وياپم گھوٹالہ: ایک اور میڈیکل طالب علم کی موت کا وياپم کنکشن تلاش کرے گي سی بی آئی

مدھیہ پردیش۔ وياپم گھوٹالے کی جانچ کر رہی سی بی آئی نے بھوپال کے گاندھی میڈیکل کالج کے طالب علم راہل سولنکی کے موت کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی۔

Jul 25, 2015 04:13 PM IST | Updated on: Jul 25, 2015 04:14 PM IST
وياپم گھوٹالہ: ایک اور میڈیکل طالب علم کی موت کا وياپم کنکشن تلاش کرے گي سی بی آئی

مدھیہ پردیش۔ وياپم گھوٹالے کی جانچ کر رہی سی بی آئی نے بھوپال کے گاندھی میڈیکل کالج کے طالب علم راہل سولنکی کے موت کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی۔ ایس ٹی ایف نے راہل کی موت کو مشکوک نہیں مانا تھا۔ وياپم معاملے کے ملزم کی موت کو خودکشی بتایا گیا تھا۔

سی بی آئی نے اب ان اموات کی تحقیقات کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے، جنہیں ایس ٹی ایف نے وياپم سے منسلک نہیں مانا ہے۔ اسی کڑی میں راہل سولنکی کی موت کے معاملے میں تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ راہل کی لاش میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں ملی تھی۔ دسمبر 2012 میں ہوئے اس واقعہ کو دارالحکومت کی  پولیس نے خودکشی مانا تھا۔

Loading...

موت کا بعد ہوا انکشاف

راہل کی موت کے وقت کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ بھی وياپم گھوٹالے سے منسلک ہے۔ بعد میں انکشاف ہوا تھا کہ گوالیار کے جھانسی روڈ پولیس تھانے پر اس کے خلاف کیس درج ہے۔ راہل پر الزام تھا کہ اس نے دلالوں سے رابطہ کر کچھ طالب علموں کو فرضی طریقے سے میڈیکل کالج میں ایڈمیشن کرایا تھا۔

ذہنی دباؤ میں تھا راہل

ہاسٹل میں راہل کے کمرے سے پولیس کو علاج کی پرچياں اور دوائیاں ملی تھیں۔ اس کا اندازہ لگایا گیا تھا کہ راہل انتہائی ذہنی دباؤ میں تھا اور اس کا اندور میں علاج چل رہا تھا۔ پولیس نے دعوی کیا تھا کہ ذہنی تنائو کی وجہ سے راہل ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھا رہا تھا۔

کیس ڈائری طلب، کال تفصیلات کھنگالی جائیں گی

سی بی آئی نے متعلقہ تھانہ کی پولیس سے راہل کی موت سے وابستہ کیس ڈائری طلب کی تھی۔ اسی کیس ڈائری کے جائزہ کے بعد سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کی ہے۔ سی بی آئی کو اندیشہ ہے کہ راہل کے ذہنی دباؤ کے پیچھے کسی کا دباؤ ہو سکتا ہے۔ یہ دباؤ کس کا تھا اور کس وجہ سے راہل پریشان تھا، اس کی معلومات حاصل کرنے کے لئے راہل کی کال تفصیلات کھنگالی جائیں گی۔

اٹھارہ اموات تحقیقات کے دائرے میں

وياپم معاملے میں ایس ٹی ایف کی جانچ شروع ہونے سے لے کر اب تک 48 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ سپریم کورٹ نے 9 جولائی کو وياپم کی جانچ سی بی آئی کو سونپی تھی۔ سی بی آئی نے گزشتہ پیر کو بھوپال پہنچ کر تحقیقات شروع کی تھی۔ سی بی آئی اب تک اس معاملے میں کل 18 اموات کو جانچ کے دائرے میں لے چکی ہے، جس میں صحافی اکشے سنگھ کی موت بھی شامل ہے۔ اسی کے ساتھ جانچ ٹیم نے 12 نئی ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔

چار سو اکیانوے ملزم اب بھی فرار

اب تک تحقیقات کر رہی ایس ٹی ایف نے وياپم گھوٹالے کے سلسلے میں کل 55 معاملے درج کیے تھے۔ اس معاملے میں اب تک 2100 ملزمان کی گرفتاری ہو چکی ہے، وہیں 491 ملزم اب بھی فرار ہیں۔ ایس ٹی ایف اس معاملے کے 1200 ملزمان کے چالان بھی پیش کر چکی ہے۔ بہرحال،  وياپم کی جانچ سی بی آئی کو سونپے جانے کے بعد اس معاملے میں نیا موڑ آنے کی امید کی جا رہی ہے۔

 

 

Loading...