உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بیوی دس سال سے شوہر سے جسمانی تعلقات بنانے سے کررہی تھی انکار، HC نے سنایا بڑا فیصلہ، کہا : 'جسمانی تعلقات سے انکار ظلم کے برابر'

    بیوی دس سال سے شوہر سے جسمانی تعلقات بنانے سے کررہی تھی انکار، HC نے سنایا بڑا فیصلہ، کہا : 'جسمانی تعلقات سے انکار ظلم کے برابر'

    بیوی دس سال سے شوہر سے جسمانی تعلقات بنانے سے کررہی تھی انکار، HC نے سنایا بڑا فیصلہ، کہا : 'جسمانی تعلقات سے انکار ظلم کے برابر'

    Big News : بلاسپور ہائی کورٹ (Bilaspur High court) نے میاں بیوی سے متعلق ایک معاملہ میں ایک اہم فیصلہ (Important decision) سناتے ہوئے کہا کہ بیوی اپنے شوہر سے جسمانی تعلقات بنانے سے انکار کرے تو وہ ظلم مانا جائے گا ۔

    • Share this:
      بلاسپور : بلاسپور ہائی کورٹ (Bilaspur High court) نے میاں بیوی سے متعلق ایک معاملہ میں ایک اہم فیصلہ  (Important decision) سناتے ہوئے کہا کہ بیوی اپنے شوہر سے جسمانی تعلقات بنانے سے انکار کرے تو وہ ظلم مانا جائے گا ۔ دراصل خاتون اپنے شوہر کو پسند نہیں کرتی تھی ، اتنا ہی نہیں وہ اس کو موٹا کہہ کر دس سال سے جسمانی تعلقات بنانے سے منع کررہی تھی ۔ ایسے میں پریشان شوہر نے فیملی کورٹ میں عرضی داخل کی ، لیکن اس کی عرضی خارج ہوگئی ۔

      اس کے بعد شوہر نے بلاسپور ہائی کورٹ میں اپیل کی ، جہاں جسٹس پی سیم کوشی اور جسٹس پی پی ساہو کی ڈویزن بینچ نے فیملی کورٹ کے حکم کو خارج کرتے ہوئے یہ بڑا فیصلہ سنایا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : جڈیجہ کو ڈبل سنچری سے کس نے روکا؟ لوگوں نے سچن کے قصہ کو یاد کرکے دراوڑ اور روہت کا سنائی کھری کھری


      بلاسپور کے وکاس نگر میں رہنے والے این مشرا کی شادی 25 نومبر 2007 کو ہوئی تھی ۔ شادی کے کچھ ماہ تک ان کی بیوی سسرال میں رہی اور اس کے بعد وہ اپنے مائیکے چلی گئی ۔ بیوی اب بیمیترا میں رہتی ہے ۔ مشرا نے اپنی بیوی سے طلاق کیلئے فیملی کورٹ میں عرضی داخل کی ۔ عرضی میں بتایا گیا کہ بیوی نے 2011 میں شوہر اور سسرال والوں کو بتائے بغیر ہی بیمیترا میں ٹیچر کی نوکری جوائن کرلی ۔ اب میں جب شوہر نے اس سے گھر آنے کیلئے کہا تھا تو شوہر پر ہی بیمیترا میں رہنے کیلئے دباو بنانے لگی ۔ ایسے میں پریشان شوہر نے فیملی کورٹ میں طلاق کی عرضی داخل کی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : جوڑے نے پارکی بے شرمی کی ساری حدیں، غمگمین لوگوں کے سامنے قبر پر کیا سیکس، مچا ہنگامہ


      فیملی کورٹ نے 13 دسمبر 2017 کو مشرا کی عرضی کو خارج کردیا ۔ اس فیصلہ کے خلاف انہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کی ۔ سماعت کے دوران بیوی کی طرف سے اپنے دفاع میں دلائل دئے گئے ۔ کورٹ نے میاں بیوی کے بیانات کی بنیاد پر پایا کہ جوڑے نے سال 2010 سے ہی جسمانی تعلقات نہیں بنائے تھے ، وہ شوہر کو موٹا اور بھدا کہتی تھی اور ناپسند کرتی تھی ، شوہر کو جانکاری دئے بغیر ہی ٹیچر کی نوکری جوائن کرلی تھی ، جس میں اپنے شوہر کی بجائے مائیکے والوں کو نامنی بنایا گیا تھا ۔

      'جسمانی تعلقات سے انکار کرنا ظلم کے برابر'

      ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اگست 2010 سے میاں بیوی کے طور پر دونوں کے درمیان کوئی جسمانی تعلقات نہیں بنے ۔ شوہر یا بیوی کے ذریعہ جسمانی تعلقات سے انکار کرنا ظلم کے برابر ہے ، کیونکہ کسی بھی میاں بیوی کی زندگی کے درمیان جسمانی تعلقات شادی شدہ زندگی کی صحت کیلئے ضروری ہے ، لیکن ایک شوہر یا بیوی کے ذریعہ جسمانی تعلقات سے انکار کرنا ظلم کے برابر ہے ۔ کورٹ کا خیال ہے کہ اس معاملہ میں بیوی نے شوہر کے ساتھ ظلم کا رویہ اختیار کیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: