ایک اور وياپم : 60 سیکنڈ کے انٹرویو میں بھرتی کر لئے پروفیسر

بھوپال۔ مدھیہ پردیش میں وياپم گھوٹالے کا جن ابھی پرسکون بھی نہیں ہوا ہے کہ ویسا ہی ایک اور گھوٹالہ سامنے آ گیا ہے۔

Aug 20, 2015 07:56 AM IST | Updated on: Aug 20, 2015 07:57 AM IST
ایک اور وياپم : 60 سیکنڈ کے انٹرویو میں بھرتی کر لئے پروفیسر

بھوپال۔  مدھیہ پردیش میں وياپم گھوٹالے کا جن ابھی پرسکون بھی نہیں ہوا ہے کہ ویسا ہی ایک اور گھوٹالہ سامنے آ گیا ہے۔ ریاست کی برکت اللہ یونیورسٹی میں پروفیسروں، اسسٹنٹ پروفیسروں سمیت قریب 30 عہدوں پر محض 60 سے 100 سیکنڈ کے انٹرویو کی بنیاد پر ہی بھرتی کر لی گئی۔ یہی نہیں ان لوگوں کی صلاحیت کو جانچنے کے لئے کسی طرح کا تحریری امتحان لئے جانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔

 

Loading...

ایک معروف انگریزی اخبار کی خبر کے مطابق، کئی مرد امیدواروں نے تو خواتین کوٹہ کی سیٹوں کے لئے بھی انٹرویو دیئے۔ ستمبر 2014 میں تین دن میں 700 لوگوں کا انٹرویو لیا گیا۔ اعلی تعلیم کے محکمہ نے گورنر کو خط لکھ کر وائس چانسلر ایم ڈی تیواری کے خلاف کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ گورنر نے پورے معاملے میں وائس چانسلر سے صفائی مانگی ہے۔

گزشتہ ہفتے برکت اللہ یونیورسٹی کے رجسٹرار لونو سنگھ سولنکی کو معطل کر دیا گیا تھا۔ یونیورسٹی نے 2014 میں مختلف عہدوں پر بھرتی کے لئے اشتہارات جاری کئے تھے۔

محکمہ کی طرف سے گورنر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امیدواروں کا محض ایک سے ڈیڑھ منٹ کا ہی انٹرویو ہوا۔ حیاتیاتی سائنس کے شعبہ کی مثال دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ اس میں بھرتی کے لئے 170 امیدواروں کا ایک دن میں ہی انٹرویو لے لیا گیا۔ اعلی تعلیم کے محکمہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ یونیورسٹی نے اشتہارات جاری کئے تھے، لیکن وائس چانسلر نے ایک خاص گروپ کو فائدہ پہنچانے کے لئے قوانین کو نظر اندازکیا گیا۔ یہاں تک کہ امیدواروں کو بغیر مکمل جانچ پڑتال کے ہی انٹرویو کے لئے مدعو کیا گیا۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ جن 700 لوگوں نے درخواست دی تھی، ان سب کو انٹرویو کے لئے بلایا گیا تھا۔ یہاں تک کہ ریزرو کوٹے کے تحت انٹرویو دینے والے بہت سے لوگ جنرل کیٹیگری کے بھی تھے۔ یہی نہیں ایک خاص گروپ کو فائدہ پہنچانے کے لئے نو سال کے تجربے کے قوانین کو درکنار کر اسے چھ سال ہی کردیا گیا۔ یہی نہیں سلیکشن کمیٹی کی تشکیل میں بھی قوانین پر عمل نہ کئے جانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

 

 

 

Loading...