உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پروفیسر آفاق احمد میموریل قومی ایوارڈ تقریب کا انعقاد ، اردو اور ہندی ادب میں نمایاں خدمات کے لئے ضیا فاروقی اور سنتوش چوبے کو قومی ایوارڈ سے کیاگیا سرفراز

    پروفیسر آفاق احمد میموریل قومی ایوارڈ تقریب کا انعقاد ، اردو اور ہندی ادب میں نمایاں خدمات کے لئے ضیا فاروقی اور سنتوش چوبے کو قومی ایوارڈ سے کیاگیا سرفراز

    پروفیسر آفاق احمد میموریل قومی ایوارڈ تقریب کا انعقاد ، اردو اور ہندی ادب میں نمایاں خدمات کے لئے ضیا فاروقی اور سنتوش چوبے کو قومی ایوارڈ سے کیاگیا سرفراز

    سب رنگ کلچرل سوسائٹی اور حلقہ ارباب ادب کے زیر اہتمام بھوپال میں پروفیسر آفاق احمد میموریل قومی ایوارڈ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    • Share this:
    بھوپال : سب رنگ کلچرل سوسائٹی اور حلقہ ارباب ادب کے زیر اہتمام بھوپال میں پروفیسر آفاق احمد میموریل قومی ایوارڈ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ بھوپال اسٹیٹ میوزیم میں منعقدہ قومی ایوارڈ تقریب میں تخلیقی ادب میں نمایاں خدمات کے لئے ممتاز ادیب سنتوش چوبے کو ہندی ادب اور ضیا فاروقی کو اردو ادب میں گرانقدر خدمات کے لئے پروفیسر آفاق احمد میموریل قومی ایوارڈ سے سرفرا ز کیا گیا۔

    واضح رہے کہ پروفیسر آفاق احمد کا شمار اردو کے ممتاز ادیب، نقاد، ماہر تعلیم، ماہر اقبالیات، افسانہ نگار، شاعر اور بہترین مترجم کے طور پر ہوتا تھا ۔ پروفیسر آفاق احمد نے پریوں کی کہانی سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا تھا اور پرشور خاموشی ، امانت قلب و نظر کے نام سے کتابیں لکھ کر اردو ادب میں اضافہ کا کیا تھا۔ پروفیسر آفاق احمد نے ممتاز افسانہ نگار راج گوپال آچاریہ کے افسانوں کا ہندی میں ایک کرن اجالے کے نام سے ترجمہ بھی کیا تھا ۔ پروفیسر آفاق احمد مدھیہ پردیش اردو اکادمی، اقبال مرکز اور سندھی اکادمی کے سکریٹری بھی رہے ہیں اور تین اداروں کے سربراہ ہوتے ہوئے وہ صرف ایک روپے ماہانہ نذرانہ کے طور پر قبول کرتے تھے۔ پروفیسر آفاق احمد ہاکی کے بھی بہترین کھلاڑی تھے اور انہوں نے ہاکی کے جادوگر دھیان چند کے ساتھ ہاکی بھی کھیلا تھی۔

    پروفیسر آفاق احمد کے انتقال کے بعد سب رنگ کلچرل سو سائٹی اور حلقہ اربا ب ادب کے ذریعہ پروفیسر آفاق احمد میموریل قومی ایوارڈ کا اعلان کیا گیا۔ دوہزار انیس میں یہ قومی ایوارڈ اردو کے ممتاز ادیب پروفیسر مظفر حنفی اور ہندی کے نمائندہ ادیب و شاعر راجیش جوشی کو دیا گیا تھا ۔ امسال یہ ایوارڈ ہندی ادب میں نمایاں خدمات کے لئے سنتوش چوبے اور اردو ادب میں گرانقدر خدمات کے لئے ضیا فاروقی کو پیش کیا گیا ۔ بھوپال اسٹیٹ میوزیم میں منعقدہ پروگرام میں دونوں فنکاروں کو شال ، مومینٹو کے ساتھ نقد رقم بھی پیش کی گئی ۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پروفیسر آفاق احمد کا شمار اردو اور ہندی ادب میں ایک برج کے طور پر ہوتا تھا ۔ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین مدھیہ پردیش کے صدر بھی رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نام سے قومی ایوارڈ اردو کے ساتھ ہندی ادب میں نمایاں خدمات انجام دینے والے فنکار کو پیش کیا جاتا ہے ۔

    سب رنگ کلچرل سوسائٹی کے سکریٹری شایان قریشی کہتے ہیں کہ پروفیسر آفاق احمد جس مشترکہ تہذیب کے علمبردار تھے ہماری کوشش ہے کہ ادب کے حوالے سے ان کی تحریک کو زندہ رکھا جائے۔ آج ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے ایک بار پھر اردو اور ہندی کے دونوں نمائندہ ادیبوں کو پروفیسر آفاق احمد میموریل ایوارڈ پیش کیا ہے ۔ یہ دونوں ہی ادیب سنتوش چوبے اور ضیا فاروقی اپنی ادبی تحریروں کے لئے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ۔ بلکہ ان کی تحریریں ہمارے لئے مشعل راہ کا درجہ رکھتی ہیں۔

    پروفیسر آفاق احمد میموریل ایوارڈ حاصل کرنے والے ہندی کے ممتاز ادیب سنتوش چوبے کہتے ہیں کہ میرے لئے یہ بات باعث فخر ہے کہ مجھے پروفیسر آفاق احمد میموریل ایوارڈ دیا گیا ہے ۔ آفاق صاحب خود ایک بڑے ادیب اور ناقد تھے اوران کی کہانیوں میں جوعصری معنویت ہے اسے نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت ہے ۔

    پروفیسر آفاق احمد میموریل قومی ایوارڈ حاصل کرنے والے اردو کے ممتاز ادیب وشاعر ضیا فاروقی کہتے ہیں کہ ایوارڈ کا ملنا یقینا باعث فخر ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئی نسل اپنے اسلاف کو یاد کرنے کا ہنر جاتی ہے ۔ ہمارے بیچ سے ادب کے کتنے آفتاب ومہتاب چلے گئے اور آج ان کے نام کو یاد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ سب رنگ کلچرل سوسائٹی او رحلقہ ارباب ادب نے جو قدم اٹھایا ہے اس سے نہ صرف پروفیسر آفاق احمد کی ادبی خدمات نئی نسل تک پہنچے گی بلکہ تخلیقی ادب میں نمایاں کارنامہ انجام دینے والوں کو بھی حوصلہ ملےگا۔

    پروگرام کے صدر ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر حسن مسعود نے ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر آفاق ان لوگوں میں سے تھے جنہیں تہذیب کی آبیاری کا جنون تھا۔ انہوں نے ساری زندگی اردو اور ہندی کے مابین جاری خلیج کو ختم کرنے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ دونوں زبانوں کے ادیبوں کو نزدیک لانے میں جو کردار ادا کیا ہے ، وہ قابل تحسین ہے ۔

    پروگرام میں ڈاکٹر شفیع ہدایت قریشی ، ڈاکٹر نصرت مہدی، رام پرکاش ترپاٹھی، دیوی سرن ، راجیش جوشی، بدرواسطی نے بھی اظہار خیال کیا اور پروفیسر آفاق احمد کے افکاراور ادبی تحریروں کی نئی معنویت کو نئی نسل تک پہنچانے پر زور دیا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: