உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شر پسند عناصر نے مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں ایک فرقہ کے لوگوں کا جلایا گھر اور گاڑی

    Youtube Video

    واضح رہے کہ کھنڈوا کے گنیش تلائی علاقہ میں شوکت علی کا گھر اور سلیم بیگ کی گاڑی جلائی گئی ہے۔ شرپسند عناصر کے خلاف کاروائی نہیں کئے جانے سے کانگریس نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ حکومت کا دعوی ہے کہ مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ کی حکومت ہے اور یہاں پر قانون کا راج چلتا ہے ۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ حکومت قانون کا راج ہونے کا بھلے ہی کتنا دعوی کرے لیکن زمینی حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے ۔ اجین، آلوٹ، سرانا کے معاملے ابھی سرد بھی نہیں پڑے تھے کہ مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں ایک فرقہ کے لوگوں کا گھراور گاڑی جلانے کے  واقعہ سے حکومت کی چار جانب مخالفت ہونے لگی ہے۔ کھنڈوا میں شر پسند عناصر کے ذریعہ نہ صرف ایک فرقہ کے لوگوں کے ساتھ مارپیٹ کی گئی بلکہ  گھر اور گاڑی بھی نذر آتش کردی گئی ۔ حالانکہ پولیس کے ذریعہ معاملہ درج کیاگیا ہے اور پولیس اس بات کو تسلیم کرری ہے  کہ جس شخص نے گاڑی اور گھر جلانے کا کام کیا ہے وہ عادتا غنڈہ ہے لیکن ایف آئی آر درج ہونے کے بعد شرپسند عناصر کے خلاف کاروائی نہیں کئے جانے سے کانگریس نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ حکومت کا دعوی ہے کہ مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ کی حکومت ہے اور یہاں پر قانون کا راج چلتا ہے ۔
    واضح رہے کہ کھنڈوا کے گنیش تلائی علاقہ میں شوکت علی کا گھر اور سلیم بیگ کی گاڑی جلائی گئی ہے ۔ کھنڈوا تھانہ کوتوالی کے ایس ایچ او بلجیت سنگھ بیسین کہتے ہیں کہ  ہمارے یہاں کوڈیاہنومان مندر کے پاس کا جو علاقہ ہے وہاں کا رہنے والا  دیپک عرف بنٹی عادتت غنڈہ ہے ۔یہ ہمارے یہاں کا نگرانی شدہ غنڈہ بد معاش ہے۔ اس نے کل دو مسلم خاندان کے ساتھ مارپیٹ کی تھی اور اس کے خلاف معاملہ درج کیاگیاتھا اور رات میں بھی اس کے ذریعہ ایک بند گھر میں آگ لگانے اورایک آٹو میں بھی اس نے آگ زنی کی ہے ۔ان سبھی معاملوں میں اس کے خلاف معاملہ درج کیاگیا ہے۔اس کی تلاش جاری ہے جیسے ہی ملتا ہے اس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

    وہیں بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود کہتے کہ میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ اتنے حساس معاملے میں وزیر اعلی اور وزیر داخلہ سنجیدہ کیوں نہیں ہو رہے ہیں۔ ایک جانب مدھیہ پردیش کو شانتی کا ٹاپو کہتے ہیں وہیں دوسری جانب مدھیہ پردیش کو آشانتی کی جانب کون لے جا رہا ہے ۔وہ کون سے عناصر ہیں ان پر کیا کاروائی ہو رہے ہیں اس پر حکومت خاموش ہے ۔اجین کے واقعہ میں بھی میں نے کہا تھا کہ انتظامیہ کی سطح پر ایک طرفہ کاروائی کی گئی۔ آلوٹ میں بھی یہی ہوا ۔اور ابھی کھنڈوا کے شوکت اور سلیم جن کا گھر اور مکان جلایا گیا ہے ان کے معاملے میں بھی یہی ہو رہا ہے ۔ا نکو لیکر میں نے افسران سے بات کی ہے۔ بنٹی نگرانی شدہ غنڈہ ہے۔



    پولیس بھی اس بات کو تسلیم کر رہی ہے اور اس نے واردات کے ہونے کو بھی قبول کیا ہے ۔پتھر جس کے گھر سے آئے گا یہ قانون بنانے کی بات تو اسمبلی میں آئی  لیکن مکان جلانے والے کے بارے میں حکومت خاموش ہے ۔ کھنڈوا کے معاملے میں چوبیس گھنٹے ہوگئے لیکن  آگ لگانے والے پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔اس کو نہ گرفتار کیاگیا اور نہ ہی اس کا گھر گرایا گیااور وہ  نہ پولیس کو مل رہا اور پولیس کا ہر بار کی طرح ایک رٹا رٹایا جواب ہے  کہ تلاش جاری ہے ۔تو میں اس معاملے کو بہت سنجیدہ مانتا ہوں  اور یہ سب کچھ مدھیہ پردیش کے لئے اچھا نہیں ہے۔میں نیوز ایٹین اردو کے ذریعہ وزیر داخلہ سے پھر اپیل کرتا ہوں کہ نروتم مشرا جی آپ ہر چیز پر ٹی وی پر روز بیان دیتے ہیں لیکن ان تینوں معاملوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس پر کب کاروائی ہوگی اس کے بارے میں بھی بتائیں۔

    وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ کی حکومت ہے اور یہاں پر قانون و ضابطہ کے تحت کام ہوتا ہے۔ مدھیہ پردیش میں جو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کا کام کریگا اس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔ کانگریس منھ بھرائی کی سیاست کرتی ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: