உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    India China Tension:مشرقی لداخ میں چین نے تعینات کیے دو درجن جنگی جہاز، ڈریگن کی ہر سرگرمی پر ہندوستان کی گہری نظر

    چین کے جنگی جہاز۔ (فائل فوٹو)

    چین کے جنگی جہاز۔ (فائل فوٹو)

    India China Tension: امریکی فوجی افسر جنرل چارلس اے فلن نے حال ہی میں کہا تھا کہ چین کی جانب سے جاری سرگرمیوں کی سطح تشویشناک ہے۔ انہوں نے ویسٹرن تھیٹر کمانڈ میں چین کی طرف سے تعمیر کیے جانے والے کچھ انفراسٹرکچر کو بھی خطرناک قرار دیا تھا۔

    • Share this:
      India China Tension:نئی دہلی:مشرقی لداخ میں چین مسلسل اپنی طاقت بڑھا رہا ہے۔ ڈریگن نے مشرقی لداخ سیکٹر کے قریب اپنے ہوٹن ایئر بیس پر دو درجن سے زیادہ جنگی جہاز تعینات کیے ہیں۔ یہ اطلاع ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دو روز قبل ایک اعلیٰ امریکی فوجی اہلکار نے مشرقی لداخ کے علاقے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی تشکیل کو تشویشناک اور آنکھیں کھول دینے والا قرار دیا تھا۔

      حکومتی ذرائع کے مطابق چینی فضائیہ نے ہوتان ایئر بیس پر 25 جنگی جہاز تعینات کیے ہیں۔ ان میں J-11 اور J-20 لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل چین نے اس بیس پر مگ 21 کلاس لڑاکا طیارے تعینات کیے تھے۔ جو طیارے اب تعینات کیے گئے ہیں وہ زیادہ جدید اور زیادہ صلاحیت کے حامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ چینی فضائیہ ہندوستانی سرحد کے قریب نئے ہوائی اڈے بھی بنا رہی ہے جس سے وہ بہت قریب سے مشن انجام دے سکے گی۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستانی خفیہ ایجنسیاں چین کی ہر سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہوتان ایئر بیس کے ساتھ ساتھ دیگر فوجی اڈوں پر بھی ان کی نظر ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Amit Shah: امت شاہ کا آج دورہ دیو، ویسٹ زونل کونسل کی میٹنگ میں شرکت اور لیں گے بڑا فیصلہ

      یہ بھی پڑھیں:
      بنگلہ دیش ہائی کمیشن کےپاس فائرنگ، پولیس اہلکار نے خاتون کےقتل کے بعد کی خودکشی

      امریکی فوجی افسر جنرل چارلس اے فلن نے حال ہی میں کہا تھا کہ چین کی جانب سے جاری سرگرمیوں کی سطح تشویشناک ہے۔ انہوں نے ویسٹرن تھیٹر کمانڈ میں چین کی طرف سے تعمیر کیے جانے والے کچھ انفراسٹرکچر کو بھی خطرناک قرار دیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیاں چینی فوج کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ چین کی فضائیہ شمال میں لداخ سے ایل اے سی کے ساتھ شمال مشرق میں اروناچل پردیش تک پھیلی ہوئی ہے۔ ہندوستانی ایجنسیاں ہتان ایئر بیس کے ساتھ ساتھ سنکیانگ اور تبت کے علاقے میں پی ایل اے اے ایف کے گار گونسا، کاشغر، ہوپنگ، ڈکونکا ژونگ، لنزی اور پنگٹ ایئر بیس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: