ہوم » نیوز » عالمی منظر

چینی میڈیا کی وارننگ، امریکہ کے اکساوے میں آکر خوش فہمی میں نہ مبتلا ہو ہندوستان

چینی حکومت کا اہم ترجمان کہے جانے والے ’گلوبل ٹائمس’ نے لکھا کہ ہندوستان کو یہ خدشہ ہوگیا ہے کہ چین کے خلاف اسے اسٹریٹجک سبقت حاصل ہے۔ ہندوستان میں کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ چین سرحدی تنازعہ پر پیچھے ہٹ سکتا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 06, 2020 01:24 PM IST
  • Share this:
چینی میڈیا کی وارننگ، امریکہ کے اکساوے میں آکر خوش فہمی میں نہ مبتلا ہو ہندوستان
امریکہ کے اکساوے میں آکر اسٹریٹجک سبقت کا خوف نہ پالے ہندوستان: چینی میڈیا

نئی دہلی: ہندوستان اور چین کے درمیان لداخ سرحد (Ladakh Border Dispute) پر کشیدگی جیسے ہی کم ہوتی نظر آئے، ویسے ہی چینی پینترے بازی پھر سامنے آگئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس تنازعہ کو حل کرنے کے لئے ہفتہ کو فوج کے لیفٹیننٹ جنرل رینک کے افسران کی میٹنگ ہونی ہے۔ اس میٹنگ سے ٹھیک قبل چینی میڈیا (Chinese Media) نے ہندوستان پر مشورہ کے انداز میں دباو بنانے کی کوشش کی ہے۔ چینی حکومت کا اہم ترجمان کہے جانے والے ’گلوبل ٹائمس’ (Global Times) نے لکھا کہ ہندوستان کو یہ خوف ہوگیا ہے کہ چین کے خلاف اسے اسٹریٹجک سبقت حاصل ہے۔ ہندوستان میں کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ چین سرحدی تنازعہ پر پیچھے ہٹ سکتا ہے۔


ہندوستان اور چین کے درمیان لداخ سرحد پر گزشتہ کئی دنوں سے تنازعہ بڑھ گیا ہے۔ دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے ہیں۔ پہلے وہاں پر بڑی تعداد میں چینی فوجی جمع ہوگئے تھے۔ اس کے جواب میں ہندوستان نے بھی اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ہندوستان کی انتقامی کارروائی کے بعد چینی فوج دو کلو میٹر پیچھے ہٹی ہے۔ اب ہفتہ کو دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے پر بات ہوگی۔


ہندوستان اور چین کے درمیان لداخ سرحد پر گزشتہ کئی دنوں سے تنازعہ بڑھ گیا ہے۔
ہندوستان اور چین کے درمیان لداخ سرحد پر گزشتہ کئی دنوں سے تنازعہ بڑھ گیا ہے۔


گلوبل ٹائمس نے اس بات چیت سے پہلے لکھا کہ ہندوستان میں چین کے تئیں مخالفت کی سوچ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے ملک کی پالیسی بنانے والوں پر بھی دباو پڑ رہا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ 2018 میں چینی اور ہندوستانی لیڈروں نے غیر رسمی سربراہی میٹنگ کی تھی اور اتفاق پر پہنچ گئے تھے۔ گزشتہ سالوں میں دونوں ممالک کے افسران کے درمیان کے درمیان مسلسل رابطہ بنا رہا ہے۔ ہندوستانی لیڈروں نے تب تک صبر کے ساتھ بات کی تھی۔

گلوبل ٹائمس نے دھمکی آمیز انداز میں امریکہ سے دوری بنانے کا مشورہ بھی دے ڈالی۔ اس نے کہا کہ ہندوستان کو امریکہ یا کسی اور کے اکساوے مین نہیں آنا چاہے۔ یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ اصلی کنٹرول لائن (LAC) کے پاس گالوان وادی علاقے میں ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے سبب جدوجہد ہوا تھا۔ اس میں دونوں طرف کے فوجی زخمی ہوگئے تھے۔ ہندوستان کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ بھی مان چکے ہیں کہ ایل اے سی پر دونوں ممالک کی رائے الگ الگ ہے۔ اس سے واضح ہے کہ چین - ہندوستان سرحد اور ایل اے سی ابھی واضح ہیں۔

 ہندوستان اور چین کے درمیان لداخ سرحد پر گزشتہ کئی دنوں سے تنازعہ بڑھ گیا ہے۔ علامتی تصویر

ہندوستان اور چین کے درمیان لداخ سرحد پر گزشتہ کئی دنوں سے تنازعہ بڑھ گیا ہے۔ علامتی تصویر


گلوبل ٹائمس نے ہندوستانی میڈیا پر بھی نشانہ سادھا۔ اس نے لکھا کہ کچھ ہندوستانی میڈیا ادارے چین کے تئیں جارحانہ الفاظکا استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے تنازعہ سلجھے گا نہیں۔ الٹے یہ تنازعہ بھڑکانے والا ہے۔ ہندوستان کو اکساوے میں نہیں آنا چاہئے۔ گلوبل ٹائمس نے امریکہ کو بھی نہیں چھوڑا۔ اس نے لکھا کہ امریکہ بغیر بلائے ہی ہندوستان اور چین کے سرحدی تنازعہ میں مداخلت کنا چاہتا ہے۔ جبکہ، چین اورہندوستان جدوجدہ نہیں بڑھانا چاہتے ہیں۔ امریکہ اس مسئلے پر اپنا فائدہ دیکھ رہا ہے۔ وہ چین پر اسٹریٹجک دباؤ کے لئے ہندوستان کی حمایت کر رہا ہے۔

 
First published: Jun 05, 2020 11:13 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading