உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیلاب متاثرہ ریاستوں کی مدد کے لئے تینوں فوج نے مل کر تیار کیا سینٹر وار روم

    گزشتہ کئی دنوں سے ہو رہی بارش (Rain) کے سبب مہاراشٹر (Maharashtra) ، گوا (Goa)، کرناٹک (Karnataka) اور بہار میں سیلاب کی صورتحال بن گئی ہے۔ کئی ریاستوں کے گاوں پوری طرح سے پانی میں ڈوب گئے ہیں اور کھیتوں اور سڑکوں پر پابنی بھر گیا ہے۔

    گزشتہ کئی دنوں سے ہو رہی بارش (Rain) کے سبب مہاراشٹر (Maharashtra) ، گوا (Goa)، کرناٹک (Karnataka) اور بہار میں سیلاب کی صورتحال بن گئی ہے۔ کئی ریاستوں کے گاوں پوری طرح سے پانی میں ڈوب گئے ہیں اور کھیتوں اور سڑکوں پر پابنی بھر گیا ہے۔

    گزشتہ کئی دنوں سے ہو رہی بارش (Rain) کے سبب مہاراشٹر (Maharashtra) ، گوا (Goa)، کرناٹک (Karnataka) اور بہار میں سیلاب کی صورتحال بن گئی ہے۔ کئی ریاستوں کے گاوں پوری طرح سے پانی میں ڈوب گئے ہیں اور کھیتوں اور سڑکوں پر پابنی بھر گیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مہاراشٹر (Maharashtra)، گوا (Goa) اور کرناٹک (Karnataka) سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں ان دنوں آفت کی بارش (Rain) ہو رہی ہے۔ حالات یہ ہیں کہ کئی ریاستوں کے نچلے علاقوں میں سیلاب (Flood) کی صورتحال بن گئی ہے۔ ایسے میں راحت اور بچاو کام کے لئے تینوں افواج کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے کے لئے فوجی محکمہ میں سینٹر وار روم تیار کیا جارہا ہے۔ اس وار روم کے ذریعہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کو بچانے اور ان کی مدد کرنے میں آسانی ہوگی۔

      گزشتہ کئی دنوں سے ہو رہی بارش کے سبب مہاراشٹر، گوا، کرناٹک اور بہار میں سیلاب کی صورتحال بن گئی ہے۔ کئی ریاستوں کے گاوں پوری طرح سے پانی میں ڈوب گئے ہیں اور کھیتوں اور سڑکوں پر پانی بھر گیا ہے۔ مہاراشٹر میں سیلاب، بارش اور لینڈ سلائیڈ نے اس قدر تباہی مچائی ہے کہ اب تک تقریباً 112 لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ 99 لوگوں کا ابھی تک پچہ نہیں چل سکا ہے۔

      مہاراشٹر میں ایک لاکھ 35 ہزار لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا گیا

      راحت اور باز آباد کاری محکمہ نے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ لینڈ سلائیڈ کے سبب ہوئے حادثے میں ملبے سے لوگوں کو نکالنے کا کام مسلسل جاری ہے۔ ریاست میں سیلاب کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب تک تقریباً ایک لاکھ 35 ہزار لوگوں کو سیلاب متاثرہ علاقوں سے نکالا گیا ہے۔ راحت اور بچاو کام سے منسلک افسران کے مطابق، سیلاب کے سبب اب تک 3221 جانوروں کی بھی موت ہوچکی ہے اور 53 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: