ہوم » نیوز » عالمی منظر

اروناچل پردیش سے متصل چینی علاقوں میں نظر آئی پی ایل اے کی سرگرمیاں، ہندوستانی فوج مستعد

INDIA-CHINA STANDOFF: مشرقی لداخ کی پینگونگ لیک کے جنوبی علاقے میں پی ایل اے کی دراندازی کی کوشش کو ہندوستانی سیکورٹی اہلکار ناکام کرچکے ہیں۔ اس کے بعد اب چین کی سرگرمیاں اروناچل کی طرف بڑھ گئی ہیں۔

  • Share this:
اروناچل پردیش سے متصل چینی علاقوں میں نظر آئی پی ایل اے کی سرگرمیاں، ہندوستانی فوج مستعد
اروناچل پردیش سے متصل چینی علاقوں میں نظر آئی پی ایل اے کی سرگرمیاں، ہندوستانی فوج مستعد

نئی دہلی: اروناچل پردیش (Arunachal Pradesh) سے متصل چینی علاقوں میں پیپلز لبریشن آرمی (People's Liberation Army) کی سرگرمیوں نوٹس کی گئی ہیں۔ اس کے بعد ہندوستانی فوج (Indian Army) نے بھی پوری مستعدی کے ساتھ اپنی پوزیشن لے لی ہے۔ واضح رہے کہ مشرقی لداخ (Eastern Ladakh) کی پینگونگ لیک کے جنوبی علاقے میں پی ایل اے کی دراندازی کی کوشش کو ہندوستانی سیکورٹی اہلکار ناکام کرچکے ہیں۔ اس کے بعد اب چین کی سرگرمیاں اروناچل کی طرف بڑھ گئی ہیں۔

 ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیاں چینی فوج کی سرگرمیوں پر سخت نگاہ رکھ رہی ہیں۔ نیوز ایجنسی اے این آئی نے ایک سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ چین سے متصل سرحد پر لداخ سے لے کر اروناچل پردیش تک سخت نگاہ رکھی جارہی ہے۔ چین کو پینگونگ لیک کے پاس زبردست جھٹکا لگ چکا ہے۔ اب وہ انکروچمنٹ کی نئی کوشش کر رہا ہے۔

اس سے پہلے خبریں آئی تھیں کہ چین کے ساتھ بڑھتے تنازعہ کے درمیان ہندوستان اب اپنی مشرقی سرحد پر سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھا رہا ہے۔ 15 جون کو ہندوستان اور چین کی افواج کے درمیان لداخ میں کئی دہائیوں کی سب سے پُرتشدد جھڑپ ہوئی تھی۔ اس کے بعد ہی دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ حالات زیادہ بڑھ گئے۔ ہندوستان نے سرحدوں کی خودمختاری کے لئے سخت رویہ اختیار کیا ہے اور چین کو واضح الفاظ میں پیغام دیا ہے۔

فوجیوں کی بڑھائی گئی تعداد

اروناچل پردیش میں سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھائے جانے کے پیش نظر یہ مانا جارہا ہے کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ ابھی طویل کھنچ سکتا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اروناچل پردیش کے ایک افسر نے بتایا تھا کہ گلوان وادی کے حادثہ کے بعد سے ہی ہندوستان کی طرف سے احتیاطاً سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھائی جانے لگی تھی۔



وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے مشرقی لداخ میں ایل اے سی کے پاس ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان جاری رسہ کشی کو لے کر منگل کو لوک سبھا میں بیان دیا۔ فائل فوٹو
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے مشرقی لداخ میں ایل اے سی کے پاس ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان جاری رسہ کشی کو لے کر منگل کو لوک سبھا میں بیان دیا۔ فائل فوٹو



راجناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں کہی یہ بات

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے مشرقی لداخ میں ایل اے سی کے پاس ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان جاری رسہ کشی کو لے کر منگل کو لوک سبھا میں بیان دیا۔ اس بیان میں وزیر دفاع نے ایوان کو سرحد پر موجودہ حالات سے واقف کرایا اورکہا کہ ہندوستان کے فوجیوں پر اس ملک کو پورا بھروسہ ہے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہم سرحد پرحالات سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ راجناتھ سنگھ نےکہا کہ ہم نے چین کو سفارتی اور فوجی چینلوں کے توسط سے آگاہ کرادیا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں، جوں کی توں صورتحال کو یکطرفہ طور پر بدلنے کی کوشش کی ہے اور یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ ایسی کوششیں ہمیں کسی بھی صورت میں منظور نہیں ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں لداخ کا دورہ کرکے ہمارے بہادر جوانوں سے ملاقات کی تھی اور انہیں یہ پیغام بھی دیا تھا کہ پورا ملک اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ میں نے بھی لداخ جاکر اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کچھ وقت گزارا اور میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے ان کے جذبے اور بہادری کو محسوس کیا۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 15, 2020 07:23 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading