உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چھتیس گڑھ: بیجا پور میں سیکورٹی اہلکاروں اور نکسلیوں کے درمیان تصادم، اسسٹنٹ کمانڈینٹ شہید

    چھتیس گڑھ: بیجا پور میں سیکورٹی اہلکاروں اور نکسلیوں کے درمیان تصادم

    چھتیس گڑھ: بیجا پور میں سیکورٹی اہلکاروں اور نکسلیوں کے درمیان تصادم

    Chhattisgarh Encounter: پارلیمنٹ میں پیش رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال سب سے زیادہ 255 نکسلی تشدد کے حادثات چھتیس گڑھ میں پیش آئے تھے۔ اس دوران 101 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ وہیں جھارکھنڈ میں 130 نکسلی حملے ہوئے، جس میں 26 لوگوں کی جان گئی۔ گزشتہ سال نکسلی تشدد کے کل 509 حادثات سامنے آئے، جس میں 147 لوگوں کی جان گئی۔ وہیں 2020 میں 665 حادثات اور 183 لوگوں کی موت ہوئی جبکہ 2019 میں 670 پُرتشدد حادثات اور 202 لوگوں کی موت ہوئی۔

    • Share this:
      بیجا پور: چھتیس گڑھ کے بیجا پور میں سیکورٹی اہلکاروں اور نکسلیوں کے درمیان تصادم کی خبر ہے۔ اس انکاونٹر میں ایک اسسٹنٹ کمانڈینٹ شہید ہوگیا ہے۔ سی آر پی ایف کے ایک جوان بھی زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ تصادم اسور علاقے کے تیمار پور سے متصل پتکیل کے جنگلوں میں چل رہا ہے۔ تصادم میں 168 ویں بٹالین کے اسسٹنٹ کمانڈینٹ ایس بی ترکی کے شہیر ہونے کی خبر ہے، جو جھارکھنڈ کے باشندہ ہیں۔

      گزشتہ ماہ بھی چھتیس گڑھ کے سکما میں سیکورٹی اہلکاروں اور نکسلیوں کے درمیان بڑا تصادم ہوا ہے۔ سیکورٹی اہلکاروں نے ایک نکسلی کو مار گرایا تھا کہ چھتیس گڑھ میں نکسلیوں کی دہشت میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ریاست کی پولیس اور مرکزی سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان تال میل کی کمی کی وجہ سے نکسلی واردات کو انجام دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

      چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ میں سب سے زیادہ تشدد

      پارلیمنٹ میں پیش رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال سب سے زیادہ 255 نکسلی تشدد کے حادثات چھتیس گڑھ میں پیش آئے تھے۔ اس دوران 101 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ وہیں جھارکھنڈ میں 130 نکسلی حملے ہوئے، جس میں 26 لوگوں کی جان گئی۔ گزشتہ سال نکسلی تشدد کے کل 509 حادثات سامنے آئے، جس میں 147 لوگوں کی جان گئی۔ وہیں 2020 میں 665 حادثات اور 183 لوگوں کی موت ہوئی جبکہ 2019 میں 670 پُرتشدد حادثات اور 202 لوگوں کی موت ہوئی۔

      نکسلی تشدد کے حادثات میں 77 فیصد کی کمی

      اسی ہفتے مرکزی وزارت داخلہ نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں کہا تھا کہ ملک میں بائیں بازو کی انتہا پسندی کا تشدد یا نکسلی تشدد میں 77 فیصد کی کمی آئی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ برائے مملکت نتیا نند رائے نے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ سال 2009 میں پیش آئے اب تک کے سب سے زیادہ 2258 پُرتشدد حادثات کے مقابلے سال 2021 میں 509 حادثات درج کئے گئے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے لوک سبھا میں تحریری سوال میں پوچھا تھا کہ کیا لاک ڈاون کے دوران ملک میں نکسل اور خالصتانی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے یا کمی آئی ہے؟ اس کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت نتیا نند نے یہ جواب دیا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: