ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

یوم تاسیس : 20 سال کا ہوا جھارکھنڈ ، ریاست میں مختلف پروگراموں کا انعقاد

جھارکھنڈ آرمڈ پولیس گراونڈ میں جھارکھنڈ پولیس کے زیر اہتمام منعقدہ پولیس پریڈ تقریب کے موقع پر وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے ریاست کی تشکیل کے لئے ہونے والے جدو جہد میں تحریک کاروں کی قربانیوں کو یاد کیا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا ۔

  • Share this:
یوم تاسیس : 20 سال کا ہوا جھارکھنڈ ، ریاست میں مختلف پروگراموں کا انعقاد
یوم تاسیس : 20 سال کا ہوا جھارکھنڈ ، ریاست میں مختلف پروگراموں کا انعقاد

ریاست جھارکھنڈ کی تشکیل کو آج بیس سال کا عرصہ ہو گیا ۔ 15 نومبر سال 2000 کو ایک لمبے جدو جہد کے بعد ریاست بہار سے الگ ہو کر علاحدہ ریاست کے طور پر جھارکھنڈ کا وجود عمل میں آیا تھا ۔ یوم تاسیس کے موقع پر ریاست میں کئی سرکاری سطح پر تقاریب کا انعقاد کیا گیا ۔ آج ہی کے دن لارڈ برسہ منڈا کی بھی یوم پیدائش منائی جاتی ہے ۔ اس تعلق سے لارڈ برسہ منڈا کی سمادھی پر ریاست کے گورنر دروپدی مورمو اور ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے گل پوشی کی ساتھ ہی شہر کے برسہ چوک پر واقع لارڈ برسہ منڈا کے مجسمہ پر بھی گورنر دروپدی مورمو اور وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے گل پوشی کی ۔


جھارکھنڈ آرمڈ پولیس گراونڈ میں جھارکھنڈ پولیس کے زیر اہتمام منعقدہ پولیس پریڈ تقریب کے موقع پر وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے ریاست کی تشکیل کے لئے ہونے والے جدو جہد میں تحریک کاروں کی قربانیوں کو یاد کیا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا ۔ اس موقع پر انگریزی حکومت کے خلاف تحریک چلانے والے ریاست کے عظیم مجاہد آزادی برسہ منڈا ، شہید سدھو کانہو ، شہید شیخ بھیکھاری ، نیلامبر پیتامبر جیسے شہیدوں اور مجاہد آزادی کی قربانیوں کو بھی یاد کیا ۔


واضح رہے کہ ریاست کی تشکیل کے لئے ہونے والے جدو جہد میں کثیر تعداد میں مسلمانوں نے بھی تحریک چلائی ۔ ان تحریکوں کے دوران کئی لوگوں کو اپنی جان کی بھی قربانی دینی پڑی ۔ مسلم طبقہ کو بھی امیدیں تھیں کہ علاحدہ ریاست کے طور پر قیام ہونے سے ان کی بھی تیز رفتار سے ترقی کا امکان روشن ہوگا، لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سب سے زیادہ نقصان ریاست کی تقریباً 15 فیصدی مسلم اقلیت کو ہوئی ہے ۔


انجمن بقائے ادب کے جنرل سیکریٹری نصیر افسر کا کہنا ہے کہ بہار ری آرگنائزیشن ایکٹ کے تحت متحدہ بہار میں حاصل تمام حقوق ریاست جھارکھنڈ کے اقلیتی آبادی کو فوراً فراہم کیا جانا چاہئے تھا ۔ لیکن ان آئینی حقوق سے ریاست کی مسلم اقلیت اب تک محروم ہے ، ان میں سے اردو اکیڈمی اور مدرسہ بورڈ بھی شامل ہے ، جس کا قیام اب تک نہیں ہو پایا ہے ۔ نصیر افسر کہتے ہیں کہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے اردو اکیڈمی کے قیام کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا اردو اکیڈمی کی عدم موجودگی کی وجہ سے اردو شعراء ، ادباء ، قلمکاروں اور مصنفین کی حوصلہ افزائی نہیں ہو پا رہی ہے ۔

وہیں اردو گرلس اسکول کے سینئر ٹیچر سمیع اللہ خان اصدقی نے واضح کیا کہ اردو اسکولوں میں اردو اساتذہ کی شدید کمی ہے ۔ ساتھ ہی اردو کتابوں کا فقدان ہے ، جس وجہ کر اردو اسکولوں کو ہندی اسکولوں میں ضم کیا جا رہا ہے یا طلبہ کو ہندی پڑھنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے ۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے سیکولر کردار کا دم بھرنے والی ہیمنت سورین حکومت اپنے دور اقتدار میں اقلیتوں کی امیدوں پر کتنا خرا اترتی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 15, 2020 11:42 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading