ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Chamoli Disaster : تپوون ٹنل میں بھرا پانی ، ریسکیو آپریشن رکا ، امدادی اہلکاروں کو باہر نکالا گیا

Uttarakhand Glacier Burst: تپوون ٹنل میں سرچ آپریشن فی الحال روک دیا گیا ہے ۔ این ٹی پی سی کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ٹنل میں پانی بھر رہا ہے ۔

  • Share this:
Chamoli Disaster : تپوون ٹنل میں بھرا پانی ، ریسکیو آپریشن رکا ، امدادی اہلکاروں کو باہر نکالا گیا
Chamoli Disaster : تپوون ٹنل میں بھرا پانی ، ریسکیو آپریشن رکا ، امدادی اہلکاروں کو باہر نکالا گیا

اتراکھنڈ کے چمولی میں گلیشیئر ٹوٹنے سے کافی تباہی ہوئی ہے ۔ سیلاب کے بعد تپوون میں دو سرنگ میں بڑی تعداد میں مزدور پھنس گئے تھے ۔ ایک سرنگ سے تو مزدوروں کو نکال لیا گیا ہے ، لیکن دوسری سرنگ سے ابھی بھی انہیں نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اب اس درمیان تپوون ٹنل میں پانی بھر جانے کی خبر آرہی ہے ۔ اس وجہ سے ریسکیو آپریشن کو روک دیا گیا ہے ۔ این ٹی پی سی کا کہنا ہے کہ ٹنل میں کام کررہے مزدور محفوظ ہیں ۔ حادثہ کے پیش نظر ڈریلنگ کو روک دیا گیا ہے ۔


این ٹی پی سی پروجیکٹ ڈائریکٹر اجول بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ ہم چھ میٹر کی دوری تک پہنچ گئے تھے ۔ پھر محسوس ہوا کہ وہاں سے پانی آرہا ہے ۔ اگر ہم کھدائی جاری رکھتے تو چٹان غیرمستحکم ہوجاتی اور ایسے میں بڑی پریشانی لاحق ہوسکتی تھی ، اس لئے ہم نے ڈریلنگ آپریشن کو کچھ وقت کیلئے ملتوی کردیا گیا ہے ۔


این ٹی پی سی کے انجینئرس کا کہنا ہے کہ تپوون ٹنل میں جو مزدور کام کررہے تھے ، وہ فی الحال وہیں ہیں اور سبھی محفوظ ہیں ۔ انہیں تین دنوں تک ٹریننگ دی جاتی ہے ، اس کے بعد ہی انہیں اندر بھیجا جاتا ہے ۔ انہیں وقت وقت پر پیپ ٹاک بھی دیا جاتا ہے ۔ سبھی آلات محفوظ ہیں ۔ ریسکیو آپریش میں مصروف ٹیم کام کررہی ہے ، وہ قابل ہے ۔


بدھ کو ملی اس اہم جانکاری کے بعد آئی ٹی بی پی کی ٹیموں نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے ۔ وہیں آبی قہر کے بعد سے 170 سے زیادہ لوگ لاپتہ بتائے جارہے ہیں ۔ ساتھ ہی 34 لوگوں کی لاشیں برآمد ہوچکی ہیں ۔ ان میں سے 10 کی شناخت ہونے کی جانکاری اسٹیٹ ایمرجنسی کنٹرول روم نے دی ہے ۔

افسروں نے جانکاری دی ہے کہ آئی ٹی بی پی اور دیگر کی ریسکیو ٹیمیں گزشتہ تین دن سے این ٹی پی سی پلانٹ کی انٹیک ایڈٹ ٹنل میں لاپتہ مزدوروں کی تلاش کررہی تھیں ، لیکن بدھ کو انہیں جانکاری دی گئی ہے کہ وہ سبھی مزدور اس ٹنل میں نہیں ہیں ، بلکہ سلٹ فلٹریشن ٹنل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ وہ ٹنل اس ٹنل سے بارہ میٹر نیچے ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 11, 2021 04:02 PM IST