உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گلوان تشدد کے دوران برفیلی ندی میں بہہ گئے تھے چین کے 38 فوجی، بتایا تھا صرف 4-رپورٹ

    رپورٹ کے مطابق چین نے اس تصادم کے حقائق سے ہیرا پھیری کے لیے دو مختلف واقعات کو ملایا تھا۔ چین نے گلوان میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد کبھی نہیں بتائی، لیکن گزشتہ سال اس نے جھڑپ میں مارے گئے چار فوجیوں کے لیے تمغوں کا اعلان کیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق چین نے اس تصادم کے حقائق سے ہیرا پھیری کے لیے دو مختلف واقعات کو ملایا تھا۔ چین نے گلوان میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد کبھی نہیں بتائی، لیکن گزشتہ سال اس نے جھڑپ میں مارے گئے چار فوجیوں کے لیے تمغوں کا اعلان کیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق چین نے اس تصادم کے حقائق سے ہیرا پھیری کے لیے دو مختلف واقعات کو ملایا تھا۔ چین نے گلوان میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد کبھی نہیں بتائی، لیکن گزشتہ سال اس نے جھڑپ میں مارے گئے چار فوجیوں کے لیے تمغوں کا اعلان کیا تھا۔

    • Share this:
      بیجنگ/لداخ:جون 2020 میں، مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ (Galwan Valley violence) میں 38 چینی فوجی مارے گئے تھے۔ یہ بات آسٹریلوی اخبار ’دی کلیکسن‘میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ(Investigative Reporting) سے سامنے آئی ہے۔ یہ تعداد چین کی بتائی گئی تعداد سے 9 گنا زیادہ ہے۔ چین نے بین الاقوامی میڈیا میں اپنے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد صرف 4 بتائی تھی۔

      آسٹریلوی اخبار نے یہ رپورٹ ڈیڑھ سال کی تحقیق کے بعد تیار کی ہے۔ اس معاملے کی چھان بین کے لیے آزاد سوشل میڈیا محققین کی ایک ٹیم تشکیل دی گئی جس نے ’Galvan Decoded’ کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔ انتھونی کلان کی زیر قیادت خصوصی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس رات چین کی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے کئی فوجی دریائے گلوان میں بہہ گئے۔ اس تحقیقی رپورٹ نے ڈریگن کے تمام پروپیگنڈے کو بری طرح تہس نہس کر دیا ہے۔

      چین نے کی تھی ہیراپھیری
      رپورٹ کے مطابق چین نے اس تصادم کے حقائق سے ہیرا پھیری کے لیے دو مختلف واقعات کو ملایا تھا۔ چین نے گلوان میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد کبھی نہیں بتائی، لیکن گزشتہ سال اس نے جھڑپ میں مارے گئے چار فوجیوں کے لیے تمغوں کا اعلان کیا تھا۔ محققین نے کہا کہ 15-16 جون کی رات میں، بہت سے PLA فوجی صفر ڈگری درجہ حرارت میں بہنے والی گلوان ندی میں ڈوب کر مر گئے تھے۔

      چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو کے متعدد صارفین کے بلاگز کی بنیاد پر میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس رات 38 چینی فوجی دریا میں بہہ گئے۔ بعد ازاں چینی حکام نے ان تمام سوشل میڈیا پوسٹس کو ہٹا دیا تھا۔ ان 38 افراد میں جونیئر سارجنٹ وانگ ژوران بھی شامل تھے، جنہیں چین نے تمغہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: