اروناچل پردیش میں صدر راج کے نفاذ پر سپریم کورٹ میں مرکز کا حلف نامہ داخل

نئی دہلی۔ مرکزی حکومت نے اروناچل پردیش میں صدر راج کے نفاذ کے معاملے میں سپریم کورٹ میں دیگر دستاویزات کے ساتھ تفصیلی حلف نامہ داخل کیا۔

Jan 30, 2016 09:09 AM IST | Updated on: Jan 30, 2016 09:09 AM IST
اروناچل پردیش میں صدر راج کے نفاذ پر سپریم کورٹ میں مرکز کا حلف نامہ داخل

نئی دہلی۔ مرکزی حکومت نے اروناچل پردیش میں صدر راج کے نفاذ کے معاملے میں  سپریم کورٹ میں دیگر دستاویزات کے ساتھ تفصیلی حلف نامہ داخل کیا۔ ذرائع کے مطابق شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کرنے کے موقف کا دفا ع کرتے ہوئے مرکز نے اپنے 316 صفحات پر مشتمل مہر بند حلف نامہ میں کہا کہ مذکورہ حساس سرحدی ریاست میں قانون و انتظام کا ڈھانچہ ٹوٹ چکا تھا اور امن عام کی صورتحال ابتر ہوچکی تھی۔

واضح رہے کہ جسٹس جگدیش سنگھ کیہر اور جسٹس سی نگپن کی زیر صدارت ایک آئینی بنچ نے 27 جنوری کو اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کرنے کے مرکزی حکومت کے طریقہ کار پر شدید ناراضگی ظاہر کی تھی اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکےکل  تک اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا کہ کن وجوہات کی بنا پر اسے یہ انتہائي قدم اٹھانے پر مجبور ہونا پڑا۔

سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے اپنے تبصرے میں کہا تھا کہ " یہ بہت ہی سنگین معاملہ ہے۔ آپ ہمیں مطلع کئے بغیر ہی آئینی فیصلہ کرلیتے ہيں"۔ سپریم کورٹ اس معاملے میں آئندہ سماعت یکم فروری کو کرے گا۔

Loading...

Loading...