ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

مرکزی حکومت کا فیصلہ، جموں وکشمیر سے فوری طور پر واپس بلائے جائیں گے 10 ہزار سیکورٹی اہلکار

مرکزی حکومت (Central Goverment) نے مرکز کے زیر انتظام خطہ جموں وکشمیر (Jammu Kashmir) سے 10,000 پیرا ملٹری فورسیز (Paramilitary Forces) کو واپس بلانے کے احکامات دیئے ہیں۔ افسران نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔

  • Share this:
مرکزی حکومت کا فیصلہ، جموں وکشمیر سے فوری طور پر واپس بلائے جائیں گے 10 ہزار سیکورٹی اہلکار
مرکزی حکومت کا فیصلہ، جموں وکشمیر سے فوری طور پر واپس بلائے جائیں گے 10 ہزار سیکورٹی اہلکار

نئی دہلی: مرکزی حکومت (Central Goverment) نے مرکز کے زیر انتظام خطہ جموں وکشمیر (Jammu Kashmir) سے 10,000 پیرا ملٹری فورسیز (Paramilitary Forces) کو واپس بلانے کے احکامات دیئے ہیں۔ افسران نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کے ذریعہ یونین ٹیریٹری (Union Territory) میں سینٹرل مسلح پولیس فورسیز (Central Armed Police Forces) کی تعیناتی کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا۔ ایک افسر نے بتایا کہ کل 100 سی اے پی ایف کی کمپنیوں کو فوری اثر سے واپس بلانے کا حکم ملا ہے۔ اس کمپنیوں کو گزشتہ سال دفعہ 370 (Article 370) ہٹائے جانے کے مرکزی حکومت کے فیصلے سے پہلے جموں وکشمیر میں تعیناتی کی گئی تھی۔ اب ان کمپنیوں کو واپس ان کے بیس لوکیشن پر بھیجا جائے گا۔


مرکزی حکومت نے مرکز کے زیر انتظام خطہ جموں وکشمیر سے 10,000 پیرا ملٹری فورسیز کو واپس بلانے کے احکامات دیئے ہیں۔ افسران نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔
مرکزی حکومت نے مرکز کے زیر انتظام خطہ جموں وکشمیر سے 10,000 پیرا ملٹری فورسیز کو واپس بلانے کے احکامات دیئے ہیں۔ افسران نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔


مرکزی حکومت کے احکامات کے مطابق، اس ہفتے تک مرکزی ریزرو پولیس فورس (Central Reserve Police Force) کی کل 40 کمپنیاں اور سینٹرل صنعتی سیکورٹی فورسیز (Central Industrial Security Forces)، سرحدی سیکورٹی اہلکار (Border Security Force) اور مسلح بارڈر فورس (Sashastra Seema Bal) کی 20 کمپنیاں جموں وکشمیر سے واپس بلائی جائیں گی۔ ایک سی اے پی ایف کمپنی میں تقریباً 100 اہلکاروں کی آپریشنل صلاحیت ہے۔


اب کشمیر میں رہیں گے اتنے سیکورٹی اہلکار

وزارت داخلہ نے اسی سال مئی میں مرکز کے زیر انتظام ریاست سے تقریباً 10 سی اے پی ایف کمپنیوں کو واپس بلا لیا تھا۔ جدید ترین ڈی انڈکشن کے ساتھ، کشمیر وادی میں سی آر پی ایف کے پاس تقریباً 60 بٹالین (ہر ایک بٹالین میں تقریباً 1,000 اہلکار) کی طاقت ہوگی جبکہ سی اے پی ایف کی بہت کم یونٹ ہوں گی۔

مرکزی حکومت نے مرکز کے زیر انتظام خطہ جموں وکشمیر سے 10,000 پیرا ملٹری فورسیز کو واپس بلانے کے احکامات دیئے ہیں۔
مرکزی حکومت نے مرکز کے زیر انتظام خطہ جموں وکشمیر سے 10,000 پیرا ملٹری فورسیز کو واپس بلانے کے احکامات دیئے ہیں۔


گزشتہ سال ہوئی سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی

واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے گزشتہ سال 5 اگست کو جموں وکشمیر ریاست کا خصوصی درجہ واپس لے لیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی مرکز نے دفعہ 370 کے بیشتر التزام کو ختم کردیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ جموں وکشمیرکو مرکز کے زیر انتظام دو خطوں جموں وکشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا تھا۔ اس وقت وادی میں پُرامن ماحول بنائے رکھنے اور کسی بھی قابل اعتراض حادثہ سے بچنے کے لئے مرکزی حکومت نے اضافی سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی تھی۔ اس کے بعد حکومت نے مرکز کے زیر انتظام ریاست سے وقت وقت پر وادی سے اضافی سیکورٹی اہلکاروں کو واپس بلاتی رہی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 19, 2020 07:40 PM IST