مدھیہ پردیش کے جھابوا میں دھماکے،82 لوگوں کی موت،150 زخمی

جھابوا۔ گجرات کی سرحد سے متصل مدھیہ پردیش کے ضلع جھابوا کے پیٹلاود میں آج صبح ایک مکان میں زبردست دھماکے نے اس کے بازو میں واقع ایک ریسٹورینٹ کو بھی اپنی زد میں لے لیا جس سے تقریبا 80افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہو گئے۔

Sep 12, 2015 10:51 AM IST | Updated on: Sep 12, 2015 06:41 PM IST
مدھیہ پردیش کے جھابوا میں دھماکے،82 لوگوں کی موت،150 زخمی

جھابوا۔  گجرات کی سرحد سے متصل مدھیہ پردیش کے ضلع جھابوا کے پیٹلاود میں آج صبح ایک مکان میں زبردست دھماکے نے اس کے بازو میں واقع ایک ریسٹورینٹ کو بھی اپنی زد میں لے لیا جس سے تقریبا 82افراد ہلاک اور150 زخمی ہو گئے۔زخمیوں کو پیٹلاود جھابوا اور گجرات کے داهود کے ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ یہاں سے تقریبا 65 کلومیٹر دور پیٹلاود کے ایک مکان میں صبح آٹھ بجے کے بعد دھماکہ ہوا ہے۔ اس مکان کے نچلے حصے میں تجارتی سرگرمیاں جاری تھیں اور اوپری منزل پر رہائش گاہ بتایا گیا ہے۔ اسی کے بازو میں ایک ریسٹورینٹ ہے اور اس میں درجنوں لوگ صبح چائے ناشتہ کے لئے آئے ہوئے تھے۔ ارد گرد کے قصبائی علاقے بھی کافی گھنے ہیں۔ریسٹورینٹ میں رکھے گیس سلنڈر میں بھی دھماکہ ہوا۔

ذرائع نے ابتدائی جانچ کےبعد بتایا کہ مکان میں غیر قانونی طور پر  دھماکہ خیز اشیا ڈیٹونیٹر کے طور پر رکھی ہوئی تھیں۔ کسی وجہ سے اس میں دھماکہ ہوگیا اور اس دھماکے نے ریسٹورینٹ کو بھی اپنی زد میں لے لیا۔ اس وجہ سے ریسٹورینٹ اور سڑک پر کھڑے لوگ بھی زد میں آ گئے۔ فی الحال 82افراد کے مرنے کی تصدیق پیٹلاود تھانے نے کی ہے۔ زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا گیا ہے اور ان میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔

ذرائع نے کہا کہ دھماکے کی وجہ سے ریسٹورینٹ میں آئے لوگ اور سڑک پر کھڑے لوگ اس کی زد میں آ گئے۔ فی الحال ملبے میں بھی کچھ لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔پولیس محکمہ اور مقامی لوگ امدادی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ذرائع نے ابتدائی جانچ کےبعد بتایا کہ جس مکان میں غیر قانونی طور پر رکھے دھماکہ خیز اشیا ڈیٹونیٹر کے طور پر رکھی ہوئی تھیں وہ راٹھور خاندان کا ہے اور كاسبا ایجنسی نام کی ایک فرم نے اس کا ایک حصہ تجارتی سرگرمیوں کے لئے کرایہ پر لے رکھا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اسی ایجنسی نے یہاں پر ڈیٹونیٹر اور دیگر دھماکہ خیز مواد رکھا ہواتھا۔

Loading...

جھابوا اور پڑوسی علی راجپور ا ضلاع میں کان کنی کا کام کافی چلتا ہے اور اس کام میں دھماکہ خیز مواد کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اسی قسم کی دھماکہ خیز مواد کی اسٹوریج اس مکان میں کیا گیا ہوگا۔دریں اثنا پولس محکمہ کے ساتھ ہی انٹیلی جنس کے افسران بھی اس واقعہ کے سلسلے میں فعال ہو گئے ہیں۔

Loading...