ہوم » نیوز » وطن نامہ

اروناچل پردیش پرپھرسے چین کی نظر، سرحدی علاقوں سے متصل ہورہی ہے سونےکی تلاش

ڈوکلام تعطل کے بعد ایک بار پھر سے چین کی نظر اروناچل پردیش پر ہے۔ چین نے ارونا چل پردیش کےسرحدی علاقے سے متصل اپنےعلاقے میں بڑے پیمانے پر مائننگ (کانکنی) آپریشن شروع کیا ہے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اروناچل پردیش پرپھرسے چین کی نظر، سرحدی علاقوں سے متصل ہورہی ہے سونےکی تلاش
ڈوکلام تعطل کے بعد ایک بار پھر سے چین کی نظر اروناچل پردیش پر ہے۔ چین نے ارونا چل پردیش کےسرحدی علاقے سے متصل اپنےعلاقے میں بڑے پیمانے پر مائننگ (کانکنی) آپریشن شروع کیا ہے۔

اروناچل پردیش: ڈوکلام  تعطل کے بعد ایک بار پھر سے چین کی نظر اروناچل پردیش پر ہے۔ چین نے ارونا چل پردیش کےسرحدی علاقے سے متصل اپنے علاقے میں بڑے پیمانے پر مائننگ (کانکنی) آپریشن شروع کیا ہے۔ اس علاقے میں سونا، چاندی اور دوسرے قیمتی معدنیات کے بڑے ذخائر پائے گئے ہیں، جس کی قیمت تقریباً 60 ارب ڈالر بتائی جارہی  ہے۔


ہانگ کانگ واقع سائوتھ چین مارننگ پوسٹ کی خبر کے مطابق کانکنی اسکیم ہندوستان کے بارڈر سے متصل چینی علاقے میں پڑنے والے لنجھ کائونٹی میں چلائی جارہی ہے۔دراصل چین اروناچل پردیش کو جنوبی ت بت بتاکر اس پر اپنا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ یاسے میں بارڈر سے متصل اس علاقے میں اس کے پروجیکٹ سے ڈوکلام کے بعد ایک بار پھر دونوں ملکوں میں تنائو پیدا ہوسکتا ہے۔


 


سائوتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی خبر میں کہا گیا ہے کہ اروناچل پردیش کو اپنے قابو میں کرنے کے چین کے اقدامات کے تحت کانکنی کاکام کیا جارہا ہے۔ خبر کے مطابق اسکیم سے واقف لوگوں نے کہا ہے کہ کانکنی کام جنوبی تبت پر پھر سے دعویٰ پیش کرنے کی بیجنگ کی دور اندیش اسکیم کا حصہ ہے۔ اخبار نے مقامی افسران چینی جیولوجسٹ اور اسٹریٹجک ماہرین سے ملی اطلاعات کی بنیاد پر یہ دعوی کیا ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں آئی ہے جب کچھ ہفتے قبل ہی وزیراعظم نریندر مودی نے ووہان شہر میں چین کے صدر جمہوریہ شی جنپنگ سے غیر رسمی ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد ڈوکلام فوجی تعطل کے بعد دونوں ملکوں میں پیدا ہوئے تنائو کو کم کرنا بتایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال ہندوستان اور جین کے درمیان ڈوکلام پر تعطل کو دیکھنے کو ملا تھا، جو تقریباً 73 دنوں تک چلا تھا، لیکن بعد میں چینی فوج کو پیچھے ہٹنا پڑا تھا اور پھر تنازعہ ختم ہوگیا تھا۔ حالانکہ چین کے اس قدم سے تناو ایک بار پھر بڑھ سکتا ہے۔

 

 
First published: May 20, 2018 07:52 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading