ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ کیمپس میں پولیس کارروائی کے دوران متاثر ریڈنگ روم کا چانسلر نجمہ ہپت اللہ کے ذریعہ افتتاح

چانسلر نجمہ ہپت اللہ کے توسط سے سعودی شاہ عبد اللہ کے ذریعہ دیا گیا قرآن شریف بھی لائبریری کو تحفہ دیا گیا ۔ چانسلر نجمہ ہپت اللہ ‌ نے بتایا کیا قرآن کریم کے یہ نسخہ تاریخی ہے ۔ اس نسخہ کو افریقہ کے ایک پرندے کی جلد سے تیار کیا گیا ہے ۔

  • Share this:
جامعہ کیمپس میں پولیس کارروائی کے دوران متاثر ریڈنگ روم کا چانسلر نجمہ ہپت اللہ کے ذریعہ افتتاح
جامعہ کیمپس میں پولیس کارروائی کے دوران متاثر ریڈنگ روم کا چانسلر نجمہ ہپت اللہ کے ذریعہ افتتاح

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف تحریک پر پولیس کارروائی کے دوران 15 دسمبر 2019 کو جامعہ کیمپس میں طلبہ کے ساتھ مار پیٹ اور آنسو گیس کے گولے چھوڑے جانے کے دوران جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری کا ریڈنگ روم بری طرح سے متاثر ہوا تھا ۔ تاہم اب تقریبا ایک سال کے بعد اس ریڈنگ روم کو مرمت کے بعد دوبارہ سے طلبہ کے مطالعہ اور پڑھائی کے لئے کھول دیا گیا ہے  ۔ چانسلر نجمہ ہپت اللہ نے بذات خود اس ریڈنگ روم  کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر نجمہ ہپت اللہ  کے ساتھ وائس چانسلر نجمہ اختر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ افراد کے علاوہ سابق جسٹس سہیل اعجاز صدیقی بھی موجود رہے ۔


اس موقع پر چانسلر نجمہ ہپت اللہ کے توسط سے سعودی شاہ عبد اللہ کے ذریعہ دیا گیا قرآن شریف بھی لائبریری کو تحفہ دیا گیا  ۔ چانسلر نجمہ ہپت اللہ ‌ نے بتایا کیا قرآن کریم کے یہ نسخہ تاریخی ہے ۔ اس نسخہ کو افریقہ کے ایک پرندے کی جلد سے تیار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتی تھی کہ اس وراثت کو اس جگہ پر دو ، جہاں پر اس کی قدر ہو سکے اور اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے ۔ تاہم نجمہ ہپت اللہ نے کیمپس  لائبریری میں طلبہ پر تشدد کے مجرموں کے خلاف کارروائی پر خاموشی سے کام لیا ۔


البتہ اس موضوع پر وائس چانسلر نجمہ اختر نے صاف کیا ایگزیکٹیو کونسل کو اس معاملے میں فیصلہ لینا ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ بات قبول کی موجودہ ریڈنگ روم پرتشدد کارروائی میں سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو کھولے جانے کو لے کر بھی ایگزیکٹیو کونسل کو فیصلہ لینا ہے اور والدین سے بھی دریافت کیا جائے گا کہ وہ اپنے اپنے بچوں کو بھیجنے کے لیے تیار ہیں ۔


غور طلب ہے کہ  15 دسمبر 2019 کی شام کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں پر پولیس نے کارروائی کی تھی اور اس کارروائی کے دوران دہلی پولیس کے ذریعہ جامعہ کیمپس اور لائبریری کے ریڈنگ روم میں پڑھنے والے طلبہ پر بھی مبینہ طور پر لاٹھی چارج کیا گیا تھا ۔

جامعہ انتظامیہ نے بغیر اجازت کیمپس کے اندر پولیس کے داخلے اور کارروائی کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی ۔ تاہم مقامی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج نہ ہونے کے بعد دہلی کی ساکیت عدالت میں عرضی داخل کی گئی اور حال ہی میں اس عرضی  کو ساکیت عدالت کے ذریعے تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر خارج کردیا گیا ہے ۔ تاہم  اس معاملہ میں اپیل اور ہائی کورٹ  میں جانے کو لے کر ابھی تک کچھ بھی صاف نہیں ہے ۔ وائس چانسلر نجمہ اختر کا کہنا ہے اس معاملہ میں ایگزیکٹو کونسل فیصلہ کرے گی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 07, 2021 08:04 AM IST