ہوم » نیوز » وطن نامہ

نیٹ ورک 18 اورڈیاجیو کی پہل : بچے جو دیکھتے ہیں وہی بنتے ہیں

سفرکے دوران منزل پرجلدی پہنچنے کے بجائے آپ کی پہلی ترجیح محتاط رہ کرآپ کی اور آپ کے خاندان کی حفاظت کو یقینی بناناہے نہ کہ کسی آفات ناگہانی کا شکارہوجائیں

  • Share this:
نیٹ ورک 18 اورڈیاجیو کی پہل : بچے جو دیکھتے ہیں وہی بنتے ہیں
نیٹ ورک 18 اورڈیاجیو کی پہل

ڈرائیونگ کے دوران سفیٹی یعنی سلامتی ایک اہم پہلوہے ۔آپ ہیلمنٹ پہنے بغیراپنے سر کومحفوظ نہیں رکھ سکتے ہیں۔ سفرکے دوران منزل پرجلدی پہنچنے کے بجائے آپ کی پہلی ترجیح محتاط رہ کرآپ کی اور آپ کے خاندان کی حفاظت کو یقینی بناناہے نہ کہ کسی آفات ناگہانی کا شکار ہوجائیں۔ اس لیے حکومت ہند کی جانب سے سڑک سرکشاء جیون رکشاء مہم کو متعارف کیاگیاہے۔


اس کے علاوہ کئی ادارے لوگوں میں محفوظ ڈرائیورنگ سے متعلق شعوربیدار کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔ ایسی ہی ایک پہل نیٹ ورک 18 اور ڈیاجیو نے روڈ ٹو سیفٹی کے نام سے شروع کی ہے۔ روڈ ٹو سیفٹی پروجیکٹ دراصل ’ آپ جو نصیحت کرتے ہیں اس پر عمل بھی کریں‘ کے آئیڈیا پرتیار کیاگیاہے جو کہ بچوں کی سیکھنے کی صلاحیتوں سے متاثرہوکربنایاگیاہے۔


یہ ایک حقیقت ہے کہ بچے اپنے خالی دماغ کی وجہ سے سیکھنے کی زبردست صلاحیتیں رکھتے ہیں اور وہ بڑوں کے مقابلہ جلد ہی سیکھتے ہیں۔ اشتہار میں بچے کی انہی صلاحیتوں کو اجاگرکرتے ہوئے بتایاگیاہے کہ بچے ماں۔ باپ کودیکھ کرہی ٹریفک قوانین پرعمل آوری کرنا سیکھتے ہیں۔ اتناہی نہیں بچوں کے سامنے ٹریفک قوانین پرعمل آوری ان کے دماغ میں گہرا نقش کرنے کے مماثل ہے۔


اشتہارکی شروعات میں ایک ایسے بچے کو دکھایاگیاہے جواپنے والد کی نقل کرتاہے اوروالد کی جانب سے سیٹ بیلٹ استعمال نہ کیے جانے پروہ بھی سیٹ بیلٹ کا استعمال نہیں کرتاہے جس کے بعد ویڈیو میں انگریزی میں تحریری مواد دکھائی دیتاہے جس میں لکھاہے ’بچے جو دیکھتے ہیں وہی بنتے ہیں‘

نیٹ ورک 18 اورڈیاجیو کی پہل
نیٹ ورک 18 اورڈیاجیو کی پہل


دراصل ہمارا بھی پیغام یہی ہے۔ الغرض یہ ہے کہ ہم سب بھی دیکھ کرہی سیکھتے ہیں۔ اشتہارمیں سیکھنے اور سکھانے کے طریقہ کارپرمبنی ہے۔ جو آپ پراورمعاشرے پرمثبت اثرات مرتب کرسکتاہے۔ اشتہارمیں بچے اور والد کے اٹوٹ رشتے کو دکھایا گیاہے۔

علاوہ ازیں، باپ ۔ بیٹے کے اس رشتہ کے دوران کئی لوگ متاثرہوکردانشمندی کا مظاہرہ کرنے کی جانب راغب ہوتےہیں۔ یہ تمام چیزیں ایک ٹریفک سگنل پرہورہی ہیں۔ پھراسکرین پربلیک بیک گراؤنڈ کے ساتھ تحریری مواد دکھائی دیتاہے جس میں لکھاہے ’بچے جو دیکھتے ہیں وہی بنتے ہیں‘۔لیکن اب بھی سوال برقرارہے کہ معصوم بچوں کی حرکتیں دیکھ کر کیا ہرکسی کی سوچ میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے ۔


اس کے علاوہ اس اشتہار میں پیغام کو سب تک پہنچانے کے مقصد سے کلکر کامبینشن کا استعمال کیاگیاہے۔ اس اتشہار کا مقصدہے کہ روڈ سیفٹی قوانین کے متعلق شعوربیدار کیاجا سکے۔

روڈ سیفٹی کا مطلب دراصل ہرانفرادی شخص کی سلامتی کو یقینی بناناہے۔اس کے علاوہ ویڈیو میں بتایاہے کہ شعوری بیداری کے لیے معاشرہ میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ روڈ ٹو سیفٹی پہل کے ذریعہ ڈیاجیو اورنیٹ ورک 18 کی یہ مہم معاشرے میں مثبت اثردکھائے گی۔ نیچے دیئے گئے لنک کوکلک کریں اور عہد کریں کہ آپ ہندوستانی سڑکوں کو محفوظ بنائیں گے۔
https://www.firstpost.com/diageoroadtosafety/
First published: May 27, 2019 12:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading