جھابوا دھماکہ : مہلوکین کی تعداد 89 ہوئی ، 100 سے زائد زخمی ، ٹی آئی سسپینڈ

جھابوا: مدھیہ پردیش کے جھابوا ضلع میں ہفتے کی صبح ہوئے دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 89 ہو گئی ہے ، جبکہ 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہو گئے۔

Sep 12, 2015 07:28 PM IST | Updated on: Sep 12, 2015 10:18 PM IST
جھابوا دھماکہ : مہلوکین کی تعداد 89 ہوئی ، 100 سے زائد زخمی ، ٹی آئی سسپینڈ

جھابوا: مدھیہ پردیش کے جھابوا ضلع میں ہفتے کی صبح ہوئے دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 89 ہو گئی ہے ، جبکہ 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہو گئے۔ متعدد کی حالت نازک ہے۔ حکومت نے حادثے کی انکوائری کا حکم دیا ہے اور ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ اور زخمیوں کے لئے امداد کا اعلان کردیا گیا ہے۔ دریں اثنا  ایس پی  نے کارروائی کرتے ہوئے ٹی آئی کو سسپینڈ کردیا ہے ۔

حکومت دھماکے کی وجہ سلنڈر پھٹنے کو بتا رہی ہے جبکہ دوسری طرف خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد میں دھماکے کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا۔ اندور سے تفتیشی ٹیم جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہے۔

پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ یہاں سے تقریبا 65 کلومیٹر دور پیٹلاود کے ایک مکان میں صبح آٹھ بجے کے بعد دھماکہ ہوا ہے۔ اس مکان کے نچلے حصے میں تجارتی سرگرمیاں جاری تھیں اور اوپری منزل پر رہائش گاہ بتایا گیا ہے۔ اسی کے بازو میں ایک ریسٹورینٹ ہے اور اس میں درجنوں لوگ صبح چائے ناشتہ کے لئے آئے ہوئے تھے۔ ارد گرد کے قصبائی علاقے بھی کافی گھنے ہیں۔ریسٹورینٹ میں رکھے گیس سلنڈر میں بھی دھماکہ ہوا۔

ذرائع نے ابتدائی جانچ کےبعد بتایا کہ مکان میں غیر قانونی طور پر دھماکہ خیز اشیا ڈیٹونیٹر کے طور پر رکھی ہوئی تھیں۔ کسی وجہ سے اس میں دھماکہ ہوگیا اور اس دھماکے نے ریسٹورینٹ کو بھی اپنی زد میں لے لیا۔ اس وجہ سے ریسٹورینٹ اور سڑک پر کھڑے لوگ بھی زد میں آ گئے۔

Loading...

ذرائع نے کہا کہ دھماکے کی وجہ سے ریسٹورینٹ میں آئے لوگ اور سڑک پر کھڑے لوگ اس کی زد میں آ گئے۔ فی الحال ملبے میں بھی کچھ لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔پولیس محکمہ اور مقامی لوگ امدادی کام میں لگے ہوئے ہیں۔

ذرائع نے ابتدائی جانچ کےبعد بتایا کہ جس مکان میں غیر قانونی طور پر رکھے دھماکہ خیز اشیا ڈیٹونیٹر کے طور پر رکھی ہوئی تھیں وہ راٹھور خاندان کا ہے اور كاسبا ایجنسی نام کی ایک فرم نے اس کا ایک حصہ تجارتی سرگرمیوں کے لئے کرایہ پر لے رکھا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اسی ایجنسی نے یہاں پر ڈیٹونیٹر اور دیگر دھماکہ خیز مواد رکھا ہواتھا۔

جھابوا اور پڑوسی علی راجپور ا ضلاع میں کان کنی کا کام کافی چلتا ہے اور اس کام میں دھماکہ خیز مواد کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اسی قسم کی دھماکہ خیز مواد کی اسٹوریج اس مکان میں کیا گیا ہوگا۔دریں اثنا پولس محکمہ کے ساتھ ہی انٹیلی جنس کے افسران بھی اس واقعہ کے سلسلے میں فعال ہو گئے ہیں۔

Loading...