ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش وقف بورڈ کی ساری املاک ہوئی سرکاری، بورڈ کو خبر بھی نہیں: جانیں پورا معاملہ

مدھیہ پردیش میں وقف بورڈ کی ناک کے نیچے وقف املاک کو ریوینو ریکارڈ میں سرکاری درج کردیاگیا اور بورڈ کو خبر بھی نہیں ہوئی۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش وقف بورڈ کی ساری املاک ہوئی سرکاری،  بورڈ کو  خبر بھی نہیں: جانیں پورا معاملہ
ایم پی وقف بورڈ کی ساری املاک ہوئی سرکاری

مدھیہ پردیش میں وقف بورڈ کی ناک کے نیچے وقف املاک کو ریوینو ریکارڈ میں سرکاری درج کردیاگیا اور بورڈ کو خبر بھی نہیں ہوئی۔ اب اسے بورڈ کی نا اہلی کہیں یا عدم توجہی یا محکمہ ریونیو کی سازش کے ایم پی وقف بورڈ کی ایک دو املاک نہیں بلکہ چھبیس ہزار چارسو اٹھائیس املاک کو ریوینو ریکارڈ میں سرکاری درج کردیا گیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ کام راتوں رات کیاگیا ہے بلکہ یہ وقف املاک کو سرکاری درج کرنے کا کھیل لمبے عرصے سے جاری تھا۔ سابقہ شیوراج سنگھ  حکومت نے جب محکمہ ریوینوکی اس کارستان سے نیوز ایٹین اردو نے پردہ اٹھایا تھا تو شیوراج حکومت نے اس عمل پر خاموشی اختیار کی اور جب دو ہزار اٹھارہ میں صوبہ میں اقتدار کی منتقل ہوئی تو سابق اقلیتی وزیر عارف عقیل کے ذریعہ اس سلسلے میں کئی بار کی میٹنگ کی گئی تاکہ  محکمہ ریونیو میں وقف املاک کے ریکارڈ کو درست کیا جاسکے۔

سابقہ حکومت میں محکمہ ریونیونے مانا تھا کہ سافٹ ویئر کے چلتے اس طرح کا معاملہ سامنے آیاتھا اور اب بہت جلد اس معاملے میں ریکارڈ کو درست کر لیا جائے گا ۔ اس پہلے کی ریکارڈ درست ہوتا مدھیہ پردیش میں سرکار پھر بدل گئی اور وقف املاک کو ریونیوریکارڈ میں سرکاری لکھنے کا معاملہ ایک بار پھر التوا میں چلاگیا۔ حالانکہ شیوراج حکومت میں محکمہ ریوینو اور لینڈریکارڈ کی دوبار میٹنگ ہوچکی ہے مگر اس میں وقف املاک کے ریکارڈ کو درست کرنے کا معاملہ پیش ہی نہیں کیاگیا۔ محبان بھارت کمیٹی نے اس معاملے میں اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ریوینو ریکارڈ کو درست کرنے اور وقف املاک کو وقف کے خانے میں لکھنے کو لیکر مدھیہ پردیش کے اقلیتی وزیر رام کھلاون پٹیل کے ساتھ ملاقات اور ان سے ریکارڈ کو درست کرنے کا مطالبہ کیا ۔ یہی نہیں محبان بھارت کے اراکین نے اس سلسلہ  میں مدھیہ پردیش وقف بورڈ سی ای  او محمد احمد خا ن کو بھی میمورنڈم پیش کرکے معاملے میں سخت قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ۔


محبان بھارت کمیٹی کے قومی صدر جاوید بیگ کہتے ہیں کہ ایسانہیں ہے کہ وقف بورڈ کی چھبیس ہزار چارسو اٹھائیس املاک غلطی سے ریوینوریکارڈ میں سرکاری لکھدی گئی ہیں بلکہ یہ عمل ایک سازش کے تحت کیاگیا ہے تاکہ اقلیتی طبقہ اور اس کے بزرگوں کے ذریعہ وقف کی گئی املاک کو خرد برد کیا جا سکے ۔ محکمہ ریوینو کے ذریعہ وقف املاک کو سرکاری لکھنے کے ساتھ مساجد اور مکاتب کو سرکاری لکھدیا گیا ہے۔ اگر اسے فوری طور پر درست نہیں کیاگیا تو آنے والے دنوں میں نیا فتنہ شروع ہوگا اور ہماری املاک کے ساتھ ہماری عبادت گاہوں سے ہمیں دور کردیا جائے گا۔


مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے سی ای او محمد احمد خان کہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں محکمہ ریوینو کو وقف بورڈ کی جانب سے سبھی دستاویز کو بھیج دیا گیا ہے۔ فروری کے مہینے میں کچھ پیش رفت ہوئی تھی ۔ ابھی کام جاری رہنے کی بات  کی جا رہی ہے لیکن ہمارے پاس کوئی تحریری ثبوت نہیں ہے ۔ در اصل محکمہ ریوینو نے جب اپنے ریکارڈ کو کمپوٹرائزڈ کیاتو اس نے سافٹ ویئر میں زمینوں کے اندراج کے لئے سرکاری اور غیر سرکاری  کے نام سے صرف دو کالم ہی بنائے ۔ یہی وجہ ہے کہ وقف کی ساری املاک کو ریکارڈ میں سرکاری لکھ دیا گیا ہے۔ہمیں امید ہے کہ جلد ہی ریکارڈ کو درست  کرلیا جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایم پی وقف بورڈ میں گزشتہ دو سالوں سے بورڈ کے نام پر نہ کوئی کمیٹی ہے اور نہ ہی کوئی چیرمین ۔ یہی وجہ ہے کہ بورڈ کو اپنے کام کو لیکر اور بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Sep 29, 2020 07:20 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading