششوں سے سابقہ بی جے پی حکومت نے مختلف زبانوں پر مشتمل لینگویج اکیڈمی کےقیام کا یقین دلایا تھا۔ حکومت کے اس منصوبے پر اردو داں حلقوں میں شدید ناراضگی دیکھی گئی۔ ماہرین کی دلیل تھی کہ لینگویج اکیڈمی سے اردو زبان کی ترقی کا امکان پوری طرح روشن نہیں ہو سکتا ہے۔ بحرحال سابقہ حکومت کے یہ وعدے بھی پورے نہیں ہو پائے۔ اب دیکھنا ہےکہ انجمن ترقی اردو جھارکھنڈ کے ساتھ ساتھ اردو اکیڈمی کے قیام کے حق میں آوازیں اٹھانے والی تنظیموں جیسے انجمن بقائے ادب، جھارکھنڈ تنظیم ، آل مسلم یوتھ اسوسی ایشن جیسی تنظیموں کی کوششیں موجودہ ہیمنت سورین حکومت میں کس طرح کامیاب ہو پاتی ہیں۔
First published: Feb 03, 2020 10:26 PM IST