உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چندی گڑھ ایم ایم ایس سانحہ میں بڑا انکشاف: لڑکی کو بلیک میل کرکے ملزم مانگ رہے تھے لڑکیوں کے نہاتے ہوئے ویڈیو

    چندی گڑھ ایم ایم ایس سانحہ میں پولیس نے بڑا انکشاف کیا ہے۔

    چندی گڑھ ایم ایم ایس سانحہ میں پولیس نے بڑا انکشاف کیا ہے۔

    پنجاب کی چندی گڑھ یونیورسٹی کے گرلس ہاسٹل میں ویڈیو بنانے اور لیک کرنے کے معاملے میں گرفتار لڑکی سمیت اس کے دو معاون لڑکوں سے پوچھ گچھ کے دوران بڑا انکشاف ہوا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Chandigarh, India
    • Share this:
      چندی گڑھ: پنجاب کی چندی گڑھ یونیورسٹی کے گرلس ہاسٹل میں ویڈیو بنانے اور لیک کرنے کے معاملے میں گرفتار لڑکی سمیت اس کے دو معاون لڑکوں سے پوچھ گچھ کے دوران بڑا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ملزم لڑکے ویڈیو بنانے والی لڑکی کو بلیک میل کر رہے تھے۔ ہاسٹل میں رہنے والی لڑکی نے دونوں ملزمین کو اپنا ویڈیو بناکر بھیجا تھا، جسے وائرل کرنے کی دھمکی دے کر وہ دیگر لڑکیوں کے ویڈیو بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمین کے پاس سے ایک اور ویڈیو بھی برآمد کیا گیا ہے، لیکن اس ویڈیو میں دوسری لڑکی کی شکل نہیں نظر آرہی ہے۔

      خاص گیزٹ میں ویڈیو سیو کرتا تھا ملزم

      موہالی پولیس نے ملزم لڑکی اور اس کے دو ساتھیوں، 31 سال کے رنکج ورما اور 23 سالہ سنی مہتا کو شملا سے گرفتار کیا ہے۔ جب ان ملزمین کو کورٹ میں پیش کیا گیا تو پولیس نے دعویٰ کیا کہ ان کے تار انٹرنیشنل گینگ سے جڑ رہے ہیں۔ پولیس نے عدالت میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ سی یو کی طالبات کے کچھ اور بھی ویڈیو بنے ہیں۔ پولیس نے کہا تھا کہ ملزم سنی ایک خاص گیزیٹ میں ویڈیو سیو رکھتا تھا اور اسے شملہ سے برآمد کیا جانا ہے۔ اس کے بعد ہی لڑکی سمیت تینوں ملزمین کو عدالت نے 7 دن کا پولیس ریمانڈ دیا ہے۔

      ممبئی اور گجرات سے بھی جڑے ہیں تار

      ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم لڑکی نے خود کا ویڈیو بناکر اپنے ساتھی سنی مہتا کو بھیجا تھا۔ اس نے یہ ویڈیو رنکج ورما کے ساتھ شیئر کیا، جس کے بعد دونوں نے ملزم لڑکی پر دباو بنانا شروع کردیا اور ہاسٹل کی دیگر لڑکیوں کے کے ویڈیو بنانے کا ڈیمانڈ کیا۔ دونوں ملزم لڑکی کو مسلسل بلیک میل کر رہے تھے اور کہہ رہےتھے کہ وہ اس کے ویڈیو وائرل کردیں گے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان لڑکوں کے تار ممبئی اور گجرات سے بھی جڑے ہیں اور ان کے موبائل پر دونوں ریاستوں سے فون کال آرہے ہیں۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: