உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش کا ایک ایسان خاندان جو 1771 سے آج تک کررہا ہے اردو کی خدمت

    بھوپال : مدھیہ کے باندا خاندان نے جہاں مالوہ پر حكومت کی وہیں اس میں اردو کی خدمت کا ایسا جذبہ رہا ہے کہ اب تک تقریبا 15 دیوان اس خاندان کےمنظر عام میں آ چکے ہے ۔

    بھوپال : مدھیہ کے باندا خاندان نے جہاں مالوہ پر حكومت کی وہیں اس میں اردو کی خدمت کا ایسا جذبہ رہا ہے کہ اب تک تقریبا 15 دیوان اس خاندان کےمنظر عام میں آ چکے ہے ۔

    بھوپال : مدھیہ کے باندا خاندان نے جہاں مالوہ پر حكومت کی وہیں اس میں اردو کی خدمت کا ایسا جذبہ رہا ہے کہ اب تک تقریبا 15 دیوان اس خاندان کےمنظر عام میں آ چکے ہے ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      بھوپال : مدھیہ کے باندا خاندان نے جہاں مالوہ پر حكومت کی وہیں اس میں اردو کی خدمت کا ایسا جذبہ رہا ہے کہ اب تک تقریبا 15 دیوان اس خاندان کےمنظر عام میں آ چکے ہے ۔


      ایک وقت تھا جب اردو دفتری زبان هوا کرتی تھی اور اسے سرکاری زبان کا ردجہ حاصل تھا، مگر رفتہ رفتہ اس زبان پر ایسا زوال آگیا اور دیگر صوبوں ساتھ ساتھ مدھیہ پردیش میں بھی یہ زبان خستہ حالی کا شکار هو گئی اور اس کو تیسری اور چوتھے درجے کی زبان بنا دیا گیا۔ مگر ان حالات میں بھی ریاست کے اس نواب خاندان نے اپنی ذمہ داری سے منہ نہیں موڑا اور اردو کی خدمت کرتا رہا ۔


      قابل ذکرہے کہ مدھیہ پردیش میں باندا کا قیام 1771 میں ہوا اور اس وقت سے ہی اس خاندان نے اردو کی خدمت شروع کی جو آج تک جاری ہے۔ باندا کے پہلے حاکم شمشیر بہادر اول نے کئی اسکول، کالج، مدرسے بھی قایم کئے۔ ان میں اردو ، ہندی، انگریزی، عربی، فارسی کی تعلیم کا بندوبست تھا۔ اسی خاندان کے صیف علی بہادر کا دیوان صیف و قلم کو کچھ سال قبل مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی بھی شائع کرچکی ہے۔


      اس خاندان کا رشتہ عظیم شاعر مرزا غالب سے بھی هے۔ مرزا غالب 1827 میں باندا آئے تھے اور ایک ماہ قيام کیا تھا اور انہون نے اس خاندان پرایک نظم بھی لکھی تھی ۔ اس خاندان میں اردو کی خدمت کو لے کر اتنی دیوانگی ہے کہ اب تک تقریبا 15 دیوان منظر عام پر آ چکے ہیں اور آج بھی یہ خاندان اپنا ریاستی دور ختم ہونے کے بعد بھی اردو کی خدمت کررہا ہے۔

      First published: