உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چینی فوجیوں نے اروناچل پردیش سے کیا 17 سالہ ہندوستانی لڑکے کا اغوا، رکن پارلیمنٹ نے مانگی مدد

    چین نے اروناچل پردیش کے ایک لڑکے کا کیا اغوا۔  (Pic- ANI)

    چین نے اروناچل پردیش کے ایک لڑکے کا کیا اغوا۔ (Pic- ANI)

    رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ واقعہ اس مقام کے پاس پیش آیا، جہاں شیانگ ندی اروناچل پردیش میں ہندوستان میں داخل ہوتی ہے۔ اس سے پہلے گاو نے ٹوئٹ کر کے منگل کو لڑکے کے اغواہ کے بارے میں جانکاری شیئر کی تھی۔

    • Share this:
      نئی دہلی:اروناچل پردیش (Arunachal Pradesh) سے رکن پارلیمنٹ تاپر گاؤ (Tapir Gao) نے بدھ کو کہا ہے کہ چین (Chinese Army) کی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) نے ریاست میں ہندوستانی علاقے کے اندر سیانگ ضلع سے 17 سالہ ایک لڑکے کو اغوا کرلیا ہے۔ گاو نے کہا کہ اغوا کنندہ لڑکے کی پہچان میرام ترون کے طور پر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی فوج نے سیونگلا علاقے کے لونگتا جور علاقے سے لڑکے کو کڈنیپ کرلیا۔ اس سے پہلے بھی چینی فوجیوں کی جانب سے اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں دراندازی کی خبریں آئی تھیں۔


      رکن پارلیمنٹ لوور سوبنسری ضلع کے ضلع ہیڈکوارٹر زیرو سے فون پر پی ٹی آئی سے کہا کہ پی ایل اے سے بچ کر بھاگنے میں کامیاب رہے ترون کے دوست جانی یائینگ نے مقامی عہدیداروں کو کڈنیپ کے بارے میں جانکاری دی۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں لڑکے زیڈو گاوں کے رہنے والے ہیں۔


      رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ واقعہ اس مقام کے پاس پیش آیا، جہاں شیانگ ندی اروناچل پردیش میں ہندوستان میں داخل ہوتی ہے۔ اس سے پہلے گاو نے ٹوئٹ کر کے منگل کو لڑکے کے اغواہ کے بارے میں جانکاری شیئر کی تھی۔

      انہوں نے ٹوئٹ کے ساتھ اغوا کیے گئے لڑکے کی تصویر شیئر کی اور کہا، ’حکومت ہند کی سبھی ایجنسیوں سے لڑکے کی جلد رہائی یقینی بنانے کی اپیل ہے۔‘ گاو نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اس واقعے کے بارے میں مرکزی مملکتی وزیر داخلہ نیشیتھ پرمانک کو اطلاع دی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: