உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    LAC تنازعہ: لداخ کے پاس چین کے 60,000 سپاہیوں کی تعیناتی، ہندوستان بھی منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار

    انتہائی اونچائی والے مقامات میں زیادہ سردیوں میں چینی فوجیوں کی پہلی تعیناتی کے دوران، وہ لگ بھگ ہر روز اپنے جوانوں کو بدل رہے تھے۔ ایسا اس ئے تھا کیونکہ پچھلے سال اپریل مئی میں شروع ہوئی چینی جارحیت کے بعد وہ ٹھنڈ سے متعلق زخموں سے بہت تکلیف میں تھے۔

    انتہائی اونچائی والے مقامات میں زیادہ سردیوں میں چینی فوجیوں کی پہلی تعیناتی کے دوران، وہ لگ بھگ ہر روز اپنے جوانوں کو بدل رہے تھے۔ ایسا اس ئے تھا کیونکہ پچھلے سال اپریل مئی میں شروع ہوئی چینی جارحیت کے بعد وہ ٹھنڈ سے متعلق زخموں سے بہت تکلیف میں تھے۔

    انتہائی اونچائی والے مقامات میں زیادہ سردیوں میں چینی فوجیوں کی پہلی تعیناتی کے دوران، وہ لگ بھگ ہر روز اپنے جوانوں کو بدل رہے تھے۔ ایسا اس ئے تھا کیونکہ پچھلے سال اپریل مئی میں شروع ہوئی چینی جارحیت کے بعد وہ ٹھنڈ سے متعلق زخموں سے بہت تکلیف میں تھے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مشرقی لداخ میں 20 مہینے سے بھی زیادہ وقت سے جاری فوجی کشیدگی کے درمیان چین نے لداخ (Ladakh) میں ہندوستانی علاقے کے سامنے تقریباً 60 ہزار فوجیوں کو تعینات کیا ہے اور حقیقی کنٹرول لائن (LAC) پر اپنے فوجی کی تیزی سے آنے جانے میں مدد کرنے کے لئے اپنے انفرااسٹرکچر کی تعمیر جاری رکھی ہوئیہ ے۔

      ویسے گرمیوں کے موسم میں چینی فوجیوں کی تعداد کافی بڑھ گئی تھی کیونکہ وہ گرمیوں میں ٹریننگ کے لئے بڑی تعدادمیں فوجیوں کو سرحد پر جمع کرچکا تھا۔ وہ اب اپنے پچھلے مقامات پر واپس چلے گئے ہیں۔ حالانکہ، وہ ابھی بھی لداخ کے مختلف علاقوں میں تقریباً 60,000 سپاہیوں کو تعینات کیے ہوئے ہے۔ سرکاری ذرائع نے نیوا ایجنسی اے این آئی کو یہ اطلاع دی ہے۔

      ’ہندوستان نے بھی بے حد مضبوط قدم اٹھائے ہیں‘
      چین سے خطرے کے اندیشے بنے ہوئے ہیں کیونکہ وہ ایل اے سی کے پار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ دولت بیگ اولڈی علاقے کے سامنے اور پینگونگ جھیل علاقے کے پاس نئی سرکیں بنائی جارہی ہیں۔ ذرائع نے کہا ہے کہ ہندوستان نے بھی چین کی جانب سے کسی بھی ممکنہ غلط ارادے کے خلاف بہت مضبوط قدم اٹھائے ہیں۔

      ’ہندوستان بھی کررہا ہے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر‘
      چین کی کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی کا جواب دینے کے لئے ہندوستانی فوج نے راشٹریہ رائفلس کے انسداد دہشت گردی دستے کو مشرقی مورچے کے لداخ تھیٹر میں تعینات کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کی جانب سے بھی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جاری ہے۔ ذرائع نے کہا ہ کسی بھی کشیدگی والے پوائنٹ پر ضرورت کے وقت فوجیوں کو جمع کرنے کے لئے ہندوستانی فوج سبھی راستوں کو کھلا رکھ رہی ہے۔

      سردیوں میں تعیناتی سے پریشان ہیں چینی سپاہی
      ذرائع نے کہا ہے کہ ہندوستانی فریق صرف ایک یا دو مقامات پر چینی فوجیوں کے ساتھ نظر رکھنے کی حالت میں ہے، کیونکہ زیادہ تر مقامات پر دونوں فوج بفر زون کی جانب سے الگ ہوتی ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے کے فوجیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے بفر زون میں بڑی تعداد میں نگرانی ڈرون بھی تعینات کررہے ہیں۔ ذرائع نے کہا ہے کہ چینیوں کو سردیوں کی تعیناتی بہت پریشان کررہی ہے کیونکہ وہ بہت تیزی سے اگلے مورچوں پر فوجیوں کی تبدیلی کررہی ہے۔

      چین کی یکطرفہ اور اشتعال انگیز کارروائی سے نمٹنے کے لئے پوری تیاری
      انتہائی اونچائی والے مقامات میں زیادہ سردیوں میں چینی فوجیوں کی پہلی تعیناتی کے دوران، وہ لگ بھگ ہر روز اپنے جوانوں کو بدل رہے تھے۔ ایسا اس ئے تھا کیونکہ پچھلے سال اپریل مئی میں شروع ہوئی چینی جارحیت کے بعد وہ ٹھنڈ سے متعلق زخموں سے بہت تکلیف میں تھے۔ وزارت دفاع نے اپنے سال کے آخری جائزے میں کہا تھا کہ ایل اے سی پر ایک سے زیادہ علاقوں مین، اپنی فوج کے ذریعے موجودہ حالات کو بدلنے کے لئے چینیوں کی جانب سے یکطرفہ اور اشتعال دلانے والی کارروائیوں کا مناسب اقدامات کے طو رپر جواب دیا گیا ہے۔

      مشرقی لداخ میں کئی مقامات پر دونوں جانب کے فوجی تعینات
      اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے دونوں ملکوں کی افواج مختلف سطح پر بات چیت میں لگی ہوئی ہیں۔ مسلسل مشترکہ کوششوں کے بعد، کئی مقامات پر افواج پیچھے ہٹالی گئی ہیں، لیکن جن مقامات کو لے کر تنازع جاری ہے اُن علاقوں میں دونوں جانب کے فوجیوں کی تعداد جوں کہ توں بنی ہوئی ہے یا مناسب طور سے اُن میں اضافہ کیا گیا ہے۔ علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کے لئے اور پی ایل اے فورس و فوجی انفرااسٹرکچر کو پورا کرنے کے لئے فوج کے اضافے کو دھیان میں رکھتے ہوئے خطرے کا معائنہ کرنا اور داخلی جائزہ لینے کے لئے فورس کو لگاتار منظم کیا جارہا ہے۔

      ہندوستان نے بچھائے پلوں، سڑکوں، ریلوے لائنوں اور سرنگوں کا جال
      ہندوستانی دعوؤں کی سالمیت کو یقینی بناتے ہوئے فوجی دستے مضبوط اور پرامن طریقے سے چینی فوجیوں سے نمٹتے رہتے ہیں۔ شمالی سرحدوں کے ساتھ انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور ترقی ایک جامع اور جامع انداز میں کی جا رہی ہے، جس میں سڑکیں، ہر موسم کی سرنگیں، چار اسٹریٹجک ریلوے لائنیں، برہم پترا پر اضافی پل،بے حد اہم ہند-چین سرحد کی سڑکوں پر پلوں کو اپ گریڈ کرنا اور ایندھن اور گولہ بارود کا ذخیرہ. دوہری استعمال کے بنیادی ڈھانچے کی نشاندہی کے لیے بھی بڑے پیمانے پر کوششیں کی گئی ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: