உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اب سوشل میڈیا انفلوئنسرز کیلئےجلد ہی جاری ہونگے رہنما خطوط، خلاف ورزی پر ہوگا جرمانہ

    نئے اصول کے تحت سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والے 10 فیصد ٹی ڈی ایس ادا کرنے کے ذمہ دار ہوں گے

    نئے اصول کے تحت سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والے 10 فیصد ٹی ڈی ایس ادا کرنے کے ذمہ دار ہوں گے

    Guidelines for Social Media Influencers: تاجروں کی باڈی کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (CAIT) نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ برانڈ کی تصدیق کرنے والوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور بلاگرز کو مجوزہ فریم ورک کے تحت لائے تاکہ آن لائن صارفین کو مصنوعات اور خدمات کے فریب سے بچایا جا سکے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Hyderabad | Kolkata [Calcutta] | Jammu | Lucknow
    • Share this:
      ذرائع نے سی این این نیوز 18 کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والوں یعنی سوشل میڈیا انفلوئنسر‏‏‏ز (Social Media Influencers) کو جلد ہی اپنی برانڈ ایسوسی ایشنز یا بامعاوضہ پروموشنز کا اعلان کرنا ہو گا۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ وزارت برائے امور صارفین کی جانب سے اگلے دس دنوں میں ایک معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SoP) جاری کرنے کا امکان ہے۔ جو کہ آن لائن صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

      ذرائع نے کہا کہ یہ فیصلہ صارفین کو کسی بھی قسم کے جھوٹے دعووں سے احتیاط اور تحفظ فراہم کرنے کے مقصد سے کیا گیا۔ جو کسی بھی طرح سوشل میڈیا پر اثر انداز ہے اور کسی خاص برانڈ کو فروغ دے رہا ہے تو سوشل میڈیا انفلوئنسر‏‏‏ز کو اب اس بارے میں وضاحت پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے مناسب گائیڈ لائن جاری کی جائے گی۔ یہ گائیڈ لائن سوشل میڈیا انفلوئنسرس کی مدد کریں گی۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو اس بارے میں تفصیلات بتانا ضروری ہے کہ آیا کوئی ان کی فنڈنگ کررہا ہے یا انھیں کوئی معاشی سہارا فراہم کررہے ہیں تو اس کی کیا نوعیت ہے۔

      31 جولائی کو تاجروں کی باڈی کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (CAIT) نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ برانڈ کی تصدیق کرنے والوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور بلاگرز کو مجوزہ فریم ورک کے تحت لائے تاکہ آن لائن صارفین کو مصنوعات اور خدمات کے فریب سے بچایا جا سکے۔ کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز نے یہ بھی دلیل دی کہ کسی پروڈکٹ یا سروس کی درجہ بندی کو جائزوں کے لیے پالیسی فریم ورک کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      پاکستانی نیوز چینل چھپا رہے ہیں اس ملٹی نیشنل کمپنی میں ریپ کا واقعہ؟ ہانیہ عامر نے اٹھائی آواز

      مذکورہ تنظیم نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صارفین کے تحفظ کے لیے ایک اچھی طرح سے طے شدہ اور مضبوط پالیسی کو جلد از جلد نافذ کرے۔ اس تناظر میں برانڈ کے توثیق کرنے والوں سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والے، اشیا اور خدمات پر بلاگرز کو جعلی اور فریب پر مبنی ویڈیوس کو پالیسی کے تحت لائیا جائے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      Flipkart: اب فلپ کارٹ پر ہوٹل بکنگ سروس کا بھی آغاز، تہواروں کے موقع پر ملے گی سہولت

      وزارت برائے امور صارفین کے سکریٹری روہت کمار سنگھ نے مئی میں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ کی تاکہ آن لائن صارفین پر فرضی اور گمراہ کن خبروں کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے اور ایسی صورت حال کو روکنے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا جا سکے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: