انتخابی ضابطہ اخلاق پرالیکشن کمیشن میں اختلافات نمایاں، لواسا کےمطالبےکوچیف الیکشن کمشنرنے کردیا مسترد

اشوک لواسا کے خط کے جواب میں چیف الیکشن کمشنرسنیل اروڑہ نے کہا 'میں کسی بھی طرح کے بحث سے نہیں بھاگتا، ہرچیزکا وقت ہوتا ہے'۔ 

May 18, 2019 04:32 PM IST | Updated on: May 18, 2019 04:33 PM IST
انتخابی ضابطہ اخلاق پرالیکشن کمیشن میں اختلافات نمایاں، لواسا کےمطالبےکوچیف الیکشن کمشنرنے کردیا مسترد

چیف الیکشن کمشنرسنیل اروڑہ اورالیکشن کمشنر اشوک لواسا: فائل فوٹو

انتخابی ضابطہ اخلاق میں کلین چٹ کولے کرالیکشن کمیشن کے اختلافات کھل کراب سامنے آگئے ہیں۔ الیکشن کمشنراشوک لواسا نے چیف الیکشن کمشنرسنیل اروڑہ کوخط لکھ کرمطالبہ کیا ہے کہ کمیشن کے فیصلے میں کمشنروں کے درمیان اختلافات کو بھی آفیشیل ریکارڈ میں شامل کیا جائے۔ وہیں اسے لے کرچیف الیکشن کمیشن سنیل اروڑہ نے لواسا کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔ لواسا کے خط کے جواب میں چیف الیکشن کمشنرنے کہا کہ 'الیکشن کمیشن میں تین ارکان ہوتے ہیں اورتینوں ایک دوسرے کے کلون نہیں ہوسکتے۔ میں کسی بھی طرح کی بحث سے نہیں بھاگتا۔ ہرچیزکا وقت ہوتا ہے'۔

سنیل اروڑہ نے کہا کہ 'ماڈل ضابطہ اخلاق سے متعلق الیکشن کمیشن کے داخلی کاموں کولے کرآج میڈیا میں ایسا تنازعہ شائع، جو نفرت پرمبنی ہے اوراس سے بچا جاسکتا تھا۔ ماضی میں بھی کئی بارالیکشن کمشنروں کے خیالات مختلف ہوتے تھے، لیکن تب یہ عوامی نہیں ہوتی تھی۔ بشرطیکہ ریٹائرمنٹ کے کافی وقت بعد وہ افسراپنی لکھی کتاب میں اس کا ذکرنہ کرے'۔

Loading...

اس کے ساتھ ہی سنیل اروڑہ نے کہا کہ انہیں عوامی بحث سے کبھی گریزنہیں رہا، لیکن ہر چیزکا ایک وقت ہوتا ہے۔ اس سے قبل انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات میں وزیراعظم نریندرمودی کو کلین چٹ دیئے جانے پراعتراض ظاہرکرچکے الیکشن کمشنرلواسا نے دعویٰ کیا تھا کہ اقلیتی فیصلوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ میٹنگ میں تبھی شامل ہوں گے، جب کمیشن کے حکم میں اقلیت کے فیصلے کا بھی ذکرہو۔

اعلی سطحی ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق الیکشن کمشنراشوک لواسا نے چیف الیکشن کمشنرسنیل اروڑہ کو خط بھی لکھا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے معاملے میں نااتفاقی/ اقلیتی تبصرہ کو ریکارڈ نہیں کیا جارہا ہے، اس لئے وہ میٹنگ میں شرکت نہ کرنے کے لئے مجبورہوئے۔ حالانکہ الیکشن کمشنراشوک لواسا الیکشن کمیشن کی باقی سبھی میٹنگوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ الیکشن کمشنراشوک لواسا نے الیکشن کمیشن کے اندر(چیف الیکشن کمشنراوردوسرے الیکشن کمشنرکے سامنے) زوردے کرمطالبہ کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی معاملے میں بھی اقلیت کے موقف کی ریکارڈنگ ہو۔

Loading...