ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہریانہ عدم اعتماد کی تحریک: کھٹر حکومت تعداد میں بھاری، چوٹالہ پردباؤ، بدل سکتے ہیں حالات

Congress No Confidence Motion: دشینت چوٹالہ جس ووٹ بینک کے سہارے اقتدار تک پہنچے ہیں، کسان آندولن میں وہی طبقہ سڑک پر ہے۔ اس لئے جے جے پی کے رکن اسمبلی کھٹر حکومت سے اتحاد توڑنے کا دباو بنا رہے ہیں۔

  • Share this:
ہریانہ عدم اعتماد کی تحریک: کھٹر حکومت تعداد میں بھاری، چوٹالہ پردباؤ، بدل سکتے ہیں حالات
ہریانہ عدم اعتماد کی تحریک: کھٹر حکومت تعداد میں بھاری، چوٹالہ پردباؤ، بدل سکتے ہیں حالات

چنڈی گڑھ: کانگریس آج ہریانہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک (No-Confidence Motion) لانے جا رہی ہے۔ تعداد کے لحاظ سے کھٹر حکومت چین کی سانس ضرور لے سکتی ہے، مگر کسان آندولن (Kisan Aandolan) کے بعد سے اندر خانے حالات بدلے ہوئے ہیں، اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے۔ جن نائک جنتا پارٹی (جے جے پی) کا ایک گروپ حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی کئی بار زرعی قوانین پر ناراضگی ظاہر کرچکا ہے۔ وجہ واضح ہے کہ جے جے پی نے جس ووٹ بینک کے سہارے اقتدار میں حصہ داری حاصل کی تھی۔ کسان آندولن میں وہی طبقہ اب مخالفت کے جھنڈے کے لئے سڑکوں پر ہے۔ حالانکہ نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ بار بار صلح کی بات دوہراتے ہیں، باوجود اس کے کسانوں کی مخالفت جاری ہے۔


بی جے پی کی اتحادی جن نائک جنتا پارٹی کے کچھ اراکین اسمبلی نے اتحادی حکومت کے خلاف باغی تیور دکھائے ہیں۔ جے جے پی کے رکن اسمبلی اپنے لیڈر اور نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ پر اتحاد کو توڑنے کا دباو ڈال رہے ہیں۔ جے جے پی رکن اسمبلی دیویندر ببلی کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کے دوران حکومت کے حق میں ووٹ کرنا میری مجبوری ہے، لیکن اس وقت ایسے حالات بن گئے ہیں کہ ہمیں منوہر لال کھٹر سے اتحاد توڑ دینا چاہئے۔ ببلی نے کہا کہ حالات ایسے ہیں کہ ہم کہیں جا نہیں سکتے، کیونکہ لوگ ہمیں ڈنڈوں سے ماریں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر میرے ووٹ سے حکومت گرتی ہے تو میں اس کے خلاف ووٹ دوں گا۔


جے جے پی کے کچھ اراکین کھل کر حکومت پر اٹھا رہے سوال


عدم اعتماد کی تحریک کا رول ہی کسان آندولن کے ارد گرد بنتی ہے۔ اس لئے یہ بھی لازمی ہے کہ ایوان کے اندر ہر تقریر اسی کو لے کر ہوگی، لیکن کیا بی جے پی- جے جے پی کا ہر رکن اسمبلی ایک ہی سر میں بولے گا۔ یہ دیکھنا سب سے دلچسپ ہوگا۔ کیونکہ گزشتہ کچھ دنوں کا حال یہ ہے کہ جے جے پی کے کچھ رکن اسمبلی کھل کر حکومت پر سوال اٹھا چکے ہیں۔

کسان آندولن کے بعد بنے حالات میں کچھ بھی ممکن

پارٹی لائن کے خلاف ووٹنگ کا سیدھا مطلب ہے کہ رکنیت سے ہاتھ دھونا۔ مگر کسان آندولن کے بعد بنے حالات میں کچھ بھی ممکن ہے اور اپوزیشن بھی ایسے ہی ناراض اراکین اسمبلی کے ہارے دعویٰ ٹھوک رہا ہے کہ حکومت کے پاس نمبر نہیں ہیں۔ سیاسی قیاس آرائیوں کے باوجود کاغذوں میں موجود نمبر حکومت کے حق میں ہیں، اس لئے بدھ کو عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ سے زیادہ دلچسپ وہ دلیلیں ہوں گی جو اس کے حق میں یا مخالفت میں رکھی جائیں گی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 10, 2021 10:46 AM IST