உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چندی گڑھ یونیورسٹی سانحہ: جس لڑکے کو ویڈیو بناکر بھیجتی تھی طالبہ، پولیس نے شملہ سے کیا گرفتار

    طالبات کے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی بات سامنے آتے ہی طلبہ وطالبات میں زبردست ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔

    طالبات کے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی بات سامنے آتے ہی طلبہ وطالبات میں زبردست ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔

    ہماچل پردیش کے ڈی جی پی سنجے کنڈو نے اس کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ’چندی گڑھ یونیورسٹی کیس میں ہماچل پردیش پولیس نے پنجاب پولیس کی گزارش پر حساس اور پیشہ ور رویہ دکھاتے ہوئے ملزم کو پکڑلیا۔ شملہ کی ایس پی ڈاکٹر مونیکا اور ان کی ٹیم کو اس بہترین پیشہ ورکام کے لئے مبارکباد‘۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Chandigarh, India
    • Share this:
      موہالی: پنجاب کے موہالی واقع چندی گڑھ یونیورسٹی کے ایک پرائیویٹ کالج کے ہاسٹل میں رہنے والی ایک طالبہ کے ذریعہ کئی دیگر طالبات کا ‘قابل اعتراض‘ ویڈیو بنائے جانے کے معاملے پر یہاں کی طالبات میں زبردست غصہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں پولیس نے شملہ سے اس لڑکے کو گرفتار کرلیا ہے، جسے وہ لڑکی مبینہ طور پر ویڈیو شوٹ کرکے بھیجا کرتی تھی۔

      ہماچل پردیش کے ڈی جی پی سنجے کنڈو نے اس کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ’چندی گڑھ یونیورسٹی کیس میں ہماچل پردیش پولیس نے پنجاب پولیس کی گزارش پر حساس اور پیشہ ور رویہ دکھاتے ہوئے ملزم کو پکڑ لیا۔ شملہ کی ایس پی ڈاکٹر مونیکا اور ان کی ٹیم کو اس بہترین پیشہ ور کام کے لئے مبارکباد‘۔



      اس حادثہ کی وجہ سے طلبہ وطالبات میں نظر آرہے غصے اور احتجاجی مظاہرہ کے بعد وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے اتوار کو اس کی جانچ کے احکامات دیئے۔ وہیں پولیس نے ابتدائی جانچ کے بعد ملزم طالبہ کو پہلے ہی گرفتار کرلیا تھا اور ملزم لڑکے کو پکڑنے کے لئے ہماچل پردیش میں ایک ٹیم بھیجی تھی، ملزم لڑکے کو بھی شملہ سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

      ’لڑکی نے بس اپنا ویڈیو بھیجا تھا‘

      پنجاب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس گرپریت دیو نے اس حادثہ سے متعلق نامہ نگاروں سے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ملزم طالبہ نے اپنا ایک ویڈیو نوجوان کے ساتھ شیئر کیا اور کسی دیگر طالبہ کا کوئی قابل اعتراض ویڈیو نہیں ملا ہے۔ وہیں یونیورسٹی کے افسران نے بھی ان خبروں کو ‘جھوٹ اور بے بنیاد‘ بتاکر خارج کردیا، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں کئی طالبات کے ویڈیو بنائے گئے اور سوشل میڈیا پر شیئر کئے گئے اور کئی طالبات نے اس معاملے کے بعد خود کشی کرنے کی کوشش کی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: