உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    India China: آج ہوگی چینی وزیرخارجہ وانگ ای اور جئے شنکر کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات کی گاڑی پٹری پر لانے کی ہوگی کوشش

    غیر سرکاری طور پر بعض عہدیداروں نے یہ بھی کہا ہے کہ لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجیوں کی واپسی کے حوالے سے کوئی معاہدہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی سال 2017 میں ڈوکلام (بھوٹان-بھارت-چین سرحد پر واقع) میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔

    غیر سرکاری طور پر بعض عہدیداروں نے یہ بھی کہا ہے کہ لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجیوں کی واپسی کے حوالے سے کوئی معاہدہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی سال 2017 میں ڈوکلام (بھوٹان-بھارت-چین سرحد پر واقع) میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔

    غیر سرکاری طور پر بعض عہدیداروں نے یہ بھی کہا ہے کہ لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجیوں کی واپسی کے حوالے سے کوئی معاہدہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی سال 2017 میں ڈوکلام (بھوٹان-بھارت-چین سرحد پر واقع) میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: چینی وزیر خارجہ وانگ یی جمعرات کی رات 8.30 بجے دہلی پہنچے۔ جمعہ کی صبح گیارہ بجے وانگ ای وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر سے ملاقات کریں گے۔ پاکستان اور افغانستان کے دورے کے بعد ہندوستان پہنچنے والے وانگ یی کی قومی سلامتی کے مشیر (NSA) اجیت ڈوول سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔ مئی 2020 میں ہندوستان کے مشرقی لداخ کے علاقے میں چینی فوجیوں کی دراندازی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بگاڑ کے پیش نظر وانگ یی کا دورہ اہمیت کا حامل ہے۔

      وزیراعظم مودی سے ملاقات کا مانگا وقت
      چین کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی سے وانگ کی ملاقات کے لیے بھی وقت مانگا گیا ہے۔ وانگ کے دورے کا سب سے قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ جب تک ان کا طیارہ پالم ہوائی اڈے پر پہنچا، ہندوستانی یا چین کی طرف سے سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔ طیارے کی آمد کے ایک گھنٹے بعد وزارت خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات جمعہ کو گیارہ بجے طے کی گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      چینی وزیر خارجہ کو ہندوستان کا تلخ جواب، پاکستان میں OIC اجلاس میں کشمیر پر دیا تھا بیان

      کشمیر پر کیا تھا سخت ریمارک
      اس دورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گلوان وادی میں چین کی دراندازی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کوئی سرکاری سفارتی دورہ نہیں ہوا۔ تاہم، وانگ یی اور جے شنکر کے درمیان ایک ملاقات روس میں ہوئی اور ان کے درمیان تین ٹیلی فونک بات چیت ہوئی تھی۔ وانگ یی ہندوستان آنے سے پہلے پاکستان میں تھے جہاں انہوں نے اسلامی ممالک کی تنظیم (OIC) کے اجلاس میں کشمیر پر ریمارکس دیئے جس پر ہندوستان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      EXPLAINED: تباہ ہونے والے چینی طیارے کے بلیک باکسز کو کیسے کیا جائے گا ہینڈل ؟

      فوجیوں کی واپسی کو لے کر ہوسکتا ہے اتفاق
      غیر سرکاری طور پر بعض عہدیداروں نے یہ بھی کہا ہے کہ لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجیوں کی واپسی کے حوالے سے کوئی معاہدہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی سال 2017 میں ڈوکلام (بھوٹان-بھارت-چین سرحد پر واقع) میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، پھر اپریل 2018 میں وزیر اعظم مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان غیر رسمی ملاقات کے بعد رشتوں میں کافی تبدیلیاں آ چکی تھیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: