உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شیوراج کابینہ کی توسیع کو لے کر مدھیہ پردیش میں سیاسی سرگرمیاں ہوئیں تیز

    شیوراج کابینہ کی توسیع میں بی جے پی کے لئے سب سے بڑی مشکل اپنے لیڈران کے ساتھ سندھیا خیمہ کے لیڈران کوخوش کرنا ہے۔

    شیوراج کابینہ کی توسیع میں بی جے پی کے لئے سب سے بڑی مشکل اپنے لیڈران کے ساتھ سندھیا خیمہ کے لیڈران کوخوش کرنا ہے۔

    شیوراج سنگھ نے تیئس مارچ کو بطور وزیر اعلی چوتھی بار اپنے عہدے کا حلف لیا تھا لیکن اب تک لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر کابینہ کی توسیع نہیں ہو سکی ہے۔

    • Share this:
    بھوپال۔ مدھیہ پردیش میں جہاں ایک طرف کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ جاری ہے وہیں شیوراج کابینہ میں توسیع کو لیکر سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ شیوراج سنگھ نے تیئس مارچ کو بطور وزیر اعلی چوتھی بار اپنے عہدے کا حلف لیا تھا لیکن اب تک لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر کابینہ کی توسیع نہیں ہو سکی ہے۔

    مدھیہ پردیش میں وزیر اعلی کے ساتھ کابینہ کے نہیں ہونے پر پچھلے دنوں سابق سی ایم کمل ناتھ نے شیوراج سنگھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس وقت شیوراج سنگھ نے چودہ اپریل کے بعد کابینہ توسیع کا اشارہ دیا تھا۔ بی جے پی لیڈر جیوترا دتیہ سندھیا کی امت شاہ سے ملاقات کے بعد ایم پی میں نہ صرف سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے بلکہ کابینہ کی توسیع اور متوقع وزرا کے ناموں کو لیکر بھی سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ کابینہ کتنی بڑی ہو گی یہ تو الگ بات ہے لیکن کمل ناتھ کابینہ میں شامل رہے جیوترا دتیہ سندھیا کے حامیوں کو شیوراج سنگھ کا بینہ میں جگہ دینے کو لیکر  امت شاہ اور سندھیا کی ملاقات کافی اہم سمجھی جا رہی ہے۔



    ذرائع کے مطابق، سندھیا نے اپنے لیڈران کو جو کمل ناتھ کابینہ میں شامل رہے ہیں انہیں اچھے عہدوں کے ساتھ شیوراج سنگھ کابینہ میں جگہ دینے کی وکالت کی ہے۔ سندھیا نے شیوراج سنگھ کابینہ میں تلسی رام سلاوٹ، مہیندر سنگھ سسودیا، پربھورام چودھری، گووند سنگھ راجپوت، پردیو من سنگھ تومر اور امرتی دیو کے ناموں کی پر زور انداز میں وکالت کی ہے۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: